براعظم افریقہ میں مسلمان گھرانے کا لڑکا بہت بڑا عیسائ پادری بن گیا
*حقیقت پر مبنی ایک بہت اہم تحریر*
یہ بات آج سے تقریبا 70 سال پہلے کی ہے ایک لڑکا اسکول کی تعلیم حاصل کرنے کیلئے اپنے گھر سے 120 کلومیٹر گیا اور اسکول انتظامیہ نے اسے 1961 میں عیسائ بنادیا۔
یہ لڑکا بہت بڑا پادری بن گیا۔ 2013 میں پادریوں کا سردار بن گیا۔
بلکہ pallotine priest یہ وہ مخصوص پادری ہوتے ہیں جو وعدہ کرتے ہیں کہ زندگی بھر غربت میں گزاریں گے اور شادی نہیں کرینگے محض خلق خدا کی خدمت کریں گے اور خدا کی باتیں لوگوں تک پہنچائیں گے۔۔
تصویر میں جو شخص درمیان میں کھڑا ہے وہ یہی پادری ہے اور اس کی دونوں طرف مسلمان والدین ہیں۔۔دو دن قبل اخبار میں تصویر وائرل ہوئ اور سارا ماضی ایسے معلوم ہوا کہ پادری کے والد کو گاؤں کا بڑا بنایا گیا ۔ اس اعزازی تقریب میں اس نے شرکت کی ۔
خبر کا لنک نیچے شئیر کررہا ہوں۔
براعظم افریقہ میں یہ مربوط پلاننگ تقریبا تین صدیوں سے جاری ہے۔ لاکھوں لاکھ لوگوں مرتد بنائے گئے بنائے جارہے ہیں کیونکہ ہمارے پاس ترجیحات کا تعین نہیں، مربوط پلاننگ نہیں۔
کئ ایسے ممالک ہیں جہاں آج تک کوئی ایشیا کے عالم یا بڑے علماء پہنچے ہی نہیں۔
ایشیا سے سفر کرنے والے جن علماء کا سفر رہا ، ان میں سے اکثر کو ایشین کمیونٹی تک ہی محدود رکھا گیا۔
کچھ ایشیائ اور مقامی مخلصین نے کام بھی کئے مگر سامنے کوہ ہمالہ ہے اور بہترین حکمت عملی کے ساتھ جب تک بڑے جامعات کے ساتھ اسلامی اسکول کالجوں، یونیورسٹیوں کا قیام نہیں ہوگا۔۔معاملہ بتدریج تباہی اور ارتداد کی طرف جائے گا۔
تحریر پڑھنے والا جو سمجھدار ہے ذرا تحقیق کرلے افریقہ کے 54 ممالک میں کہاں کہاں ہم پہنچے۔۔جہاں پہنچے تو کہاں تک محدود رہے ایسا کہئے ایک محل کے 54 کمرے اور ہم پارکنگ اور reception سے ہی واپس چلے گئے۔ اخلاص کے ساتھ یا تحائف کے ساتھ۔۔جس کی جیسی رغبت۔
ہم اپنے ایک آشیانہ سے خوش ہوجاتے ہیں جب کہ دشمن اسی وقت میں سو ادارے بن کر ہمارے ایک کی تباہی کا سوچ رہا ہوتا ہے۔ ہماری نظریں آج اور وقتی فوائد کو دیکھ رہی ہیں جب کہ دشمن سو سال پہلے کا سوچ رکھتے ہیں۔۔فی الوقت ملاوی افریقہ میں 2063 کی پلاننگ جو کافی عرصہ پہلے ہوچکی اس پر کام کیا جارہا ہے
للہ للہ للہ ، آسٹریلیا یورپ امریکہ برطانیہ کینیڈا کے علاوہ بھی کروڑوں مسلمان آج بھی سچے مخلصین آپ کا کا انتظار کررہے ہیں۔۔۔۔
یہ پیغام کسی ایک فرد کو نہیں بلکہ سینکڑوں افراد تک بھیجا گیا ہے اس کو ایک مسکین یا دیوانے کی آواز نہ سمجھیں بلکہ اپنے تئیں حالات کے تناظر میں ایک مذہبی فریضہ سمجھ کر آپ تک پہنچادیا۔
اللہ کریم یوم حساب میں آسانی فرمائے اور دین کا غلبہ کرنے والے مجاہدین میں ہمیں شامل فرمالے۔
آپ کا مخلص اور ہمدرد
ادنی خادم
عبدالرحمن قادری
دارالافتاء غریب نواز
لمبی جامع مسجد ملاوی وسطی افریقہ،
پرنسپل قرآن اکیڈمی و بانی غریب نواز فاونڈیشن

