مخصوص نعت خوانوں کی جائدادیں ، کاروبار اور دولتوں کے انبار
اور قابل جید علماء، مدرسین، شیوخ الحدیث، مفتیان کرام اور مساجد کے ائمہ کرام کی مسلسل تنگدستی اور فاقہ کشی
حقیقت پر مبنی دردمندانہ 😭تجزیہ
اس زمانے میں فائیو اسٹار نعت خواں اگر قسمت سے امریکہ 🇺🇸 یا برطانیہ 🇬🇧 کے دو ہفتے کا دورہ کرلے تو بلامبالغہ اس کے دو ہفتے کی کمائی ایک شیخ الحدیث کے 25 سال کے وظیفوں سے زیادہ بنتی ہے ۔۔۔۔۔۔
دوسری طرف مدرسین اور مساجد کا جو ابتر حال ہماری قوم نے کیا اس کا نتیجہ یہ نکلا :
⭕ اکثر موجودہ ائمہ کرام اپنی اولاد کو کل وقتی امام بنانے کے لئے راضی نہیں۔ ایک بہت بڑے عالم نے مجھے کہا ۔۔ہم امام بن گئے بہت ہے۔۔ہماری اولاد نہ بنے گی نہ ہم بنائیں گے۔
⭕امام مسجد یا مدرسین کے یہاں بچے کی ولادت ظاہر ہے خوشی ہے مگر زچگی کے معاملات آپریشن سے ہوئے۔۔ان غریبوں کے پاس ڈیلیوری کے پیسے بھی دستیاب نہیں ہوتے۔۔۔”آپ کی بھابھی کی ڈیلیوری ہے اگر کچھ رقم مل جائے تو بڑی مہربانی ہوگی”۔۔۔!! “ڈیلیوری کے پیسے ہوتے نہیں اور بچے پیدا کرتے ہیں۔۔!!”۔۔ استغفراللہ
⭕امام صاحب، شیخ الحدیث، علماء تیار کرنے والے مدرس کی بچی خیر سے جوان ہوئ۔۔۔تو 90% سے زائد کے پاس جہیز کی گنجائش نہیں۔
⭕شہروں کے کافی امام ابھی بھی سائیکل پر ہیں۔۔بیس سال سے درس نظامی پڑھانے والے آج تک گاڑی نہ لے سکے ۔۔۔۔رکشوں اور بسوں میں فیملی کے ساتھ دھکے کھا رہے ہیں۔
⭕اس زمانے میں بھی 80% مساجد کے امام اور درس نظامی کے مدرسین کی تنخواہ بس کنڈیکٹر، ڈرائیور، چوکیدار، سیکورٹی گارڈ سے کم ہے۔
⭕یہ وہ مزدور طبقہ ہے جو تلاوت میں یا تدریس کرتے ہوئے وجد میں بھی آجائے۔۔۔کچھ نچھاور ہونے والا نہیں۔
⭕اس مہنگائی کے دور میں سینکڑوں امام کی پوزیشن ہے کہ اپنے لئے قبر اور تدفین کے پیسے بھی نہیں۔
⭕25 سے 30 سال امامت اور تدریس کرنے والے ۔۔سینکڑوں علماء اپنے گھر نہیں بناسکے۔۔۔کرایہ کے مکان میں یا مسجد اور مدرسے کے مکان میں رہتے ہیں۔۔۔جبکہ نعت خواں صاحبان کراچی بحریہ ٹاؤن، دبئی اور نہ جانے کہاں کہاں پراپرٹی بناتے جارہے ہیں۔۔۔
⭕اکثر مساجد کی کمیٹی اور کچھ مدارس جاہلوں کی نگرانی میں ہیں۔۔۔ایک قابل شیخ الحدیث نے درد دل بتایا کہ میرا اور پہلے درجے کا استاد کا ایک ہی وظیفہ ہے۔
⭕اسی لئے اب ہوا کہ کسی عالم خاص کر کسی پیر کا بیٹا آپ کو مسستقل امام خاص کر فجر کی امامت کرنے والا، یا کہنہ مشق مدرس نہیں ملے گا۔
⭕ایک عرصہ تک قابل مفتی اور مدرسین اپنا قیمتی وقت گورنمنٹ پرائمری اسکولوں میں صرف کرتے رہے اور کررہے ہیں۔
⭕بڑے معروف متقی صوفی پیروں اور علماء نے کہا اللہ معاف کرے ہمارا بیٹا نہ حافظ بنے گا نہ قاری۔۔پہلے یہ اسکول، کالج ، یونیورسٹی کرلے پھر دیکھیں گے وقت ہوا تو عالم بن جائے گا !!!!!
مساجد کے امام، مدرسین teachers, preachers یہ قوم کا سرمایہ ہیں۔۔۔۔اپنے طور پر کچھ لوگ محنت کرکے اب اسکول کالج یونیورسٹی میں لگ گئے ہیں، کچھ حج اور عمرے و زیارات گروپ میں کمارہے ہیں ، کچھ کاروبار میں۔۔۔۔
لیکن سال کے گیارہ ماہ ایک شیخ الحدیث، مفتی ، مسجد کا امام و خطیب وہ مجاہد ہے جو اپنے مشن پر گامزن ہے اور غربت کی چکی پیس رہا ہے۔ نہ اس کے انکریمنٹ ہے ، نہ بونس ۔۔۔۔مہنگائی جتنی بڑھ جائے غریب قاضی اور نکاح خواں کو وہی پیسے ملیں گے الا یہ کہ وہ بھی نماز میں اعلان کردے۔۔
اگلے ماہ سے نکاح فیس میں دو ہزار اضافہ ہو کر 11000 ہوگئی ہے۔۔۔
لیکن یہ بات طے ہے اب کسی کا مقصد aim امام ، مفتی ، شیخ الحدیث ، مصنف بطور پیشہ profession اختیار کرنا نہیں۔
مکتبہ ویران ہیں۔۔۔کچھ بڑے دینی مراکز بند ہوگئے۔۔۔۔کچھ بیکریوں اور کارخانے بن گئے۔
کتابوں کو دیمک لگ گئ۔۔۔نعت خواں کا امریکہ کا بزنس کلاس کا ٹکٹ ہوسکتا ہے مگر دینی کتاب نہیں چھپ سکتی ۔۔۔کچھ بڑے مصنفین قرضوں میں ڈوب گئے۔۔۔۔۔کچھ عالموں نے پھر عملیات کا سہارا لے لیا۔۔۔جو سیدھے ہیں انھوں نے ٹوکن سسٹم رکھ دیا کہ فی ٹوکن پچاس روپے ۔۔۔۔کیونکہ یہ قوم ایسی ظالم ہےکہ نعت خواں کی جیب بھرے گی مگر عالم، امام، مدرس کو طائف کا میدان یاد دلائے گی۔۔
آج بھی کراچی سے خیبر تک سینکڑوں مساجد ایسی ہیں کہ شب قدر میں لاوڈ اسپیکر میں اعلان ہوتا ہے کہ امام صاحب ، خطیب صاحب کے لئے جھولی پھیلائی جاتی ہے اور نمازی حضرات جھولیاں بھرتے ہیں۔۔پھر کمیٹی والے گن کر وہ رقم بورڈ پر لکھتے ہیں کہ امام صاحب کو 15,645 روپے دئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔
نعت خوانوں کے ~دلالوں~ کنٹریکٹروں خدارا انصاف کرو۔۔۔۔حلیم کی دوکان لگانے والے/ گویے/ جاہل/ غریب۔۔۔ کروڑوں کی جائدادوں کے مالک ہوگئے۔۔۔اور ایک نہیں سینکڑوں مضبوط عالم مدرس مفتی شیخ الحدیث جب دنیا سے رخصت ہوئے تو ہسپتال کے خرچے ، بائ پاس، ڈایلیسز، وغیرہ زکوۃ اور فطرانہ سے پورے ہوئے اور ہورہے ہیں۔۔۔۔۔۔!!!
تحریر سے اختلاف وہی کرے گا جو خود یا اس کی اولاد پنج وقت امام یا مستقل مدرسہ اور مسجد کی خدمت میں نہیں۔۔۔اور تلخ حقیقت سے اب تک خواب غفلت میں ہے۔
نوٹ خوانوں کو برا لگا ہوگا تو دست بستہ عرض ہے کہ اعلحضرت آپ کی ہماری جان ہیں۔۔آپ کی ہماری پہچان ہیں۔۔۔۔اگر واقعی ایسا ہے تو امام احمد رضا کا دس نکاتی ایجنڈا آپ سے کیا تقاضا کرتا ہے۔۔
رضا کے تین حروف کی نسبت سے اپنی زندگی میں تین جامعات اور یونیورسٹی ہی بنادو ۔۔
🙏 امریکہ اور برطانیہ کے میزبانوں سے گذارش ہے کہ آپ نے اس ربیع الاول میں کمال ہی کردیا اس مرتبہ کم از کم بیس نعت خواں مرد اور کچھ نعت خواں عورتوں پر پانچ کروڑ پاکستانی روپے سے زائد خرچ کیا اور کرنے جارہے ہیں۔۔۔وہ وقت کب آئے گا جب آپ کے یہاں آپ کے قائم کردہ اداروں سے تیار ہونے والے امریکی برطانوی انگریزی بولنے والے علماء آسٹریلیا۔ چین، جاپان، کوریا، سوڈان، مراکش، شام، اور دیگر ممالک میں سفر کرکے دین کی تبلیغ کے لئے وہاں مستقل سکونت اختیار کریں۔!!!!
اس گھر کو آگ لگ گئ گھر کے چراغ سے
تیرا ہمدرد اور مخلص
عبدالرحمن قادری
ملاوی

