Articles

امیر المجاہدین حضرت علامہ خادم حسین رضوی علیہ الرحمہ

بسم الله الرحمن الرحیم

اللھم صل علی سیدنا محمد خاتم النبیین

عشق، علم اور عمل کا حسین گلدستہ

عالم جلیل، فنا فی الرسول، محافظ عقیدہ ختم نبوت

امیر المجاہدین حضرت علامہ خادم حسین رضوی علیہ الرحمہ

اے عشق تیرے صدقے جلنے سے چھٹے سستے

جو آگ بجھادے گی وہ آگ لگائ ہے

ہر زمانے میں ایسے مردان قلندر وارد ہوئے ہیں۔۔۔جن کے وجود مسعود نے گلشنِ اسلام کی آبیاری کی۔۔۔ایوان باطل میں لرزہ طاری کردیا۔۔۔۔اور چار دانگ عالم میں عشق مصطفوی کے چراغ روشن کئے۔۔۔

دور حاضر میں ایسا یکتائے روزگار، عقیدہ ختم نبوت کا سپہ سالار جس کا ہم نے مشاہدہ کیا وہ حضرت علامہ خادم حسین رضوی علیہ الرحمہ تھے۔۔۔

میدان علم کا دھنی اور شہسوار ۔۔۔ایسا ماہر کے علمائے کبار و مشائخ عظام آپ کو امام الصرف مانتے ۔۔۔آپ کی کتاب تعلیلات خادمیہ اس کا بین ثبوت ہے۔۔۔۔محدث ایسے کہ کئ سال مسند حدیث پر فائز رہے، محدث اعظم پاکستان علامہ سردار احمد خان صاحب علیہ الرحمہ کے دور کی یاد تازہ کردی۔۔سینکڑوں احادیث کے حافظ۔۔۔عربی متن کے ساتھ کئ احادیث تقاریر میں فی البدیہہ پڑھتے۔۔۔مفتی تھے تو فقہ میں ایسی مہارت کہ فتاوی رضویہ شریف کا بالاستیعاب مطالعہ کیا۔۔۔اس کے شروع میں تحقیقی مقدمہ و مقالہ لکھا۔۔۔عربی ادب پر ایسے ماہر کے یوں محسوس ہو کہ لسان العرب اور قاموس حفظ ہو۔۔ہر لفظ کے کئ معانی اور مفاهیم مثالوں کے ساتھ سمجھاتے۔۔۔اپنے زمانے کے سعدی و جامی تھے۔۔۔فارسی اور عربی اشعار پر گہری دسترس رکھتے ۔۔خصوصا روزانہ سبق سے پہلے قصیدہ بردہ شریف کے ایک شعر کی تشریح کرتے۔۔۔ کوئ تقریر قلندر لاہور ڈاکٹر اقبال اور امام عشق ومحبت کے اشعار کے بغیر مکمل نہ کرتے۔۔۔تاریخ اسلام خاص کر دور خلافت، سیرت اور غزوات پر ایسا عبور تھا کہ سننے والا یوں محسوس کرے کہ یہ اپنا عینی مشاہدہ بیان کر رہے ہیں۔۔۔جبل علم مفتی عبدالقیوم ہزاروی علیہ الرحمہ کے شاگرد خاص۔۔۔پاکستان کی سب سے بڑی دینی درسگاہ جامعہ نظامیہ رضویہ کے سینئر استاد۔۔۔اور ہزاروں کی تعداد میں فضلاء و علماء کے استاذ تھے۔۔۔

عمل ایسا کہ زہد و تقویٰ کا مرصع و پیکر۔۔۔فقر شبیری آپ کے گھر و زندگی میں عیاں۔۔۔لاکھوں کا رہبر مگر مسجد ہی کے گھر میں رہائش ۔۔۔جب جنازہ اٹھا۔۔۔تو گھر کے دروازے تک ٹوٹے ہوئے تھے۔۔۔ اپنی دینی خدمات میں کوئ تصنع روا نہ رکھا۔۔۔اپنا تعارف یوں کرواتے : “میں کتا۔۔پاک رسول اللہ دا” میں رسول پاک صلی الله عليه وسلم کا کتا ہوں ۔۔کوئ خنزیز ناموس رسالت کے گلشن پر حملہ کرے گا تو میں بھونکوں گا شور مچاؤں کا۔۔۔عملیات و وظائف کے بہت شوقین تھے۔۔۔رات کو سونے سے قبل تسبیح فاطمہ اور سورہ محمد آپ کے اوراد میں شامل تھا۔۔۔شب بیدار شخصیت تھے۔۔۔فراق رسول صلی الله عليه وسلم میں رات بھر اشک بہایا کرتے۔۔۔جب فرانسیسی صدر ملعون نے سرکار مدینہ صاحب حسن و جمال صلی الله عليه وسلم کے خاکے بنوانے کا سر عام اعلان کیا۔۔۔اس وقت سے رنجیدہ تھے۔۔۔کہ جب سرکار صلی الله عليه وسلم کی گستاخی ہو۔۔۔۔اور امت خاموش رہے۔۔۔ان کو مر جانا چاہئے ۔۔۔جینے کا حق نہیں ۔۔۔آپ کا عمل کیا تھا۔۔۔وہ خود اقبال کے شعر میں سمجھاتے :

جس کا عمل بے غرض

اس کی جزا کچھ اور ہے

آپ عاشقِ صادق تھے۔۔۔امام بوصیری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ عاشق تیرا عشق چھپ نہیں سکتا تیرا زرد چہرہ، پر نم آنکھیں، آہ و بکا سب تیرے عشق کو ظاہر و باہر کر رہا ہے۔۔۔آپ کی تقریر ہر سو عشق کی خوشبو بکھیر دیتی۔۔۔جس نے ایک تقریر بھی سن لی۔۔۔اس نے اپنے سینے میں جو گرمی محسوس کی وہ بلاشبہ یوں بیان کی جاسکتی ہے :

کباب آہو میں بھی نہ پایا۔۔۔مزا جو دل کے کباب میں ہے۔۔۔

آپ کی تقریر تقریر نہیں بلکہ شعلہ بیانی اور عاشقانہ سحر انگیزی تھی۔۔۔ہزاروں نہیں بلکہ عرب و عجم میں لاکھوں لاکھ مسلمانوں نے ناموس رسالت صلی الله عليه وسلم کی پہرہ داری کی قسم ٹھان لی۔۔۔ہر شخص کی زندگی کا نعرہ بیان گیا۔۔۔۔

لبیک لبیک لبیک یا رسول الله

تاجدار ختم نبوت زندہ باد زندہ باد

اس ساقی عشق نے عشق کہ وہ جام پلادیے کہ ہر سنی اب اپنی زندگی کا مقصد اور نصب العین یوں بیان کرتا ہے :

انھیں جانا انھیں مانا نہ رکھا غیر سے کام

للہ الحمد میں دنیا سے مسلمان گیا

آپ نے واضح اعلان کردیا کہ ” گستاخ رسول کی ایک ہی سزا۔۔۔سر تن سے جدا سر تن سے جدا

بات سے جو دل نکلے اثر رکھتی ہے۔۔اس اعلان میں وہ تاثیر تھی کہ پاکستان کو طول و عرض میں یہ صدا گونجنے لگی اور تو اور عالم کفر پر خوف و ہیبت طاری ہوگئ —فیس بوک، یوٹیوب، پرنٹ میڈیا پر آپ کی تصاویر، بیانات اور سیاسی جدوجہد کو بلاک کیا جاتا رہا ۔۔۔خبروں میں کوئ کوریج نہ دی جاتی۔۔۔۔مگر ہر آن آپ شہرت کی بلندیوں کو طے کرتے رہے۔۔اور آپ کے محبین اور متعلقین کا حلقہ وسیع تر ہوتا چلا گیا۔۔۔آپ کو کئ دفعہ جیل کاٹنے پر مجبور کیا گیا۔۔آنسو گیس، شیلنگ، کئ تکالیف برداشت کرنی پڑی لیکن آپ ہمیشہ مسکرا کر یہ فرماتے:

جن مالکوں کا ہم کام کر رہے ہیں۔۔۔وہ ہمیں بے آسرا نہیں چھوڑینگے

اس جذبہ عشق نے مسلمانانِ عالم میں ایک روحانی و مصطفوی انقلاب پیدا کردیا۔۔۔آج بھی جب ان کی تقریر سنتے ہیں۔۔۔تو سامع اپنے اندر ایک ولولہ ایک تحریک محسوس کرتا ہے بلکہ بزبان دل کہتا ہے

یہ ایک جان کیا ہے اگر ہوں کروڑوں،

تیرے نام پر سب کو وارا کروں میں

جب سرزمین پاکستان میں ختم نبوت بل میں ترمیم کی سازش ہونے لگی، 295-C گستاخی رسول پر سزا میں نرمی کے حوالے سے فتنہ اٹھا یا لبرل لوگوں کی طرف سے مادر پدر آزادی کا رجحان اور سلوگن میرا جسم میری مرضی عام ہوا ۔۔۔۔علامہ خادم حسین رضوی علیہ الرحمہ اور ان کے مخلصین نے نہ صرف فتنہ کا بھرپور مقابلہ کیا بلکہ اکھاڑ کر پچھاڑ دیا۔۔۔۔

سچ یہ ہے کہ خدائے ذوالجلال نے آپ کو کئ کمالات سے نوازا۔

حافظِ قرآن، قاری قرآن، امام، خطیب، مناظر، مقرر، فصیح اللسان، مدرس، مفتی، ادیب، شیخ الحدیث، شیخ التفسیر، پیر طریقت، صوفی با صفا، مصنف، سیاسی مدبر، قائد، امیر المجاہدین، محافظ عقیدہ ختم نبوت اور سب سے بڑھ کر عشق رسالت صلی الله عليه وسلم کے علمبردار جس کمال نے آپ کو اوج ثریا تک پہنچادیا۔۔۔

آپ کا جنازہ بارگاہ رسالت صلی الله عليه وسلم میں آپ کی مقبولیت کی واضح دلیل تھا۔۔۔پاکستان کی تاریخ تو کجا ۔۔انسانی تاریخ کے چند بڑے جنازوں میں آپ کا جنازہ تھا۔۔۔

ایسے لوگ صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں۔۔۔۔اور ان کے نقوش صدیوں تک مشعل راہ ہوتے ہیں۔

آپ کی قابل رشک زندگی اور جنازہ یقینا یہ پیغام دے گیا :

خاک ہو کر عشق میں آرام سے سونا ملا

جان کی اکسیر ہے الفت رسول اللہ کی

الله تعالیٰ ان پر اپنی خاص رحمتوں کا نزول فرمائے اور ان کے صدقے ہمیں بھی شمع رسالت کا سچا پروانہ بنادے۔۔۔آمین۔

Views: 0
keyboard_arrow_up