عرس مبارک حضرت علامہ قاری محمد مصلح الدین صدیقی علیہ الرحمہ
اللہ تعالٰی اپنے بندوں میں سے دین کی خدمت کے لئے خاص کو چن لیتا ہے اور انھیں تاج ولایت سے سرفراز فرماتا ہے۔
1949 میں ہجرت کرکے کراچی پاکستان آنے والے عالم دین، حافظ قرآن،قاری قرآن، صوفی باصفا نے 34 سال کھارادر میں امامت و خطابت میں گزاردئے۔ اس کے ساتھ ہی دارالعلوم امجدیہ کراچی میں تدریس کرکے سینکڑوں علماء تیار کئے۔ جو یقینا ایک بہت بڑی دینی خدمت ہے۔ وعظ و نصیحت کے ذریعے ہزاروں کی تعداد میں لوگ مستفیض ہوئے۔ جن کی زندگیوں میں انقلاب پیدا ہوگیا۔ وہ صرف مسند پر بیٹھنے والے پیر یا منبر کے خطیب نہیں بلکہ ایک عظیم مبلغ ، باعمل عالم دین، مخلص اور مجاہد دین کے پیشوا تھے۔
علامہ قاری مصلح الدین صدیقی علیہ الرحمہ نے اپنی تابندہ زندگی سے یقینا اسلاف کی یاد تازہ کردی جن کا مقصد مال و متاع کا حصول نہیں تھا ۔۔صرف اور صرف جان عالم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق کی شمع فروزاں کرنا اور دین متین کی نشر و اشاعت و سرفرازی ۔۔۔
ایسے مقدس پاکیزہ لوگ کبھی بھلائے نہیں جاتے۔ آسمان و زمین میں ان کی زہد و پارسائی کے چرچے رہتے ہیں۔
خاک میں دب کر بھی اپنا سوز کھو سکتا نہیں
پھُول بن کر اپنی تُربت سے نِکل آتا ہے یہ
موت سے گویا قبائے زندگی پاتا ہے یہ
ہے لحد اُس قُوّتِ آشُفتہ کی شیرازہ بند
آج ملاوی افریقہ میں مقامی طلباء نے بعد نماز ظہر قرآن خوانی کی، صاحب عرس کی دینی خدمات پر گفتگو کی گئی اور نیاز تقسیم ہوئ
اللہ تعالٰی ہمیں بھی دین کے مخلص سپاہیوں میں شامل فرمالے۔ آمین
تیرا مخلص اور ہمدرد
غریب الوطن
عبدالرحمن قادری
7 جمادی الاخری 1445ھ

