دو مختصر ملاقاتیں اور مقامی زبان میں کبھی کبھار احادیث📖 کے میسج📱 کے ذریعے ایک پڑھے لکھے نوجوان نے اسلام🌳 قبول کرنے کی خواہش ظاہر کردی
کچھ ماہ قبل اتوار کی صبح ملاوی کے ایک گاؤں میں تبلیغ دین کا سفر جاری تھا ۔ میری نظر ایک نوجوان پر پڑی – نہ جانے دل میں کیا ہوا میں نےگاڑی 🚘 روکنے کا کہا۔ میں نے اس کو قریب بلا کر بات کرنی شروع کی ۔معلوم ہوا یونیورسٹی کا طالب علم ہے اور بہت روانی سے انگریزی بول رہا تھا۔ میں نے دین کی دعوت دی، اس نے کہا میں سوچوں گا اور آپ سے آکر کچھ سوالات پوچھوں گا۔
چند ہفتوں کے بعد اس نے مسجد میں آکر ملاقات کی ، وہ بہت مطمئن ہوگیا اور اس نے کہا میں بعد میں پھر آپ کے پاس آؤنگا۔
اس کے بعد سے تقریبا 3 ماہ گذرگئے ہماری ملاقات نہیں ہوئ ۔ البتہ میں عادتا مقامی chichewa زبان میں ان کو مختلف احادیث کبھی کبھار واٹس اپ 📱 کے ذریعے بھیج دیتا تھا اور کبھی کبھار جو لوگ اسلام قبول کرتے جاتے اس کے متعلق معلومات ۔
اور آج انھوں نے دو میسج کئے
Am ready to enter Muslim, Am ready to join Islamic.
میسج ملتے ہی فورا کلمہ پڑھنے کا کہا اور ملاقات کا کہا۔
الحمد لله!
اگر سوشل میڈیا اور ٹیکنالوجی کا درست استعمال کیا جائے تو کس قدر فائدے ہوسکتے ہیں۔۔ملاوی میں کسی نوجوان کا یونیورسٹی لیول تک تعلیم حاصل کرلینا شاذ و نادر ہی ہے شاید صرف دو سے تین فیصد کیونکہ غربت بہت زیادہ ہے اور کالج یونیورسٹیاں نہ ہونے کے برابر۔ یہ نوجوان پڑھا لکھا بھی ہے اور جس گاؤں میں رہتا ہے اس کے fumu یعنی head of the village کا پوتا ہے ۔۔ مقامی نظم اور رواج کے مطابق آگے جاکر یہ پورے گاؤں کا بڑا ہوگا، سارے فیصلے اسی کے ذریعے ہونگے، ہر خرید و فروخت کے معاملہ میں اس کا اپروول درکار ہوگا۔۔ اس کے اسلام قبول کرنے سے اس گاؤں کی آبادی پر خاص کر جو دو سے تین ہزار افراد پر مشتمل ہےاور دوسرے لوگوں کو کس قدر فائدہ ہوگا آپ خود اندازہ کرلیں۔ 🌳
💐 بلاشبہ یہ تائید ربانی اور فیضان اولیاء ہے مگر آپ کو ظاہری اسباب اور morals عرض کرنا چاہتا ہوں:
ایک اجنبی عیسائ سے صرف دو ملاقات اور واٹس اپ کے میسجز ۔۔۔مقامی زبان میں احادیث میں خود translate کرتا اور ایک مقامی عالم سی تصحیح کراتا۔۔ مدینہ منورہ میں موجود میرے ایک مخلص دوست اسے مخلتف پوسٹر کی صورت میں ڈیزائن کرکے دیتے ہیں۔۔۔اور وہ میں عیسائیوں کو بھیج دیتا ہوں۔۔۔جس کی ایک بہار آپ دیکھ رہے ہیں..🏡
اس عاجز کی عرض ہے:
🔅تنقید کرنا آسان ہے مگر اصلاح کرنا مشکل ہے۔
🔅اصلاح کرنے والے بنیں۔
🔅تنقید اگر برائے اصلاح ہے تو اس کے کرنے سے پہلے سوچ لیں آپ نے معاشرے کے لئے کتنے کام کئے ہیں۔
🔅 سوشل میڈیا پر فضولیات اور حرام چیزوں پر وقت ضائع کرنے کے بجائے اس کا مؤثر effective استعمال کریں ۔نتیجہ impact آپ خود دیکھیں گے
🔅اور سب سے اہم گذارش ظاہری دیندار تو بہت مل جاتے ہیں مگر دیندار بنانے والے بہت کم ہیں ۔۔۔
الله رب العزت ہمیں دین پاک کا حقیقی داعی بنادے وہ مشن جو حضرت خواجہ غریب نواز علیہ الرحمہ اور دیگر بزرگان دین صحابہ کرام اور انبیائے کرام کا تھا اس پر کاربند فرمادے۔۔پھر دیکھو تبدیلی کا سفر کیسے شروع ہوگا !!
ادنیٰ خادم
🖊️ مفتی عبدالرحمن قادری
ملاوی ، 🇲🇼 افریقہ

