– جو مقابلہ کے اس بازار میں مفقود ہوگیا !!
آجکل سوشل میڈیا میں جس طرح فتوی کے مقابلے vs میں فتوی زیر بحث ہے تو Principles of Marketing کی ایک اصطلاح یاد آگئی
FIRST MOVER ADVANTAGE
جسے ہم نے MBA Finance میں Philip Kotler کی تحریر کردہ
Marketing Management
میں پڑھا تھا ۔ اس اصطلاح کے نام سے ہی واضح ہے :
> کسی نئی پروڈکٹ، نئی سروس یا نئے مارکیٹ میں سب سے پہلے آنے کی وجہ سے حاصل ہونے والی کاروباری برتری۔
آج کڑوا سچ یہی ہے ۔۔ہر مفتی – ہر ادارہ – چاہتا ہے میرا فتوی، میرا پراڈکٹ پیپر پہلے جاری ہو تاکہ ہم زیادہ سے زیادہ لوگوں تک رسائ حاصل کرکے Market leader بن جائیں۔
آجکل نہ چاہتے ہوئے بھی ہم نے خود علم اور تحقیق کی وقعت اور عظمت کو سبوتاژ کردیا ۔ بزنس مینجمنٹ سیکھنے والوں کو Coca-Cola vs Pepsi یا Walmart vs Amazon کے اسباق اور جو tricks سکھائی جاتی ہیں وہ سارے طریقے آج علمی دنیا میں خاص کر فتوی اور بازار علم میں استعمال ہورہے ہیں۔ ہر علم والا مفتی بھی ہے ، قاضی بھی ہے، مجتہد بھی ہے اور اس کی رائے حتمی رائے تسلیم کی جائے ، اس سے زیادہ تجربہ کار۔۔۔ جائے تیل لینے ۔۔۔
علامہ سید ابن عابدین شامی متوفی 1252ھ مفتیوں اور محققین کے رہبر اور سپہ سالار دو صدیاں پہلے لکھ گئے ۔۔میں اپنے آپ کو مجتہد نہیں سمجھتا ہوں اور جب امت کو کوئ نیا مسئلہ درپیش ہو تو ایک مفتی کو یہ چاہیے اپنے سے بڑے مفتی سے مشورہ کرے، رابطہ کرے اور وہ جو مشورہ دیں انہی کے نام سے منسوب کرکے لوگوں کو بتائے ۔ فتوی دینے میں صرف وسعت علمی نہیں، تحمل اور بردباری بھی درکار ہے ، امت میں انتشار کے بجائے اکابرین کے اصولوں کو اپناتے ہوئے اتفاق رائے unanimity پر غور کیا جائے۔ عبارت بلکہ سنہری اصول ملاحظہ ہوں :
“اگر مفتی مقلد ہو، مجتہد نہ ہو، تو وہ اس عالم کے قول کو اختیار کرے جسے وہ اپنے نزدیک لوگوں میں سب سے زیادہ فقیہ اور صاحبِ علم سمجھتا ہو، اور فتویٰ اسی کی طرف منسوب کرے۔ پھر اگر اس کے نزدیک سب سے بڑا فقیہ کسی دوسرے شہر میں ہو، تو اسے خط لکھ کر مسئلہ دریافت کرے، اور اسی کے جواب کے مطابق فتویٰ تحریر کرے۔ اور (از خود) بے سوچے سمجھے فتویٰ دینے کی جرأت نہ کرے، اس خوف سے کہ کہیں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے کا مرتکب نہ ہو جائے، مثلاً حلال کو حرام یا حرام کو حلال قرار دے بیٹھے۔”
آہ صد آہ !! کون ہے جو اس پر عمل کرے ۔۔ٹیکنالوجی۔ موبائل کے اس دور میں بھی بہت کمیاب ہے کہ کسی دوسرے کو یا بڑے کو مشاورت کے لئے فون کیا جائے ۔۔اقبال کی روح بھی آہ و بکا کرتے ہوئے یہ کہتی ہے ::
ہر کوئی مست مئے ذوق تن آسانی ہے
تم مسلماں ہو، یہ انداز مسلمانی ہے
اے صاحب قلم، تمہارا یہ ہتھیار تلوار کی ضرب سے بھی زیادہ تباہی لاسکتا ہے۔۔۔احتیاط خدا را احتیاط۔۔سلف صالحین اسی لئے ہمیشہ تنبیہ کرتے رہے :
“جو شخص فتویٰ دینے میں سب سے زیادہ بے احتیاط اور دلیر ہو / جلدی کرے (haste)، وہ گویا جہنم کی آگ پر سب سے زیادہ دلیر ہے۔”
سورہ بقرہ آیت 41 میں دین کے رہبروں کو واضح تنبیہ کرکے بتایا گیا کہ دنیا کے ذلیل اور حقیر مال اور منفعت کے عوض دین کے سوداگر نہ بنیں اور آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی علم والوں کو تنبیہ کی کہ جس علم کا مقصد لوگوں سے مقابلہ بازی rivalry / competition ہے ایسا شخص جھنم میں دھکیل دیا جائے گا ۔۔!!
اگر کسی کرپٹو crypto + Fintech ذہن کو یہ بات سمجھ نہیں آئی تو تصور میں محسن انسانیت کے جسم ناز پر چٹائ کے نشانوں کا تصور کرلے سب سمجھ آجائے گا۔۔۔!!
اس بکھری امت کو رہبر اور محسن کی تلاش ہے ۔۔پچھاڑنے والے پہلوان کی نہیں۔ رہبر رہنمائی کریں۔مقابلہ بازی اور جگ ہنسائی نہیں۔ تحقیق کریں تفریق نہیں !!!!!
تیرا مخلص اور ہمددر
بندہ مسکین و غریب الوطن
عبدالرحمن
دارالافتاء غریب نواز، افریقہ

