Articles

کیوں حبیبیہ اسلامک اکیڈمی؟

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

محترم معزز حاضرین!

آج میں آپ کے سامنے صرف ایک ادارے کا تعارف پیش کرنے نہیں آیا۔

آج میں آپ کے سامنے ایک سوال رکھنا چاہتا ہوں۔

جب ہم اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں سوچتے ہیں، تو ہمارے دل میں سب سے پہلی خواہش کیا ہوتی ہے؟

کیا ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا بچہ صرف دنیا میں کامیاب ہو؟

یا ہم یہ چاہتے ہیں کہ وہ دنیا میں بھی کامیاب ہو اور دین میں بھی سرخرو ہو؟

ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے کے ہاتھ میں ایک اچھی ڈگری ہو، لیکن اس کے دل میں قرآن بھی ہو۔

وہ ایک کامیاب پروفیشنل بنے، لیکن اسے اپنے رب کی پہچان بھی ہو۔

وہ جدید دنیا کے تقاضوں کو سمجھے، لیکن اپنی دینی شناخت کو کبھی نہ بھولے۔

اور یہی وہ سوچ ہے جس کے تحت حبیبیہ اسلامک اکیڈمی اپنے تعلیمی سفر کو آگے بڑھا رہی ہے۔

آئیے، میں آپ کے سامنے چند اہم وجوہات رکھتا ہوں کہ حبیبیہ اسلامک اکیڈمی کا انتخاب کیوں؟


 بہترین اساتذہ — کیونکہ تعلیم کی بنیاد استاد ہے

ایک بچے کے مستقبل کی تعمیر صرف کتابوں سے نہیں ہوتی۔

ایک اچھا استاد بچے کی سوچ بدلتا ہے، اس کا کردار بناتا ہے اور اس کے مستقبل کی بنیاد رکھتا ہے۔

اسی لیے اگر آپ اپنے بچے کو درسِ نظامی کی تعلیم دلانا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے یہ دیکھیں کہ وہ کن اساتذہ سے تعلیم حاصل کرے گا۔

الحمدللہ، ہمارے ادارے میں ایسے اساتذہ موجود ہیں جو اپنے زمانے میں بہترین تعلیمی کارکردگی کا مظاہرہ کر چکے ہیں، اور ہمارے تدریسی عملے میں ایسے افراد بھی شامل ہیں جنہوں نے A اور A+ پوزیشن حاصل کی ہیں۔

ہم سمجھتے ہیں کہ جو استاد خود علم اور محنت کی منزلیں طے کر چکا ہو، وہی طالب علم کو آگے بڑھنے کا حوصلہ بہتر انداز میں دے سکتا ہے۔


 کامیابی کا ایک روشن سفر

یہ صرف دعویٰ نہیں، الحمدللہ ہمارے پاس اپنے سفر کی ایک عملی تصویر بھی موجود ہے۔

جب سے یہ ادارہ قائم ہوا ہے، الحمدللہ سینکڑوں حفاظِ کرام یہاں سے حفظِ قرآن مکمل کر چکے ہیں۔

اور صرف حفاظ ہی نہیں، ہزاروں طلبہ و طالبات یہاں سے ناظرۂ قرآن کی تعلیم حاصل کر چکے ہیں۔

آج ہماری پانچوں برانچز میں تقریباً ایک ہزار بچے قرآنِ کریم کی تعلیم، حفظ و ناظرہ، درسِ نظامی اور اسکولنگ حاصل کر رہے ہیں۔

اور ان بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے تقریباً 70 اساتذہ اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

یہ ہمارے لیے صرف اعداد و شمار نہیں ہیں۔

یہ ہمارے لیے ان بچوں کے مستقبل کی کہانی ہے۔

یہ ان والدین کی امیدیں ہیں۔

یہ ان اساتذہ کی محنت ہے۔

اور یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔

الحمدللہ، آج تک ہمارے ادارے سے 50 عالمِ دین فارغ ہو چکے ہیں، اور ان شاء اللہ آئندہ سال یہ تعداد 61 تک پہنچ جائے گی۔


 صرف تعلیم نہیں — ایک بہترین ماحول

بچہ صرف کتابوں سے نہیں سیکھتا۔

وہ اپنے ماحول سے بھی سیکھتا ہے۔

اسی لیے ہمارے لیے یہ بہت اہم ہے کہ بچے کو ایسا ماحول دیا جائے جہاں وہ خود کو محفوظ، مطمئن اور پُرسکون محسوس کرے اور اپنی علمی صلاحیتوں کو بہتر بنا سکے۔

ہماری ترجیحات میں صفائی ستھرائی، صاف ستھرا ماحول، اچھا علاقہ، بہترین برانچ اور مناسب تعلیمی ماحول شامل ہیں۔

ہم چاہتے ہیں کہ طالب علم جب صبح ادارے میں داخل ہو تو وہ صرف کلاس روم میں نہ جائے—

بلکہ ایک ایسے ماحول میں داخل ہو جہاں اس کی شخصیت، اعتماد اور علمی صلاحیتیں بھی پروان چڑھیں۔


 دین بھی، دنیا بھی — ایک متوازن مستقبل

اور شاید آج کے والدین کے لیے یہ سب سے اہم سوال ہے:

کیا دینی تعلیم حاصل کرنے والا بچہ جدید دنیا میں آگے بڑھ سکتا ہے؟

ہم کہتے ہیں:

جی ہاں! بالکل!

ہم نے اپنے ادارے کے ماحول کو صرف روایتی انداز تک محدود نہیں رکھا۔

ہم نے موجودہ دور کی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے ایسا متوازن ماحول قائم کرنے کی کوشش کی ہے جہاں دینی تعلیم کے ساتھ دنیاوی اور پیشہ ورانہ ضروریات کو بھی اہمیت دی جاتی ہے۔

اسی لیے ہمارے ماحول میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے پڑھے لکھے افراد بھی موجود ہیں، جن میں MBA، CA، ڈاکٹرز، انجینئرز اور دیگر پروفیشنل افراد شامل ہیں۔

ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا طالب علم یہ محسوس نہ کرے کہ اسے دین اور دنیا میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہے۔

بلکہ وہ یہ سمجھے کہ:

دین میری بنیاد ہے،
اور تعلیم و ہنر میرے مستقبل کی تعمیر ہیں۔


 عربی اور انگلش — مستقبل کی زبانیں

آج کا دور رابطے اور علم کا دور ہے۔

اس لیے ہم نے عربی اور انگلش زبانوں پر خصوصی توجہ دی ہے۔

الحمدللہ، ہمارے یہاں قابل اور ماہر اساتذہ کے ذریعے طلبہ کو عربی زبان اور عربی بول چال سکھائی جاتی ہے۔

اسی طرح انگلش میں بولنے اور لکھنے کی باقاعدہ مشق کروائی جاتی ہے۔

صرف یہی نہیں، طلبہ کو انگلش میں فتاویٰ لکھنے، اسلامی مضامین تحریر کرنے اور دینی مسائل کو انگلش میں بیان کرنے کی تربیت بھی دی جاتی ہے۔

ہماری کوشش یہ نہیں کہ طالب علم صرف زبان کے الفاظ یاد کر لے۔

ہم چاہتے ہیں کہ وہ عربی اور انگلش دونوں زبانوں میں:

سمجھ سکے،
بول سکے،
لکھ سکے،
اور اپنے خیالات کا مؤثر اظہار کر سکے۔


 ہماری بنیاد — اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کی تعلیمات

ان تمام خصوصیات کے باوجود، ہمارے ادارے کی سب سے بنیادی پہچان کیا ہے؟

وہ ہے دین سے وابستگی۔

ہمارا ادارہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کی تعلیمات پر مکمل طور پر عمل پیرا ہے۔

ان کی تعلیمات کو طلبہ تک پہنچایا جاتا ہے اور دینی و عملی زندگی میں ان پر عمل کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔

کیونکہ ہمارے نزدیک تعلیم کا مقصد صرف یہ نہیں کہ بچہ بہت کچھ جان لے۔

اصل مقصد یہ ہے کہ وہ جو کچھ سیکھے، اسے اپنی زندگی میں بھی لے کر آئے۔


 ایسے اساتذہ جو مختلف علمی اور عملی میدانوں سے وابستہ ہیں

الحمدللہ، ہمارے اساتذہ مختلف معروف دینی اداروں اور علمی مراکز سے وابستہ رہے ہیں۔

ان میں نور حمزہ کالج، دارالعلوم امجدیہ اور جامعۃُ المدینہ سے وابستہ اساتذہ بھی شامل ہیں۔

ہمارے اساتذہ میں مفتیانِ کرام، شیخِ الحدیث، ممتاز کاروباری شخصیات، اور مختلف پروفیشنل ڈگریاں رکھنے والے افراد بھی شامل ہیں۔

یہ امتزاج ہمارے طالب علم کو ایک وسیع نظر دیتا ہے۔

اسے دین کی سمجھ بھی ملتی ہے اور دنیا کو سمجھنے کا شعور بھی۔


 ہر طالب علم کے لیے ایک ایسا ماحول جہاں وہ خود کو اجنبی محسوس نہ کرے

ہمارے معاشرے میں بہت سے بچے اسکول، کالج یا یونیورسٹی کے ماحول سے آتے ہیں۔

اگر وہ دینی تعلیم حاصل کرنا چاہیں تو بعض اوقات ان کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے:

کیا میں مدرسے کے ماحول میں خود کو ایڈجسٹ کر سکوں گا؟

ہماری کوشش ہے کہ جواب ہو:

جی ہاں!

ہم نے ایسا ماحول بنانے کی کوشش کی ہے جہاں اسکول یا یونیورسٹی سے آنے والا طالب علم بھی آسانی سے گھل مل سکے۔

جہاں وہ دینی تعلیم حاصل کرے، لیکن اپنی جدید تعلیمی ضروریات کو بھی ساتھ لے کر چلے۔

جہاں اسے یہ احساس نہ ہو کہ اس نے اپنی دنیا چھوڑ دی ہے—

بلکہ اسے یہ احساس ہو کہ:

میں اپنی دنیا کو اپنے دین کے ساتھ بہتر بنا رہا ہوں۔


اختتامی پیغام

آخر میں میں صرف اتنا کہنا چاہوں گا:

اپنے بچے کے مستقبل کا فیصلہ صرف یہ دیکھ کر نہ کریں کہ وہ کیا بنے گا۔

یہ بھی دیکھیں کہ:

وہ کیسا انسان بنے گا؟

وہ ڈاکٹر بنے گا تو کیسا ڈاکٹر ہوگا؟

وہ انجینئر بنے گا تو کیسا انجینئر ہوگا؟

وہ بزنس مین بنے گا تو کیسا بزنس مین ہوگا؟

وہ پروفیشنل بنے گا تو اس کے کردار میں دین کہاں ہوگا؟

کیونکہ ہمیں صرف کامیاب لوگ نہیں چاہییں۔

ہمیں کامیاب اور باکردار لوگ چاہییں۔

ہمیں ایسے نوجوان چاہییں جن کے ہاتھ میں علم ہو،
زبان پر سچ ہو،
دل میں قرآن ہو،
زندگی میں دین ہو،
اور مستقبل کے لیے جدید تعلیم اور صلاحیت بھی ہو۔

اور یہی ہماری کوشش ہے۔

دین بھی ہو،
تعلیم بھی ہو،
کردار بھی ہو،
صلاحیت بھی ہو،
اور مستقبل بھی روشن ہو۔

یہی سوچ ہے۔

یہی مقصد ہے۔

اور اسی مقصد کے سفر کا نام ہے—

حبیبیہ اسلامک اکیڈمی

اللہ تعالیٰ ہمارے اس سفر کو قبول فرمائے، ہمارے طلبہ کو دین و دنیا میں کامیابی عطا فرمائے، ہمارے اساتذہ کی محنتوں کو قبول فرمائے اور تمام والدین کی امیدوں کو پورا فرمائے۔

آمین یا رب العالمین۔

والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔

اپ کا ایک مخلص بھائی
عبید اللہ نوری رضوی

Views: 2
keyboard_arrow_up