Articles

ہمارا مقصد — ایک پڑھا لکھا اور باشعور معاشرہ

Conclusion

The Parallel Education Concept

Dars-e-Nizami should not be considered an additional education that a student pursues only after completing their professional or academic career. With proper planning and a well-structured educational pathway, Dars-e-Nizami can be pursued alongside mainstream education, allowing students to progress in both religious and professional education at the same time.

This is the concept of “Parallel Education.”

The strongest feature of our Future Planning Sheet is that it demonstrates how a child can pursue Dars-e-Nizami without sacrificing mainstream or professional education. Whether the student aims to become a doctor (MBBS), business professional (BBA/MBA), ACCA, ICMA/CMA, CA, or pursue another professional field, the two educational pathways can be planned to progress together.

The objective is simple:

Do not choose between Deen and Dunya — plan for both.

With the right planning from an early stage, a student can become religiously educated, professionally qualified, and well-prepared for both the challenges of this world and the responsibilities of the Hereafter.

حبیبیہ اسلامک اکیڈمی

دینی و عصری تعلیم کا مربوط تعلیمی منصوبہ

درسِ نظامی — تعلیمِ دین کے ساتھ ایک کامیاب پیشہ ورانہ مستقبل

1985ء میں انجمنِ حبیبیہ کی بنیاد رکھی گئی اور 1986ء میں دھوراجی کالونی میں حبیبیہ اسلامک اکیڈمی کی پہلی برانچ قائم ہوئی، جس کا افتتاح حضرت علامہ ضیاء المصطفیٰ اعظمی، محدثِ کبیر کے دستِ مبارک سے ہوا۔

یہ سفر محض ایک مدرسے یا تعلیمی ادارے کے قیام کا سفر نہیں تھا۔ اس کے پسِ پشت ایک واضح اور دوراندیش تصور تھا:

ایسی نسل تیار کی جائے جو دین کو بھی جانتی ہو اور دنیا کو بھی؛ جو قرآن و سنت سے وابستہ ہو اور جدید علوم و پیشوں میں بھی نمایاں مقام حاصل کرے۔

آج کے دور میں سب سے بڑا تعلیمی چیلنج یہی ہے کہ والدین اپنے بچوں کو دینی تعلیم بھی دلانا چاہتے ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی چاہتے ہیں کہ ان کی دنیاوی تعلیم، پیشہ ورانہ قابلیت اور مستقبل کے مواقع متاثر نہ ہوں۔

حبیبیہ اسلامک اکیڈمی کا تعلیمی تصور اسی ضرورت کا ایک مربوط جواب ہے۔


درسِ نظامی کیوں ضروری ہے؟

درسِ نظامی صرف ایک تعلیمی نصاب کا نام نہیں، بلکہ اسلامی علوم کو منظم انداز میں سمجھنے کا ایک جامع ذریعہ ہے۔

ایک مسلمان کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ وہ اپنے عقیدے کو سمجھے، قرآنِ کریم کو سمجھے، حدیث و سنت سے واقف ہو، فقہ اور اسلامی احکام کو جانے اور اپنی روزمرہ زندگی کو اسلامی اصولوں کے مطابق گزارنے کی صلاحیت پیدا کرے۔

دنیاوی تعلیم انسان کو ڈاکٹر، انجینئر، وکیل، اکاؤنٹنٹ، بزنس مین یا کسی دوسرے شعبے کا ماہر بنا سکتی ہے۔

لیکن دینی تعلیم اسے یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ وہ اپنی اس مہارت کو کس مقصد کے لیے اور کن اصولوں کے تحت استعمال کرے۔

اسی لیے ہماری نظر میں دینی اور دنیاوی تعلیم میں مقابلہ نہیں بلکہ تکمیل کا تعلق ہے۔

دنیاوی تعلیم ذریعۂ معاش فراہم کرتی ہے؛ دینی تعلیم ذریعۂ حیات کو درست سمت دیتی ہے۔


ایک نیا سوال: کیا دینی تعلیم کے لیے دنیاوی تعلیم چھوڑنا ضروری ہے؟

یہ وہ بنیادی سوال ہے جس کا عملی جواب حبیبیہ اسلامک اکیڈمی کے تعلیمی منصوبے میں موجود ہے۔

جو طالب علم دن کے اوقات میں اپنی اسکول، کالج، یونیورسٹی یا پیشہ ورانہ تعلیم جاری رکھنا چاہتا ہے، وہ رات کے اوقات میں درسِ نظامی کی تعلیم حاصل کر سکتا ہے۔

اس تصور میں طالب علم کو یہ انتخاب نہیں کرنا پڑتا کہ:

یا دین پڑھو یا دنیا پڑھو۔

بلکہ اسے یہ موقع دیا جاتا ہے کہ:

دین بھی پڑھے اور دنیا بھی پڑھے۔

یہی اس نظام کی سب سے اہم خصوصیت ہے۔


مستقبل کی منصوبہ بندی — تعلیم کے دو راستے، ایک منزل

حبیبیہ اسلامک اکیڈمی کی Future Planning میں ایک طالب علم کے تعلیمی سفر کو کم عمری سے لے کر اعلیٰ تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت تک ایک مربوط انداز میں دکھایا گیا ہے۔

اس منصوبے کے مطابق ابتدائی برسوں میں طالب علم اپنی عمومی تعلیم جاری رکھتا ہے، جبکہ مناسب عمر میں ناظرہ قرآن اور پھر حفظِ قرآن کی تعلیم بھی شامل کی جا سکتی ہے۔ اس کے بعد درسِ نظامی کے درجات کو اس کی عمومی تعلیم کے ساتھ متوازی طور پر آگے بڑھایا جاتا ہے۔

یعنی طالب علم کی زندگی میں دینی تعلیم بعد میں شروع ہونے والا اضافی بوجھ نہیں بنتی، بلکہ تعلیمی سفر کا ایک منظم حصہ بن جاتی ہے۔


13 سال کی عمر سے ایک منظم دینی تعلیمی سفر

Future Planning کے مطابق تقریباً 13 سال کی عمر میں طالب علم متوسطہ سے دینی تعلیمی مرحلے میں داخل ہوتا ہے، اس کے بعد اوّلیٰ، ثانیہ، ثالثہ، رابعہ، خامسہ، سادسہ اور سابعہ کے مراحل مکمل کرتا ہے۔ اس کے بعد دورۂ حدیث اور مزید تخصص کے مراحل بھی موجود ہیں۔

یہ ترتیب اس بات کی مثال ہے کہ اگر دینی تعلیم کو ابتدا ہی سے منصوبہ بندی کے ساتھ شامل کیا جائے تو اسے مکمل کرنے کے لیے طالب علم کو اپنی دنیاوی تعلیم ترک کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔


ایک ہی وقت میں Inter، University اور Dars-e-Nizami

یہاں اصل خوبصورتی سامنے آتی ہے۔

ایک طرف طالب علم اپنی میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کی تعلیم مکمل کر رہا ہے، تو دوسری طرف درسِ نظامی کے درجات بھی جاری رہتے ہیں۔

Future Planning میں 17 اور 18 سال کی عمر میں Inter کے ساتھ دینی نصاب کے درجات دکھائے گئے ہیں۔ اس کے بعد 19 سے 21 سال کے مرحلے میں مختلف شعبوں مثلاً BBA، MBBS، ICMA/CMA اور ACCA کے ساتھ درسِ نظامی کے اعلیٰ درجات متوازی طور پر جاری رہتے ہیں۔

یہی وہ تصور ہے جسے ہم کہتے ہیں:

Parallel Education — تعلیم ساتھ ساتھ، مستقبل قدم بہ قدم

طالب علم کو ایک تعلیم مکمل کرنے کے بعد دوسری تعلیم شروع کرنے کے لیے کئی اضافی سال انتظار نہیں کرنا پڑتا۔

بلکہ جہاں ممکن اور عملی ہو، دونوں تعلیمی راستے ایک ساتھ آگے بڑھتے ہیں۔


مثال: دینی تعلیم کے ساتھ بزنس اور مینجمنٹ

Future Planning میں BBA کے بعد MBA کی طرف بڑھنے کا راستہ بھی دکھایا گیا ہے، جبکہ اسی دوران دینی تعلیم کے مراحل جاری رہتے ہیں۔ اس طرح ایک طالب علم مستقبل میں بزنس اور مینجمنٹ کے شعبے میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ دینی علوم میں بھی مضبوط بنیاد قائم کر سکتا ہے۔

ایسا شخص صرف کاروبار نہیں کرے گا بلکہ اسے یہ شعور بھی حاصل ہوگا کہ:

کاروبار کیسے کیا جائے؟

اور ساتھ ہی:

اسلامی اصولوں کے مطابق کاروبار کیسے کیا جائے؟


مثال: عالم ڈاکٹر

اسی طرح منصوبہ بندی میں MBBS کے ساتھ درسِ نظامی کے مراحل متوازی دکھائے گئے ہیں، جبکہ بعد کے سالوں میں عملی تربیت اور House Job بھی شامل ہے۔

یہ تصور ایک ایسے ڈاکٹر کی بنیاد رکھتا ہے جو طب کا ماہر ہونے کے ساتھ دین اور اسلامی اخلاقیات سے بھی واقف ہو۔

سوچیے:

ایک مریض کے سامنے ایک ایسا ڈاکٹر موجود ہو جو جدید طب بھی جانتا ہو اور انسانی جان، خدمت، امانت اور اخلاق کی اسلامی اہمیت سے بھی واقف ہو۔

یہ صرف ڈاکٹر نہیں؛ ایک باکردار مسلمان پروفیشنل ہے۔


مثال: عالم اکاؤنٹنٹ / Finance Professional

اسی طرح ICMA/CMA اور ACCA جیسے پیشہ ورانہ راستوں کو بھی دینی تعلیم کے ساتھ متوازی طور پر رکھا گیا ہے۔ Planning Sheet میں ان شعبوں کے مراحل کے ساتھ درسِ نظامی کے درجات بھی آگے بڑھتے دکھائے گئے ہیں۔

یہ ایک نہایت اہم ضرورت ہے۔

آج ہمیں ایسے مالیاتی ماہرین اور اکاؤنٹنٹس کی بھی ضرورت ہے جو جدید accounting اور finance کو سمجھتے ہوں اور ساتھ ہی اسلامی مالیاتی اصول، حلال و حرام اور معاملاتِ تجارت کے شرعی پہلوؤں سے بھی واقف ہوں۔


وقت کی بچت — تعلیم کو پیچھے نہیں، آگے لانا

اس پورے منصوبے کا ایک بڑا فائدہ وقت کی مؤثر منصوبہ بندی ہے۔

عام طور پر اگر کوئی شخص پہلے مکمل دنیاوی تعلیم حاصل کرے اور کئی سال بعد دینی تعلیم شروع کرے تو اسے دینی علوم مکمل کرنے کے لیے اپنی زندگی کے مزید کئی سال مختص کرنا پڑ سکتے ہیں۔

لیکن اگر دینی تعلیم کو کم عمری سے یا متوازی نظام کے تحت شروع کر دیا جائے تو دونوں راستے ساتھ ساتھ آگے بڑھ سکتے ہیں۔

Future Planning کے اختتامی خلاصے میں بھی مختلف پیشہ ورانہ راستوں کے ساتھ دینی تعلیم کی تکمیل کا تقابلی تصور دیا گیا ہے، جس میں بعض راستوں کے لیے Inter کے بعد مختلف مدتیں دکھائی گئی ہیں، جبکہ Dars-e-Nizami کے لیے Islamic Studies میں Double MA Degree کا نتیجہ بھی درج ہے۔

یہی منصوبہ بندی کا بنیادی فلسفہ ہے:

وقت کو تقسیم نہیں کرنا، وقت کو منظم کرنا ہے۔


مقصد صرف ڈگریاں جمع کرنا نہیں

یہاں ایک بات بہت واضح ہونا ضروری ہے۔

ہماری منزل صرف یہ نہیں کہ ایک نوجوان کے پاس بہت سی ڈگریاں ہوں۔

اصل کامیابی یہ ہے کہ:

اس کے پاس علم ہو،
اس کے پاس ہنر ہو،
اس کے پاس کردار ہو،
اس کے پاس دینی شعور ہو،
اور وہ اپنی قابلیت کو صحیح مقصد کے لیے استعمال کرنا جانتا ہو۔

ایک شخص MBA کرے، مگر تجارت میں دھوکا دے، تو اس کی تعلیم کا مقصد کہاں پورا ہوا؟

ایک شخص ڈاکٹر بنے، مگر انسانیت کی قدر نہ سمجھے، تو اس کی تعلیم کہاں مکمل ہوئی؟

ایک شخص وکیل بنے، مگر عدل و انصاف کی اہمیت سے ناواقف ہو، تو اس کی قابلیت معاشرے کو کیا دے گی؟

ہمیں صرف qualified professionals نہیں چاہییں۔

ہمیں qualified Muslims چاہییں۔


مستقبل کا عالمِ دین — ایک نئے کردار کے ساتھ

ہمیں ایسے علماء کی ضرورت ہے جو صرف مسجد اور مدرسے تک محدود نہ ہوں بلکہ جدید معاشرے کے مختلف شعبوں کو بھی سمجھتے ہوں۔

ہمیں:

عالم ڈاکٹر چاہیے۔

عالم وکیل چاہیے۔

عالم بزنس مین چاہیے۔

عالم اکاؤنٹنٹ چاہیے۔

عالم استاد چاہیے۔

عالم محقق چاہیے۔

اور ایسے مسلمان پروفیشنلز چاہییں جو اپنے اپنے شعبوں میں رہتے ہوئے دین کی صحیح نمائندگی کر سکیں۔

جب معاشرے کے مختلف شعبوں میں دین کا شعور رکھنے والے افراد موجود ہوں گے، تب اسلامی اقدار صرف کتابوں اور تقریروں تک محدود نہیں رہیں گی بلکہ عملی زندگی میں بھی نظر آئیں گی۔


ایک اسلامی معاشرہ کیسے تشکیل پائے گا؟

ہم اکثر کہتے ہیں کہ ہمارا ملک اسلامی ہے اور ہم ایک اسلامی معاشرہ چاہتے ہیں۔

لیکن اسلامی معاشرہ صرف نام سے نہیں بنتا۔

اسلامی معاشرہ اسلامی شعور رکھنے والے افراد سے بنتا ہے۔

جب ڈاکٹر دین کو سمجھے گا۔

جب وکیل دین کو سمجھے گا۔

جب تاجر دین کو سمجھے گا۔

جب اکاؤنٹنٹ دین کو سمجھے گا۔

جب استاد دین کو سمجھے گا۔

جب معاشرے کے مختلف شعبوں میں موجود افراد اسلامی اصولوں سے واقف ہوں گے، تب اسلامی طرزِ زندگی معاشرے میں زیادہ مؤثر انداز سے جلوہ گر ہو سکے گا۔


حبیبیہ اسلامک اکیڈمی کا وژن

حبیبیہ اسلامک اکیڈمی کا وژن دراصل ایک ایسے تعلیمی نظام کا تصور ہے جس میں:

قرآن بھی ہو — جدید تعلیم بھی۔

درسِ نظامی بھی ہو — پیشہ ورانہ تعلیم بھی۔

دینی تربیت بھی ہو — عملی مہارت بھی۔

کردار بھی ہو — قابلیت بھی۔

آخرت کی فکر بھی ہو — دنیا میں کامیابی کی جدوجہد بھی۔

ہم اپنے بچوں کو دنیا سے دور نہیں کرنا چاہتے۔

ہم چاہتے ہیں کہ وہ دنیا کو سمجھیں، دنیا میں آگے بڑھیں، اعلیٰ تعلیم حاصل کریں، مختلف شعبوں میں مہارت پیدا کریں، اپنے خاندان اور معاشرے کے لیے مفید بنیں۔

لیکن اس سب کے ساتھ:

وہ اپنے دین کو نہ بھولیں۔


آج کا طالب علم، کل کا عالم اور پروفیشنل

ذرا ایک ایسے نوجوان کا تصور کیجیے جو:

قرآنِ کریم پڑھتا ہے،

حفظِ قرآن کی سعادت حاصل کرتا ہے،

درسِ نظامی مکمل کرتا ہے،

دورۂ حدیث سے گزرتا ہے،

اسلامی علوم میں تخصص حاصل کرتا ہے،

اور ساتھ ہی اپنی دنیاوی تعلیم جاری رکھتے ہوئے MBA، MBBS، ACCA، ICMA/CMA یا کسی دوسرے شعبے میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرتا ہے۔

یہ نوجوان صرف ایک profession کا حامل نہیں ہوگا۔

یہ دین اور دنیا کے درمیان ایک مضبوط رابطہ بن سکتا ہے۔

یہی ہماری ضرورت ہے۔


ایک فیصلہ — دو جہانوں کی تیاری

والدین کے سامنے آج ایک اہم سوال ہے:

کیا ہم اپنے بچوں کو صرف روزگار کے لیے تیار کرنا چاہتے ہیں، یا زندگی کے لیے؟

اگر مقصد صرف روزگار ہے تو دنیاوی تعلیم کافی سمجھی جا سکتی ہے۔

لیکن اگر مقصد ایک ایسا انسان تیار کرنا ہے جو اپنے رب کو پہچانے، اپنے دین کو سمجھے، اپنے معاشرے کے لیے فائدہ مند ہو اور دنیاوی میدان میں بھی کامیاب ہو، تو پھر دینی اور عصری تعلیم دونوں ضروری ہیں۔

اسی لیے حبیبیہ اسلامک اکیڈمی کا پیغام ہے:

اپنی دنیا بھی سنواریں، اپنی آخرت بھی۔

دنیاوی تعلیم بھی حاصل کریں، دینی علم بھی حاصل کریں۔

اپنے پیشے میں ماہر بنیں، اپنے دین میں بھی باعلم بنیں۔


اختتامیہ

1985ء میں شروع ہونے والا یہ سفر صرف ایک ادارے کی تاریخ نہیں؛ یہ ایک تعلیمی فکر کا سفر ہے۔

ایک ایسی فکر جو یہ کہتی ہے کہ ہمارے بچوں کو دین اور دنیا میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے پر مجبور نہیں ہونا چاہیے۔

انہیں دونوں کا بہترین امتزاج حاصل ہونا چاہیے۔

وہ قرآن بھی پڑھیں اور سائنس بھی۔

وہ حدیث بھی سمجھیں اور جدید دنیا بھی۔

وہ درسِ نظامی بھی مکمل کریں اور اپنے منتخب شعبے میں اعلیٰ تعلیم بھی حاصل کریں۔

وہ عالم بھی ہوں اور پروفیشنل بھی۔

کیونکہ ہمیں ایسی نسل چاہیے جو صرف دنیا میں کامیاب نہ ہو، بلکہ اپنی کامیابی کو دین، انسانیت اور معاشرے کی خدمت کے لیے استعمال کرے۔

یہی ایک مضبوط فرد کی بنیاد ہے۔

یہی ایک مضبوط خاندان کی بنیاد ہے۔

یہی ایک مضبوط معاشرے کی بنیاد ہے۔

اور یہی ایک ایسے مستقبل کی بنیاد ہے جس میں:

علم ہو، کردار ہو، قابلیت ہو اور دین ہو۔

دنیا بھی ہو — اور آخرت بھی۔

دین بھی، دنیا بھی۔

حبیبیہ اسلامک اکیڈمی — ایک جامع تعلیم، ایک روشن مستقبل۔


اپ کا ایک مخلص بھائی
عبید اللہ نوری رضوی

Views: 1
keyboard_arrow_up