حدیثِ مبارکہ:
اعْرُوا النِّسَاءَ؛ يَلْزَمْنَ الْحِجَالَ۔
(أخرجه الطبراني في الكبير، والحديث إلى الحسن أقرب، فيض القدير، وإتحاف السادة المتقين)
مفہوم:
عورتوں کو زیب و زینت اور آرائش کے لباس و زیورات سے بچاؤ، وہ پردہ نشینی اور گھروں میں رہنے کو اختیار کریں گی۔
وضاحت:
اس ارشاد میں عورتوں کو زینت و آرائش، فخر و نمائش کے لباس اور زیورات کی کثرت سے بچانے کی ترغیب دی گئی ہے، بلکہ لباس میں اس قدر پر اکتفا کیا جائے جو انہیں گرمی اور سردی سے محفوظ رکھنے کے لیے کافی ہو۔
اس سادگی کا مقصد یہ ہے کہ عورتوں میں اپنی زینت کی نمائش اور بن سنور کر باہر نکلنے کا شوق پیدا نہ ہو، بلکہ وہ پردہ نشینی اور گھر میں رہنے کو ترجیح دیں۔ کیونکہ فاخرانہ لباس، خوب صورت زیورات اور ظاہری آرائش کی کثرت عورت کو اپنی خوب صورتی کی طرف متوجہ کرتی ہے اور متزین ہو کر باہر نکلنے کی رغبت پیدا ہوسکتی ہے۔ پھر مردوں کی نگاہیں پڑتی ہیں اور دوسری عورتوں کی جانب سے ان کی زینت و اوصاف اپنے شوہروں کے سامنے بیان کیے جانے سے مختلف فتنے اور مفاسد پیدا ہوسکتے ہیں، یہاں تک کہ بسا اوقات معاملہ زنا تک پہنچ جاتا ہے۔
عصرِ حاضر کا ایک قابلِ غور پہلو:
اس حدیث کے مفہوم کا ایک منظر آج ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ زیب و زینت اور آرائش کے لباس و زیورات کا اہتمام بالخصوص گھر سے باہر نکلتے وقت بڑھ گیا ہے، جس کے نتیجے میں معاشرے میں بے پردگی، عریانی اور فحاشی کے دروازے کھل رہے ہیں۔ حالانکہ قرآنِ کریم کا واضح حکم ہے:
لَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ
’’اور اپنی زینت ظاہر نہ کریں مگر اپنے شوہروں کے لیے۔‘‘
اے میری ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں! ذرا غور کیجیے، اللہ تعالیٰ نے آپ کو زینت سے محروم نہیں کیا، بلکہ آپ کی زینت کا ایک پاکیزہ مقام مقرر فرمایا ہے۔ اپنے شوہر کے لیے سنورنا محبت اور حسنِ معاشرت ہے، مگر نامحرموں کے سامنے زینت کی نمائش حیا کے منافی ہے۔ اپنی زینت کو چھپانا محرومی نہیں، عزت ہے؛ پردہ پابندی نہیں، حفاظت ہے۔ اپنی خوب صورتی کو ہر نگاہ کے لیے عام نہ کیجیے، بلکہ اسے اپنے شوہر اور اپنے گھر کی محبت و خوشی کے لیے محفوظ رکھیے۔ یہی حیا ہے، یہی وقار ہے اور یہی مسلمان عورت کا حسن ہے۔
ابو الحسن

