گیارہ سال دو ماہ خدمت میں :
امام الفقہاء حضور مفتئ اعظم ہند قدس سرہٗ کے درس افتاء اور اصلاح فتاویٰ کے متعلق شارح بخاری حضرت علامہ مفتی شریف الحق صاحب علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں۔
میں گیارہ سال ۲ ماه حضور مفتئ اعظم ہند کی خدمت میں حاضر رہا۔ اس مدت میں چوبیس ہزار مسائل لکھے ہیں جن میں کم از کم دس ہزار وہ ہیں جن پر حضرت مفتئ اعظم ہند کی تصحیح و تصدیق ہے۔ عالم یہ ہوتا کہ دن بھر بلکہ بعد مغرب بھی دو گھنٹے تک حاجت مندوں کی بھیٹر رہتی۔ یہ حاجت مند خوشخبری لے کر نہیں آتے ، سب اپنا اپنا دکھڑا سناتے غم آگیں واقعات سننے کے بعد دل و دماغ کا کیا حال ہوتا ہے وہ سب کو معلوم ہے۔ اتنے طویل عرصے تک اس غم آفریں ماحول سے فارغ ہونے کے بعد عشاء بعد پھر تشریف رکھتے اور میں اپنے لکھے ہوئے مسائل سناتا میں گھسا پٹا نہیں، بہت سوچ سمجھ کر، جانچ تول کر مسئلہ لکھتا ، مگر واہ رے مفتئ اعظم ہند، اگر کہیں ذرا بھی غلطی ہے۔ یا لوچ ہے۔ یا بـے ربطی ہے۔ یا تعبیر غیر مناسب ہے۔ یا سوال کے ماحول کے مطابق جواب میں کمی بیشی ہے یا کہیں سے کوئی غلط فہمی کا ذرا بھی اندیشہ ہے فوراً اس پر تنبیہ فرما دیتے۔ اور مناسب اصلاح تنقید آسان ہے مگر اصلاح دشوار۔ جو لکھا گیا ہے وہ نہیں ہونا چاہیے، اسکو کوئی بھی ذہین نقاد کہہ سکتا ہے۔ مگر اسکو بدل کر کیا لکھا جائے یہ جوئے شیر لانے سے کم نہیں ہے مگر ستر سالہ مفتئ اعظم ہند کا دماغ اور علم ایسا جوان تھا کہ تنقید کے بعد فوراً اصلاح فرما دیتے اور ایسی اصلاح کہ پھر قلم ٹوٹ کر رہ جاتا۔
کبھی ایسے جانفزا تبسم کے ساتھ کہ قربان ہونے کا جذبہ حد اضطرار تک پہنچ جائے کبھی ایسے جلال کے ساتھ کہ اعصاب جواب دے جائیں۔ مگر اس جلال کو کون سا نام دیں۔ جس کے بعد مخاطب کی جرأت رندانہ اور بڑھ جاتی۔ کیا کیجئے گا اگر جلال سے مرعوب ہو کر چپ رہتے تو اور جلال بڑھتا۔ بڑھتا ہی رہتا یہاں تک کہ مخاطب کو عرض معروض کرنا ہی پڑتا۔ یہ جلال وہ جلال تھا جو اس کا مورد بنا کندن ہو گیا۔ یہ مجلس آدھی رات سے پہلے کبھی ختم نہ ہوتی۔ بارہا رات کے دو بج جاتے۔ اور رمضان شریف میں سحری کا وقت تو روز ہو جاتا بارہا ایسا ہوتا کہ حکم کی تائید میں کوئی عبارت نہ ملتی تو میں اپنی صوابدید سے حکم لکھ دیتا کبھی دور دراز کی عبارت سے تائید لاتا۔ مگر مفتئ اعظم ہند ان کتابوں کی عبارتیں جو دار الافتاء میں نہ تھیں زبانی لکھوا دیتے۔ میں حیران رہ جاتا ۔ یا ﷲ کبھی کتاب کا مطالعہ کرتے نہیں یہ عبارتیں زبانی کیسے یاد ہیں۔ پیچیدہ سے پیچیدہ دقیق سے دقیق مسائل پر ہدایۃً ایسی تقریر فرماتے کہ معلوم ہوتا تھا اس پر بڑی محنت سے تیاری کی ہے۔ سب جانتے ہیں کہ کلام بہت کم فرماتے مگر جب ضرورت ہوتی تو ایسی بحث فرماتے کہ اجلہ علماء انگشت بدنداں رہ جاتے۔ کسی مسئلہ میں فقہاء کے متعدد اقوال ہیں تو سب دماغ میں ہر وقت حاضر رہتے۔ سب کے دلائل ، وجوہ ترجیح اور قول مختار مفتی بہ پر تیقن اور ان سب اقوال پر اس کی وجہ ترجیح سب ازبر۔ باب نکاح میں ایک مسئلہ ایسا ہے جسکی بہتّر ٧٢ صورتیں ہیں اور کثیر الوقوع بھی ہیں۔ پہلی بار جب میں نے اسکو لکھا سوال مبہم تھا۔
میں نے بیس(۲۰) پچیس(۲۵) شق قائم کر کے چار ورق فل اسکیپ کاغذ پر لکھا جب سنانے بیٹھا تو فرمایا یہ طول طویل شق در شق۔ اور شق در شق جواب کون سمجھ پائیگا پھر اگر لوگ ناخدا ترس ہوئے تو جو شق اپنے مطلب کی ہوگی اس کے مطابق واقعہ بنالیں گے۔ آج ہندوستان میں یہ صورت رائج ہے اسی کے مطابق حکم لکھ کر بھیجیں یہ قید لگا کر آپ کے یہاں یہی صورت تھی تو حکم یہ ہے“
یہ جواب فل اسکیپ کے آدھے ورق سے بھی کم پر مع تائیدات آ گیا۔ اس واقعہ نے بتایا کہ کتب بینی سے علم حاصل کر لینا اور بات ہے اور فتوی لکھنا اور بات۔
(مفتئ اعظم اور ان کے خلفاء ص ۵۲ تا ۵۴)
—
”ہوئے انگشت بدنداں حضرت مفتی شریف الحق
•
یہ علمِ فقہ میں تیری بصارت مفتئ اعظم“

