Articles

حضرت سیدنا غوث الاعظم شیخ عبد القادر جیلانی علیہ الرحمہ کی سوانح و سیرت

تعارف:

حضرت سیدنا غوث الاعظم شیخ عبد القادر جیلانی علیہ الرحمہ علمِ ظاہری و باطنی کے متبحر عالم، مرجعِ اولیاء اور سلسلۂ قادریہ کے بانی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وہ مقبولیت و وجاہت عطا فرمائی جو بڑے بڑے بادشاہوں کو بھی نصیب نہ ہو سکی۔ ابن قدامہ فرماتے ہیں کہ میں نے آپ سے بڑھ کر کسی شخص کی دین کی وجہ سے تعظیم ہوتے نہیں دیکھی۔ تمام علمائے عراق بلکہ دنیا بھر کے طلب گارانِ حال و قال آپ ہی کے مرجع و وسیلہ تھے۔

نام و نسب:

آپ نجیب الطرفین سید ہیں۔ آپ کا شجرہ نسب والد صاحب کی طرف سے گیارہویں پشت میں حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ اور والدہ صاحبہ کی طرف سے چودہویں پشت میں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے۔

سلسلہ نسب (والدی):

ابو محمد عبد القادر بن ابو صالح موسى بن عبد الله بن يحيى الزاهد بن محمد بن داود بن موسی بن عبد الله بن موسى الجون بن عبد الله محض بن حسن مثنى بن حسن بن امیر المومنین علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ۔

ولادت اور بچپن:

آپ ۴۷۰ھ میں ایران کے شمال مغربی صوبے “جیلان” (جسے گیلان بھی کہا جاتا ہے) میں پیدا ہوئے۔ آپ نے ابتدائی پرورش اپنے مذہبی اور بابرکت خاندانی ماحول میں پائی۔

تحصیلِ علم اور تربیت

۱۸ سال کی عمر میں (غالباً ۴۸۸ھ میں) آپ بغداد تشریف لائے اور پوری عالی ہمتی کے ساتھ تحصیلِ علم میں مشغول ہو گئے۔

اساتذہ:

آپ نے ہر علم اس کے باکمال اساتذہ سے حاصل کیا۔ آپ کے اساتذہ میں ابو الوفاء، ابن عقیل، محمد بن الحسن الباقلانی اور ابو زکریا تبریزی جیسے نامور علماء شامل ہیں۔

طریقت و سلوک:

آپ نے طریقت کی تعلیم شیخ ابو الخیر حماد بن مسلم الدباس سے حاصل کی، اور اس کی تکمیل و اجازت قاضی ابو سعید مخرمی سے حاصل فرمائی۔

علم و فضل اور فتویٰ نویسی:

آپ ظاہری و باطنی علوم کے سمندر تھے۔ دنیا کے ہر گوشے سے آپ کے پاس فتوے آیا کرتے تھے جن کا جواب آپ بغیر مطالعہ کتب اور بغیر کسی تاخیر کے فوراً تحریر فرما دیتے تھے، اور کسی بڑے سے بڑے عالم کو آپ کے جواب سے اختلاف کی جرات نہ ہوتی تھی۔

ایک بار آپ کی مجلس میں قاری نے قرآن کی ایک آیت پڑھی، تو آپ نے اس کے معانی بیان کرنا شروع کیے؛ حاضرین کے علم کے مطابق ۱۱ تفاسیر بیان فرمائیں، پھر بات بڑھاتے ہوئے ۴۰ مختلف وجوہات اور تفاسیر سند اور دلیل کے ساتھ بیان کیں کہ تمام حاضرین دم بخود رہ گئے۔

تدریس، وعظ و نصیحت:

علوم کی تکمیل کے بعد آپ نے اپنے شیخ و استاذ قاضی ابو سعید مخرمی کے مدرسے میں تدریس اور وعظ کا سلسلہ شروع فرمایا۔

خواب کی بشارت:

آپ فرماتے ہیں کہ ابتدائی زمانے میں سرورِ عالم ﷺ اور حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم نے مجھے خواب میں وعظ کا حکم دیا اور میرے منہ میں اپنا لعابِ دہن لگایا، جس سے مجھ پر ابوابِ سخن کھل گئے۔

مجلس کا عالم:

آپ کی مجلس میں سارا بغداد امڈ آتا تھا، تل دھرنے کی جگہ نہ رہتی۔ علماء، فقہاء، اولیاء، بادشاہ اور وزراء نہایت نیاز مندی سے حاضر ہوتے۔ آپ کی مجلسِ وعظ میں ۴۰۰ افراد قلم دوات لے کر بیٹھتے اور آپ کی نصائح و ارشادات قلمبند کرتے تھے۔

اخلاق و عادات:

سخاوت:

آپ انتہائی فراخ دست تھے۔ بھوکوں کو کھانا کھلانے اور ضرورت مندوں پر بے دریغ خرچ کرنے کا خاص ذوق تھا۔ فرمایا کرتے: “ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میری ہتھیلی میں سوراخ ہے، کوئی چیز اس میں ٹھہرتی نہیں۔” رات کو وسیع دستر خوان بچھانے کا حکم رہتا تھا۔

انکساری و اخلاق:

آپ حد درجہ متواضع تھے۔ فقراء و مساکین کے پاس بیٹھتے، ان کے کپڑے صاف کرتے۔ اگر کوئی بچہ بھی بات کرتا تو کھڑے ہو کر سنتے۔ سلام میں پہل فرماتے، طلباء کی لغزشوں سے درگزر کرتے اور ہر ایک سے خندہ پیشانی سے ملتے۔

استغنا:

جب کوئی بادشاہ یا معزز آدمی آتا تو آپ قصداً گھر کے اندر تشریف لے جاتے اور اس کے بیٹھنے کے بعد باہر آتے تاکہ اس کی تعظیم کے لیے کھڑا نہ ہونا پڑے۔

عبادت و رقتِ قلب:

آپ مستجاب الدعوات، رقیق القلب اور ذکر و فکر میں مشغول رہنے والے تھے۔ عبرت کی بات سنتے ہی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے۔

شائل و خصائل (مبارک حلیہ):

آپ نحیف البدن، میانہ قد، کشادہ سینہ، لمبی داڑھی، گندمی رنگ اور پیوستہ ابرو کے مالک تھے۔ آپ کی آواز بلند اور بااثر تھی۔

صوتی کرامت:

یہ آپ کی کرامت تھی کہ مجلس میں قریب و بعید بیٹھنے والے تمام لوگ بغیر کسی تفاوت کے آپ کی آواز باآسانی اور یکساں طور پر سن لیتے تھے۔

رعب و ہیبت:

آپ کے کلام میں وہ تیزی اور دبدبہ تھا کہ سنتے ہی لوگوں پر خاموشی چھا جاتی۔ کسی سخت دل پر بھی آپ کی نظرِ کرم پڑتی تو وہ عاجزی و اطاعت کا مجسمہ بن جاتا۔ جب آپ جامع مسجد تشریف لاتے تو تمام مخلوق دعا کے لیے ہاتھ اٹھا لیتی۔

(ماخوذ از: اخبار الاخبار، از شیخ عبد الحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ)

محمد جواد الحسن عباسی

متعلم: درجۂ سابعہ

حبیبیہ اسلامک اکیڈمی مقبول آباد سوسائٹی کراچی

Views: 1
keyboard_arrow_up