شیخ الحدیث علامہ منظور احمد فیضی علیہ الرحمہ (یوم وصال، یکم جمادی الاخری ،1427ھ ) یقینا بہت جید عالم دین تھے۔۔ہمارے اکابرین کے وارث اور ہزاروں علماء کے استاذ تھے – مصنف، مدرس، محدث، مفسر، خطیب، مناظر اور کئ خوبیوں کے مالک تھے۔۔۔۔۔ولی را ولی می شناسد۔ ولی ہی ولی کو پہچانتا ہے۔۔شیخ الحدیث علامہ منظور احمد فیضی علیہ الرحمہ نے وصیت کی تھی کہ میرا جنازہ علامہ سید شاہ تراب الحق قادری علیہ الرحمہ پڑھائیں ۔۔
میں درجہ خامسہ کا طالب علم تھا اور بعد ظہر تا رات دس بجے قبلہ شاہ صاحب علیہ الرحمہ کی خدمت میں رہتا تھا ۔۔
اپنے پیر و مرشد علامہ سید شاہ تراب الحق قادری علیہ الرحمہ کی امامت میں جنازہ ادا کیا۔ مجھے اس نسبت پر بہت فخر محسوس ہوا کہ ایسے جید عالم اور ماہر شیخ الحدیث نے ہزاروں علماء میں سے میرے پیر و مرشد کا انتخاب کیا۔۔
جنازہ سے پہلے حضرت نے مجھے میری تربیت کے لئے فتاوی رضویہ میں چند مسائل تلاش کرنے دئے۔۔1) جنازے میں تکرار ہوسکتی ہے؟ 2) کراچی میں اگر میت کے اولیاء جنازہ ادا کرلیں تو کیا احمدپور شرقیہ میں دوسرا جنازہ ہوسکتا ہے؟ 3) اگر قبلہ شیخ الحدیث کے صاحبزادے یہاں جنازہ ادا نہ کریں تو کیا احمد پور شرقیہ میں جنازہ کی امامت کرسکتے ہیں؟؟ یہ سب مسائل میں نے تلاش کرکے قبلہ شاہ صاحب علیہ الرحمہ کو سنائے، حضرت تو جوابات جانتے ہی تھے، بس میری تربیت اور نئ فتاویٰ رضویہ میں ریفرنس لگانا مقصود تھا ۔۔مجھے حکم دیا ہے کہ یہ اہم مسئلہ ہے آپ اپنی یادداشت کے لئے حوالہ ڈائری میں نوٹ کرلیں۔۔
اپنے پیر و مرشد ہی کے طفیل قبلہ شیخ الحدیث علامہ منظور احمد فیضی علیہ الرحمہ سے شرف دست بوسی ملا۔۔
ایک موقع النساء کلب، گلشن اقبال کراچی میں ماہانہ درس قرآن کی تقریب، جس کی صدارت علامہ پیر و مرشد علامہ سید شاہ تراب الحق قادری علیہ الرحمہ نے فرمائ اور قبلہ شیخ الحدیث علیہ الرحمہ نے شاہ صاحب علیہ الرحمہ کے کہنے پر درس قرآن دیا ۔
دوسرا موقع میمن مسجد مصلح الدین گارڈن کراچی میں سید الشہداء حضرت امیر حمزہ رضی الله عنہ کی یاد میں روحانی محفل قصیدہ بردہ شریف جس میں حضرت شیخ الحدیث علیہ الرحمہ نے بیان فرمایا اور پیر و مرشد نے صدارت فرمائ۔
یہ عظیم لوگ تھے اور دین و ملت کے لئے عظیم کام کرگئے۔۔۔اپنی ذات میں تنہا تھے مگر جس محفل میں جاتے وہاں کے میر مجلس اور اور اس انجمن کی شمع اور جان بن جاتے ۔۔ہزاروں لوگوں کی زندگی میں انقلاب پیدا کرگئے۔
الله تعالیٰ ہمارے ان دونوں بزرگوں پر ان گنت رحمتیں نازل فرمائے۔۔اور ان کے صدقے ہمیں ان کے مشن پر گامزن رکھے۔۔آمین
مفتی عبدالرحمن قادری
ملاوی وسطی افریقہ

