عقیدۂ ختمِ نبوت: قرآن، سنت اور اجماعِ امت کی روشنی میں
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علی سید المرسلین، خاتم النبیین، نبینا محمد، وعلی آلہ وأصحابہ أجمعین۔
عقیدۂ ختمِ نبوت اسلام کے ان قطعی اور بنیادی عقائد میں سے ہے جو نصِ قطعی، سنتِ متواترہ اور اجماعِ امت سے ثابت ہیں۔ یہ کوئی فروعی یا اجتہادی مسئلہ نہیں، بلکہ ضروریاتِ دین میں سے ہے۔ چودہ صدیوں سے امتِ مسلمہ کا اس پر اتفاق چلا آرہا ہے کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں، آپ ﷺ کے بعد کسی بھی قسم کی نبوت ممکن نہیں، خواہ اسے مستقل کہا جائے یا غیر مستقل، تشریعی کہا جائے یا غیر تشریعی۔
ختمِ نبوت کا قرآنی ثبوت
اس عقیدے کی اصل بنیاد اللہ تعالیٰ کا یہ قطعی ارشاد ہے:
﴿مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَٰكِن رَّسُولَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ﴾
(سورۃ الأحزاب:پارہ نمبر (22)آیت ( 40)
محمدﷺ تمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں ہاں اللہ کے رسول ہے اور سب نبیوں میں پچھلے .
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضور اکرم ﷺ کو “خاتم النبیین” فرمایا۔ مفسرینِ کرام، مثلاً امام طبری، امام قرطبی، امام فخر الدین رازی، امام ابن کثیر، علامہ آلوسی اور دیگر ائمہ نے اس آیت کی تفسیر میں یہی بیان کیا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ یہی مفہوم صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے بھی منقول ہے۔
قرآنِ مجید ہی میں ارشاد ہوتا ہے:
﴿اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا﴾
(سورۃ المائدہ: پارہ(6) آیت نمبر (3)
آج میں نے تمہارے لیئے تمہارا دین کامل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لیئے اسلام کو دین پسندکیا .
جب دین کامل ہوگیا، شریعت مکمل ہوگئی اور نعمت تمام ہوگئی، تو اب کسی نئی نبوت یا نئی وحی کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ ختمِ نبوت درحقیقت اکمالِ دین کا لازمی تقاضا ہے۔
احادیثِ نبویہ سے ثبوت
قرآن کے بعد سنتِ نبوی اس عقیدے کو نہایت صراحت کے ساتھ بیان کرتی ہے۔
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا:
«أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى، إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي»
“تمہیں مجھ سے وہی نسبت ہے جو ہارون کو موسیٰ سے تھی، مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں۔”
(صحیح بخاری)، حدیث نمبر (4416)صحیح مسلم)حدیث نمبر (6217)
یہ حدیث اپنے الفاظ میں نہایت واضح اور قطعی ہے، جس میں کسی تاویل کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایک ایسی عمارت کی ہے جس کی ایک اینٹ باقی تھی، میں وہ آخری اینٹ ہوں، اور میں خاتم النبیین ہوں۔”
(صحیح بخاری حدیث نمبر(3535) کتاب المناقب، صحیح مسلم)حدیث نمبر (2286)(5674)
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“میری امت میں تیس جھوٹے دجال پیدا ہوں گے، ہر ایک یہ دعویٰ کرے گا کہ وہ نبی ہے، حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔”
(سنن ابوداؤد،حدیث نمبر(4252)صفحہ نمبر(666): جامع ترمذی حدیث نمبر (4252)کتاب فتن،
یہ احادیث اپنے مجموعی مفہوم میں تواترِ معنوی کے درجے کو پہنچتی ہیں، اور علمائے امت نے انہیں ختمِ نبوت کی قطعی دلیل قرار دیا ہے۔
اجماعِ صحابہ اور امت
رسول اللہ ﷺ کے وصال کے بعد جب مسیلمہ کذاب، اسود عنسی اور دیگر جھوٹے مدعیانِ نبوت سامنے آئے تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور تمام صحابۂ کرام نے ان کے خلاف جہاد کیا۔ اگر ختمِ نبوت قطعی عقیدہ نہ ہوتا تو اس پر پوری امت کا اس درجے کا اتفاق اور اقدام ممکن نہ تھا۔
امام قاضی عیاض رحمہ اللہ الشفا میں، امام نووی رحمہ اللہ شرح صحیح مسلم میں، حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فتح الباری میں، اور دیگر اکابر ائمہ نے تصریح فرمائی ہے کہ حضور اکرم ﷺ کے بعد نبوت کا امکان ماننا نصوصِ شرعیہ کے خلاف ہے۔
اہلِ سنت و جماعت کا موقف
اہلِ سنت و جماعت کا متفقہ عقیدہ یہ ہے کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ خاتم النبیین ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد کسی بھی قسم کی نبوت کا دعویٰ یا اس کے امکان کا اعتقاد قرآن، سنت اور اجماعِ امت کے خلاف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علمائے امت نے ختمِ نبوت کے انکار کو نہایت سنگین دینی مسئلہ قرار دیا ہے، کیونکہ یہ عقیدہ براہِ راست نصوصِ قطعیہ سے متعلق ہے۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمہ اللہ نے ختمِ نبوت کے تحفظ کو ایمان کی بنیاد قرار دیتے ہوئے اس موضوع پر متعدد علمی رسائل تحریر فرمائے اور واضح کیا کہ حضور سیدِ عالم ﷺ کی ختمِ نبوت پر غیر متزلزل ایمان، ایمانِ کامل کا تقاضا ہے۔
خاتمہ
عقیدۂ ختمِ نبوت صرف ایک اعتقادی مسئلہ نہیں بلکہ دینِ اسلام کی عمارت کا بنیادی ستون ہے۔ قرآنِ مجید کی نصوص، احادیثِ صحیحہ، اجماعِ صحابہ، اجماعِ امت اور ائمۂ اسلام کی تصریحات اس حقیقت پر شاہد ہیں کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں، آپ ﷺ کے بعد نہ کوئی نبی آیا ہے، نہ آسکتا ہے اور نہ قیامت تک آئے گا۔ اسی عقیدے کی حفاظت درحقیقت دینِ اسلام کی حفاظت ہے، اور یہی عقیدہ امتِ مسلمہ کی وحدت، شناخت اور ایمانی اساس ہے۔
وَصَلَّى اللّٰهُ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ أَجْمَعِينَ۔
کتبہ :
شاھنواز باران قادری ،
متعلم دورةالحدیث حبیبیہ اسلامک اکیڈمی مقبول آباد کراچی

