حقیقتِ میلادِ شریف عہدِ رسالتِ مآب ﷺ اور عہدِ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم میں موجود تھی، اگرچہ اس کے لیے ’’میلاد‘‘ کی اصطلاح اس زمانے میں مروج نہ تھی۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم مجالسِ وعظ و تعلیم میں فضائلِ نبویہ ﷺ اور کیفیتِ ولادتِ احمدیہ ﷺ کا ذکر فرمایا کرتے تھے، بلکہ محفل کی صورت میں ذکرِ ولادتِ مصطفیٰ ﷺ اور اس پر اظہارِ مسرت و شکر بھی ثابت ہے۔
اس کی روشن دلیل صحیح مسلم اور دیگر کتبِ حدیث میں منقول حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی وہ حدیث ہے جس میں آپ ایک حلقۂ ذکر کے پاس سے گزرے اور دریافت فرمایا:
تمہیں کس چیز نے یہاں بٹھا رکھا ہے؟
انہوں نے عرض کیا: ہم اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے اور اس کی نعمتوں پر شکر ادا کرنے کے لیے بیٹھے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے بھی ایک موقع پر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے حلقے سے یہی سوال فرمایا، تو انہوں نے عرض کیا:
«نَذْكُرُ اللَّهَ وَنَحْمَدُهُ عَلَى مَا هَدَانَا لِلْإِسْلَامِ، وَمَنَّ بِهِ عَلَيْنَا»
ہم اللہ کا ذکر کرتے ہیں اور اس بات پر اس کی حمد کرتے ہیں کہ اس نے ہمیں اسلام کی ہدایت عطا فرمائی اور اس کے ذریعے ہم پر احسان فرمایا۔
جبکہ سنن نسائی کی روایت میں الفاظ ہیں:
«وَمَنَّ عَلَيْنَا بِكَ»
یعنی: اے رسول اللہ ﷺ! اللہ تعالیٰ نے آپ کے ذریعے ہم پر احسان فرمایا۔
حضور اکرم ﷺ نے ان کے اس اجتماع کو برقرار رکھتے ہوئے فرمایا کہ جبریل علیہ السلام آئے اور خبر دی کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ذریعے فرشتوں کے سامنے فخر فرما رہا ہے۔
ذرا ان الفاظ پر غور کیجیے!
«وَمَنَّ عَلَيْنَا بِكَ»
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم ایک مجلس میں جمع ہیں، اللہ تعالیٰ کا ذکر کر رہے ہیں، اس کی حمد بجا لا رہے ہیں اور رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت قرار دے کر اس نعمت پر شکر ادا کر رہے ہیں۔
آج محافلِ میلاد میں بھی اسی نعمت کا ذکر اور اسی پر شکر کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کے صدقے ہمیں اسلام و ایمان کی دولت عطا فرمائی۔
میرے امام نے کیا خوب فرمایا:
اور تم پر مِرے آقا کی عنایت نہ سہی
نجدیو! کلمہ پڑھانے کا بھی احسان گیا
اسی حقیقت کی ایک نہایت روشن مثال صحابیِ رسول حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہما کا وہ کلام بھی ہے جو انہوں نے بارگاہِ رسالت ﷺ میں حضور اکرم ﷺ کی مدح و نعت کے طور پر عرض کیا:
وَاَنْتَ لَمَّا وُلِدْتَ اَشْرَقَتِ
الْاَرْضُ وَضَائَتْ بِنُورِکَ الْاُفُقُ
فَنَحْنُ فِي الضِّيَاءِ وَفِي
النُّوْرِ وَسُبُلُ الرَّشَادِ نَخْتَرِقُ
یعنی: آپ وہ ذات ہیں کہ جب آپ کی ولادتِ باسعادت ہوئی تو آپ کے نور سے زمین جگمگا اٹھی اور آپ کے نور سے افقِ عالم روشن ہوگیا؛ پس ہم آپ ہی کے نور و روشنی میں ہدایت کی راہوں پر گامزن ہیں۔
(المعجم الکبیر للطبرانی، رقم الحدیث: 4168)
یہ صحابیِ رسول رضی اللہ عنہ کی زبان سے ولادتِ مصطفیٰ ﷺ کا ذکر، اس پر اظہارِ مسرت اور آپ ﷺ کے نور و ہدایت کا تذکرہ ہے۔
ربیع الاول کی تخصیص — مناسبت کے طور پر
یہاں یہ اصولی بات بھی پیشِ نظر رہے کہ ماہِ ربیع الاول شریف میں ذکرِ میلاد کے لیے ایام کی تخصیص زیادہ مناسب ہے؛ کیونکہ اسی ماہِ مبارک میں حضور سیدِ عالم ﷺ اس عالم میں رونق افروز ہوئے۔ اسی مناسبت سے حضور اقدس ﷺ پیر کے دن روزہ رکھتے اور اس کی وجہ ارشاد فرماتے:
«فِيهِ وُلِدْتُ، وَفِيهِ أُنْزِلَ عَلَيَّ»
یعنی: اسی دن میری ولادت ہوئی اور اسی دن مجھ پر وحی نازل ہوئی۔
لہٰذا ربیع الاول کی تخصیص مناسبت کی بنا پر ہے، وجوب یا حصر کی بنا پر نہیں۔ یعنی یہ نہیں کہ میلاد صرف ربیع الاول ہی میں ہوسکتا ہے یا دوسرے ایام میں جائز نہیں؛ بلکہ اس ماہ کو ولادتِ مصطفیٰ ﷺ کی نسبت سے خصوصی شرف و مناسبت حاصل ہے۔
اسی اصولی نکتے کو امامِ اہلِ سنت رحمہ اللہ نے نہایت جامع انداز میں فرمایا: یہ تخصیصات بوجہ مناسبات ہیں، ہاں تخصیص بمعنی توقف کہ اور دن ہو ہی نہ سکے یا بمعنی وجوبِ شرعی کہ اس دن ہونا شرعاً لازم اور دوسرے دن ناجائز ہو، ضرور باطل ہے، مگر وہ ہرگز کسی کے ذہن میں نہیں، کوئی جاہل سا جاہل بھی ایسا خیال نہیں کرتا۔‘‘
خلاصہ یہ کہ محض اس بنیاد پر کہ ’’میلاد‘‘ کی یہ اصطلاح عہدِ صحابہ میں مروج نہ تھی، اس کی حقیقت کا انکار علمی اصول کے خلاف ہے؛ کیونکہ شریعت میں اعتبار صرف نام کا نہیں، بلکہ حقیقت و مضمون کا بھی ہوتا ہے۔
میلاد کا نام اگر بعد میں معروف ہوا تو کیا ہوا، اس کی حقیقت—ذکرِ ولادتِ مصطفیٰ ﷺ، اظہارِ محبت و مسرت اور نعمتِ مصطفیٰ ﷺ پر حمد و شکر—عہدِ نبوی ﷺ ہی سے ثابت و موجود ہے۔
ابو الحسن

