Articles

راستے سے تکلیف دہ چیزوں کو ہٹانا۔۔۔!

اس عمل کو کبھی معمولی نہ سمجھنا۔۔۔

انسان بعض اوقات نیکی کے لیے بہت بڑے مواقع تلاش کرتا رہتا ہے۔۔۔ اسے لگتا ہے کہ شاید جب بہت سا مال ہوگا تو صدقہ کروں گا۔۔۔ جب کوئی بڑا مقام ملے گا تو دین کا کام کروں گا۔۔۔ جب میرے پاس وقت ہوگا تو کسی کے کام آؤں گا۔۔۔

اور وہ یہ نہیں دیکھتا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے راستے میں کتنی چھوٹی چھوٹی نیکیاں بکھیر رکھی ہیں۔۔۔

رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے فرمایا:

«لَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوفِ شَيْئًا، وَلَوْ أَنْ تَلْقَى أَخَاكَ بِوَجْهٍ طَلْقٍ»

“کسی نیکی کو ہرگز معمولی نہ سمجھو، خواہ تم اپنے بھائی سے کشادہ اور مسکراتے ہوئے چہرے کے ساتھ ہی ملو۔”

دیکھو۔۔۔

مسکرانا بھی نیکی ہے۔۔۔

اچھی بات کہنا بھی نیکی ہے۔۔۔

کسی کے دل کو سہارا دینا بھی نیکی ہے۔۔۔

اور کسی کے راستے سے ایسی چیز ہٹا دینا جو اسے تکلیف پہنچا سکتی ہے، یہ بھی نیکی ہے۔۔۔

پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ آپ ﷺ کے سامنے آپ کی امت کے اچھے اور برے اعمال پیش کیے گئے تو آپ ﷺ نے اچھے اعمال میں راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانے کو بھی پایا۔

اور ایک دوسری حدیث میں فرمایا:

«الإِيمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ شُعْبَةً … وَأَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ»

“ایمان کی ستر سے کچھ اوپر شاخیں ہیں۔۔۔ ان میں سب سے افضل لا إله إلا الله کہنا ہے، اور ان میں ادنیٰ شاخ راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دینا ہے، اور حیا بھی ایمان کی ایک شاخ ہے۔”

غور کریں۔۔۔

رسول اللہ ﷺ نے اسے صرف ایک سماجی خدمت نہیں فرمایا۔۔۔

اسے ایمان کی شاخ فرمایا۔۔۔

یہ اسلام کی ہی خوبصورتی ہے۔۔۔

یہ دین ہمیں ہر جگہ، مسجد میں بھی اللہ کا بندہ بناتا ہے اور راستے پر چلتے ہوئے بھی۔۔۔

تم نماز پڑھ رہے ہو تو اللہ کے بندے ہو۔۔۔

تم قرآن پڑھ رہے ہو تو اللہ کے بندے ہو۔۔۔

اور تم راستے سے ایک پتھر، کانٹا، شیشہ یا کوئی ایسی چیز اٹھا رہے ہو جس سے کسی انسان کو تکلیف ہوسکتی ہے، تب بھی تم اللہ کے بندے ہو۔۔۔

کیونکہ مومن صرف یہ نہیں دیکھتا کہ مجھے کیا فائدہ ہوگا۔۔۔

وہ یہ بھی دیکھتا ہے کہ میرے سبب کسی دوسرے انسان کو نقصان تو نہیں پہنچ رہا کیونکہ ہمارے حضورﷺ نے فرما: “لوگوں میں بہتر وہ ہے جو انکے لیے زیادہ نفع بخش ہے”۔۔۔

پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«وَتُمِيطُ الأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ»

“راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹا دینا بھی صدقہ ہے۔”

اب ذرا سوچیں۔۔۔

صدقہ صرف وہ نہیں جو جیب سے نکلے۔۔۔

کبھی صدقہ تمہاری زبان سے نکلتا ہے۔۔۔

کبھی تمہاری مسکراہٹ سے۔۔۔

کبھی تمہارے ہاتھ سے۔۔۔

اور کبھی صرف اتنا ہوتا ہے کہ تم نے راستے میں پڑی ایک تکلیف دہ چیز اٹھا کر ایک طرف رکھ دی۔۔۔

تم آگے بڑھ گئے۔۔۔

کسی نے دیکھا بھی نہیں۔۔۔

کسی نے شکریہ بھی ادا نہیں کیا۔۔۔

کسی نے تمہارا نام نہیں پوچھا۔۔۔

لیکن اعمال نامے پر اسے لکھ لیا گیا۔۔۔

یہی اخلاص کی ایک خوبصورت صورت ہے۔۔۔

وہ نیکی جس کے لیے تمہیں کوئی دیکھنے والا نہ ہو نہ تمھارا بظاہر اس میں کوئی دنیاوی فائدہ ہو۔۔۔

وہ نیکی جو تم نے صرف اس لیے کی کہ اللہ کے کسی بندے کو تکلیف نہ پہنچے۔۔۔

اور اس سے بھی بڑھ کر سنو۔۔۔

رسول اللہ ﷺ نے ایک ایسے شخص کا ذکر فرمایا جس نے راستے میں کانٹوں بھری ایک شاخ دیکھی۔۔۔

اس نے اسے راستے سے ہٹا دیا۔۔۔

اللہ تعالیٰ نے اس کے اس عمل کو قبول فرمایا (اس کی قدر کی) اور اس کی مغفرت فرما دی۔۔۔

ذرا رک کر سوچیں۔۔۔

ایک بس چھوٹی سی شاخ۔۔۔

بظاہر ایک معمولی سا عمل۔۔۔

کوئی بڑی ریاضتیں نہیں۔۔۔

کوئی بڑے چلّے نہیں۔۔۔

کوئی محنت و مشقت بھی نہیں۔۔۔

کوئی شہرت بھی نہیں۔۔۔

بس دل میں احساس تھا جس کی بنا پر راستے میں ایک تکلیف دہ چیز دیکھی اور دل نے کہا:

“اس سے کسی کو تکلیف ہوسکتی ہے۔”

اور ہاتھ آگے بڑھ گیا۔۔۔

یہی تو مومن کا دل ہے۔۔۔

وہ دوسروں کے لیے آسانیاں تلاش کرتا ہے۔۔۔

وہ دیکھتا ہے کہ کہاں کسی کو تکلیف ہوسکتی ہے اور خاموشی سے اس تکلیف کو دور کردیتا ہے۔۔۔

اور کبھی یہی ایک چھوٹا سا عمل اللہ کے ہاں اتنا بڑا ہوجاتا ہے کہ بندے کی مغفرت کا سبب بن جاتا ہے۔۔۔

پس نیکی کو کبھی اس لیے مت چھوڑ دینا کہ وہ تمہیں چھوٹی دکھائی دیتی ہے۔۔۔

تمہیں معلوم نہیں تمہاری کون سی نیکی اللہ تعالیٰ کو پسند آجائے۔۔۔

ہوسکتا ہے کسی راہگیر کو ایک گلاس پانی پلا دینا۔۔۔

ہوسکتا ہے کسی کی طرف مسکراہٹ سے دیکھنا۔۔۔

ہوسکتا ہے کسی پریشان انسان کے کندھے پر رکھا ہوا ہاتھ۔۔۔

یا اسے صرف سن لینا۔۔۔

تسلی دے دینا۔۔۔

ہوسکتا ہے کسی یتیم کے سر پر پھیرے ہوئے ہاتھ۔۔۔

ہوسکتا ہے کسی کی غلطی معاف کردینا۔۔۔

ہوسکتا ہے راستے سے اٹھایا ہوا ایک کانٹا۔۔۔

اور ہوسکتا ہے وہ نیکی جسے تم نے اتنا معمولی سمجھا اور گھر پہنچ کر بھول بھی گئے، اللہ تعالیٰ کے ہاں تمہارے لیے محفوظ ہوگئی ہو۔۔۔

اسی لیے نیکی کے مواقع تلاش کیا کرو۔۔۔

اور یہ مت کہا کرو:

“میں کیا کرسکتا ہوں؟”

تم بہت کچھ کرسکتے ہو۔۔۔

اپنی زبان سے خیر بھکیر سکتے ہو۔۔۔

اپنے ہاتھ سے خیر بھکیر سکتے ہو۔۔۔

اپنے مال سے خیر کر سکتے ہو۔۔۔

اپنے وقت سے خیر کرسکتے ہو۔۔۔

مومن کی نگاہ صرف بڑے کاموں پر نہیں ہوتی۔۔۔

وہ چھوٹی نیکیوں کو بھی اللہ کی طرف سے بھیجے ہوئے مواقع اور تحفے سمجھتا ہے۔۔۔

وہ جانتا ہے کہ نیکی کا وزن اس کے حجم سے نہیں، اللہ کے ہاں اس کی قبولیت سے ہوتا ہے۔۔۔

اور یاد رکھو۔۔۔

جس طرح راستے سے پتھر ہٹانا نیکی ہے، اسی طرح کسی انسان کے راستے میں پتھر رکھ دینا ظلم بھی ہے۔۔۔

جس طرح زبان سے اچھی بات کہنا صدقہ ہے، اسی طرح کسی کا دل توڑنے والی بات بھی اپنے اثرات چھوڑتی ہے۔۔۔

اس لیے صرف یہ نہ دیکھو کہ میں نے آج کتنی نیکیاں کیں۔۔۔

یہ بھی دیکھو کہ میرے سبب آج کتنے لوگ تکلیف سے محفوظ رہے۔۔۔

میری زبان سے کتنے لوگ محفوظ رہے۔۔۔

میرے ہاتھ سے کتنے لوگ محفوظ رہے۔۔۔

میرے رویے سے کتنے دل محفوظ رہے۔۔۔

اور میرے گزرنے کے بعد دنیا میں کچھ آسانی باقی رہی یا کچھ اور اذیت؟

یہی تو رسول اللہ ﷺ کی تربیت ہے۔۔۔

مومن وہ ہے جس کے وجود سے خیر پھیلے۔۔۔

جس کے گزرنے سے راستے تک محفوظ اور آسان ہوجائیں۔۔۔

جس کی زبان سے دل آباد ہوں۔۔۔

جس کے ہاتھ سے مخلوق محفوظ ہو۔۔۔

اور جس کی چھوٹی سے چھوٹی نیکی بھی اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہو۔۔۔

لہٰذا آج سے راستے پر چلتے ہوئے ذرا نگاہ جھکا کر بھی دیکھنا۔۔۔

کوئی کانٹا ہو تو ہٹا دینا۔۔۔

کوئی پتھر ہو تو ایک طرف کردینا۔۔۔

کوئی شیشہ پڑا ہو تو دوسروں کو اس سے بچا دینا۔۔۔

کسی کو تمہاری مسکراہٹ کی ضرورت ہو تو اسکے سامنے مسکرا دینا۔۔۔

کسی کو اچھی بات کی ضرورت ہو تو اچھی بات کہہ دینا۔۔۔

اور پھر آگے بڑھ جانا۔۔۔

نہ کسی سے صلہ مانگنا۔۔۔

نہ تعریف۔۔۔

نہ شکریہ۔۔۔

بھول جانا۔۔۔

بس دل میں کہنا:

“یا اللہ! تیرے ایک بندے کو تکلیف سے بچانے کے لیے میں نے یہ تیرے لیے کیا ہے۔۔۔ تو اسے میرے لیے اپنی رضا کا ذریعہ بنا دے۔”

کون جانے۔۔۔

شاید وہی چھوٹی سی نیکی، جسے دنیا نے دیکھا تک نہیں، قیامت کے دن تمہاری سب سے بڑی امید بن کر تمہارے سامنے کھڑی ہو۔۔۔

اور شاید اللہ تعالیٰ فرمائے:

“میرے بندے! دنیا میں تم نے میرے بندوں کے راستے سے ایک تکلیف ہٹائی تھی۔۔۔ آج میں تمہارے راستے کی تکلیفیں ہٹا دیتا ہوں۔”

پس نیکی کو کبھی چھوٹا نہ سمجھو۔۔۔

کیوں ؟ کیونکہ

ہمیں نیکی کا حجم تو معلوم ہے۔۔۔

مگر اسکی قبولیت کا مقام نہیں معلوم۔۔۔!

محمد جواد الحسن عباسی

متعلم درجہ سابعہ

جامعہ حبیبیہ اسلامک اکیڈمی مقبول آباد سوسائٹی کراچی

Views: 1
keyboard_arrow_up