Articles

واقعۂ کربلا اور ادبِ اہلِ بیت (فتاویٰ رضویہ کی روشنی میں)

اہلِ سنت و جماعت کے نزدیک اہلِ بیتِ اطہار رضی اللہ عنہم کی محبت، تعظیم اور ادب ایمان کے اہم تقاضوں میں سے ہیں۔ اسی لیے واقعۂ کربلا کے بیان میں بھی ایسے اسلوب سے اجتناب کیا جاتا ہے جس سے اہلِ بیتِ کرام کی شانِ اقدس کے خلاف کوئی پہلو نکلتا ہو۔ اس حوالے سے امامِ اہلِ سنت علیہ الرحمہ کے درج ذیل ارشادات قابلِ توجہ ہیں۔

امامِ اہلِ سنت علیہ الرحمہ سے سوال ہوا کہ ایک آدمی نے وعظ میں امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق زیادتی کرتے ہوئے کہا:

’’ان کے سر اور لاشے پر گھوڑے دوڑائے گئے، خواتین کو بے پردہ کیا گیا۔ یہ سب درست ہے یا غلط؟‘‘

امامِ اہلِ سنت علیہ الرحمہ نے ارشاد فرمایا:

’’اسی طرح مظالمِ ملعونہ ثابتہ اور غیر ثابتہ اہلبیتِ کرام کی اہانت سے خالی نہیں، اہلبیت کے فضائل و مناقب کا بیان ہونا چاہئے نہ یہ کہ ان کو بیچارگاں اور بے سہارا اور خستہ حال ثابت کیا جائے۔‘‘

کردم از عقل سوالے کہ بگو ایمان چیست

عقل درگوشِ دلم گفت کہ ایمان ادب است

یعنی میں نے عقل سے پوچھا: بتاؤ ایمان کیا ہے؟

تو عقل نے میرے دل کے کان میں کہا: ایمان سراپا ادب ہے۔

اور ہمیں یزید پلید اور اس کے ظالمانہ افعال و اقوال سے کوئی سروکار نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس سے اور اس کی امثال سے پناہ عطا فرمائے۔

(فتاویٰ رضویہ، ج 14، ص 634)

نوٹ: اصل سوال و جواب فارسی میں ہے۔

امامِ اہلِ سنت علیہ الرحمہ ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:

’’نہ ذکرِ شہادت میں ایسی باتیں کہی جائیں جس میں ان (اہلِ بیت) کی بے قدری یا توہین نکلتی ہو۔‘‘

(مثلاً اہلبیتِ مطہرات کا اونٹوں پر بے پردہ جانا اور قیدخانہ میں مقید ہونا اور یزید پلید کا سر دربار بلانا اور گفتگو ہونا وغیرہ ذٰلک)

(فتاویٰ رضویہ، ج 23، ص 727)

اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ بعض واقعات اگرچہ ثابت ہو، لیکن اگر ان کے بیان میں اہلِ بیتِ کرام کی اہانت، بے قدری یا ان کی شانِ اقدس کے خلاف کوئی پہلو نکلتا ہو تو ان کے بیان سے احتراز کرنا چاہئے۔ اہلِ بیتِ اطہار کو بے چارہ، بے سہارا اور خستہ حال ثابت کرنا بھی مناسب نہیں۔ ان کے فضائل، مناقب، صبر، استقامت اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان کے بلند مقام کو بیان کرنا ہی اہلِ ادب کا طریقہ ہے۔

واقعۂ کربلا کا پیغام محض مصائب و آلام کا تذکرہ نہیں بلکہ صبر، استقامت، حق پر ثابت قدمی اور دینِ اسلام کے لیے عظیم قربانیوں کا بیان بھی ہے۔

ضروری وضاحت: یہ گزارش واقعۂ کربلا کے ثابت شدہ حقائق کے انکار یا ان میں تشکیک کے لیے نہیں، بلکہ اہلِ بیتِ اطہار رضی اللہ عنہم کے ذکرِ مبارک میں کامل ادب، تعظیم اور احتیاط کو ملحوظ رکھنے کے لیے ہے، جیسا کہ امامِ اہلِ سنت علیہ الرحمہ نے ارشاد فرمایا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اہلِ بیتِ عظام کی کامل محبت، ادب و احترام نصیب فرمائے اور ہر قسم کی بے ادبی، گستاخی اور بے قدری سے محفوظ رکھے۔

آمین یا رب العالمین

ترتیب و پیشکش:

ابو الحسن محمد شعیب خان

Views: 0
keyboard_arrow_up