Articles

محدثینِ کرام کا یہ نہایت محتاط اور باادب اسلوب رہا

محدثینِ کرام کا یہ نہایت محتاط اور باادب اسلوب رہا ہے کہ اگر کسی حدیث کا حوالہ نہ ملے تو اسے فوراً رد کرنے کے بجائے اپنی کمیٔ نظر کا احتمال ظاہر کرتے ہیں اور: “لم أجده”، “لم أعرفه”، “لم أر”، “لم أقف عليه”، یا “غريب” جیسے الفاظ استعمال فرماتے ہیں۔ یہی طرزِ عمل علمی دیانت، احتیاط اور تواضع کی روشن دلیل ہے۔

امام اہلِ سنت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:

“ہم نے تو اکابر ائمہ کو یوں سنا کہ جس حدیث پر اطلاع نہ پائی، ‘لم أجد’ یا ‘لم أر’ یا ‘لم أقف عليه’ پر اقتصار فرمایا۔ یہ ‘ليس’ اور ‘لم يكن’ کی جراتیں—حق تو یہ ہے کہ بڑے شخص کا کام ہے۔”

(فتاوى رضوية، ٣٠/٤٠٥)

کسی حدیث کا حوالہ نہ ملنے پر اکابر ائمہ کے محتاط طرزِ عمل کی چند مثالیں ملاحظہ ہوں:

(١) امام کمال الدین ابن الہمام علیہ الرحمہ

امام محقق علی الاطلاق، کمال الدین ابن الہمام علیہ الرحمہ—جن کی جلالتِ قدر آفتابِ نیمروز سے بھی زیادہ ظاہر ہے—جب بعض ایسی احادیث تک نہ پہنچ سکے جنہیں مشائخِ کرام نے ذکر فرمایا تھا، تو یوں ارشاد فرمایا:

“لعل قصور نظرنا أخفاها عنا.”

یعنی:

“شاید ہماری نظر کے قصور نے انہیں ہم سے مخفی رکھا ہو۔”

(٢) امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ

امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ، جنہیں خاتم الحفاظ کہا جاتا ہے، حدیث:

“اختلاف أمتي رحمة”

کو اپنی کتاب الجامع الصغير میں ذکر فرماتے ہیں، مگر اس کا کوئی مخرج بیان نہ کر سکے کہ کس محدث نے اسے اپنی کتاب میں روایت کیا ہے۔ چند علماء کے نام ذکر کرنے کے بعد، جنہوں نے بلا سند اسے نقل کیا، فرماتے ہیں:

“لعله خرج في بعض كتب الحفاظ التي لم تصل إلينا.”

(الجامع الصغير للسيوطي، حديث: ٢٨٨، دار الكتب العلمية، بيروت، ١/٢٤)

یعنی:

“شاید یہ حدیث حفاظِ حدیث کی بعض ایسی کتب میں مروی ہو جو ہم تک نہ پہنچ سکیں۔”

(٣) امام اہلِ سنت علیہ الرحمہ

امام اہلِ سنت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:

“اپنے نہ پانے کو نہ ہونے کی دلیل سمجھ لینا سخت غلطی ہے؛ ممکن ہے حدیث ان کتب میں ہو جو ہمارے پاس نہیں، یا ضائع ہو چکی ہو، یا دوسرے بلاد میں موجود ہو۔”

(فتاویٰ رضویہ، جلد ٢٢، ص ٤٩، ملتقطاً مع تغییر و اضافہ)

یہی وہ منہج ہے جو ہمیں سکھاتا ہے کہ عدمِ علم کو نفیِ علم کی دلیل نہ بنایا جائے، بلکہ احتیاط، تواضع اور تحقیق کو ملحوظ رکھا جائے۔ یہی محدثینِ کرام کا اصل علمی اسلوب ہے۔

مگر افسوس کہ فی زمانہ بعض “شاملی” یا “گوگلی” محققین کا حال یہ ہے کہ اگر کوئی روایت شاملہ یا گوگل پر نہ ملے تو “لم أجد” یا “لم أقف عليه” کہنے کے بجائے فوراً “موضوع” کا حکم صادر کر دیتے ہیں۔

خلاصہ یہ ہے کہ جن روایات کو ثقہ، معتمد اور اکابر علماءِ کرام نے اپنی معتبر کتب میں ذکر فرمایا ہو، انہیں بے اصل قرار دینا نہایت دشوار امر ہے۔ ہاں، ہماری اطلاع اور تتبع میں قصور ہو سکتا ہے۔

چنانچہ امام زركشي رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

“وقد حكم جمع من المتقدمين على أحاديث بأنه لا أصل له ثم وجد الأمر بخلاف ذلك، وفوق كل ذي علم عليم.”

(النكت على مقدمة ابن الصلاح، ص ٢٣٥، دار الكتب العلمية

ورسائل الإمام السيوطي، ص ١٤٩، دار الكتب العلمية)

یعنی:

“بہت سے متقدمین نے بعض احادیث پر یہ حکم لگایا کہ ان کی کوئی اصل نہیں، پھر بعد میں معاملہ اس کے خلاف ثابت ہوا، اور ہر علم والے کے اوپر ایک بڑا علم والا ہے۔”

اسی مضمون کو امام اہلِ سنت علیہ الرحمہ نے نہایت بلیغ انداز میں یوں بیان فرمایا:

“ہم نے تو اکابر ائمہ کو یوں سنا کہ جس حدیث پر اطلاع نہ پائی ‘لم أجد’ یا ‘لم أر’ یا ‘لم أقف عليه’ پر اقتصار فرمایا۔ یہ ‘ليس’ اور ‘لم يكن’ کی جراتیں، حق تو یہ ہے کہ بڑے شخص کا کام ہے۔”

(فتاوى رضوية، ٣٠/٤٠٥)

والله أعلم بالصواب

ابو الحسن محمد شعیب خان

Views: 1
keyboard_arrow_up