Articles

حج سے آنے والوں کے استقبال کے جواز اور استحباب

​استقبال کی ایک مبارک روایت

​اسلامی معاشرت میں خوشی، محبت اور دینی تعلقات کے اظہار کے لئے کئی خوبصورت اور باوقار انداز موجود ہیں۔ انہی میں سے ایک نہایت پسندیدہ اور قابلِ قدر انداز حجاجِ کرام کا استقبال ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کے یہ مہمان اپنے مقدس سفر سے واپس آتے ہیں تو ان کا استقبال، مصافحہ، معانقہ اور ان کے ساتھ اظہارِ محبت ایک دینی روایت اور سلفِ صالحین کا پسندیدہ عمل رہا ہے، جس کی تائید احادیث و آثار سے بھی ہوتی ہے۔

​حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:​قَالَ: “لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ اسْتَقْبَلَتْهُ أُغَيْلِمَةُ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَحَمَلَ وَاحِدًا بَيْنَ يَدَيْهِ وَآخَرَ خَلْفَهُ” (صحیح البخاری)

​مفہوم: جب نبی کریم صلی اللہ اللہ وسلم مکہ مکرمہ تشریف لائے تو بنو عبدالمطلب کے کم سن بچے آپ ﷺ کے استقبال کے لیے آئے، آپ ﷺ نے ان میں سے ایک کو اپنے آگے اور دوسرے کو اپنے پیچھے بٹھا لیا۔

​اس روایت سے محدثین نے مسافروں اور حج سے آنے والوں کے استقبال کے جواز اور استحباب پر استدلال کیا ہے، کیونکہ نبی کریم ﷺ کا عمل اس پر دلالت کرتا ہے کہ آنے والوں کا خیر مقدم اور ان سے اظہارِ محبت شرعاً پسندیدہ ہے۔

​علامہ ابن بطال، امام مہلب کے حوالے سے مکمل عبارت یوں نقل کرتے ہیں: ​قَالَ الْمُهَلَّبُ: “التَّلَقِّي لِلْمُسَافِرِينَ وَالْقَادِمِينَ مِنَ الْجِهَادِ وَالْحَجِّ بِالْبِشْرِ وَالسُّرُورِ أَمْرٌ مَعْرُوفٌ، وَوَجْهٌ مِنْ وُجُوهِ الْبِرِّ”

(شرح صحیح البخاری لابن بطال)

​مفہوم: مسافروں، جہاد اور حج سے آنے والوں کا خوش دلی اور مسرت کے ساتھ استقبال کرنا (مسلمانوں میں) ایک معروف عمل ہے، اور یہ نیکی کے طریقوں میں سے ایک بہترین طریقہ ہے۔

​علامہ بدر الدین عینی ‘صاحبِ توضیح’ کا قول یوں فرماتے ہیں:​وَقَالَ صَاحِبُ التَّوْضِيحِ: “وَفِيهِ تَلَقِّي الْقَادِمِينَ مِنَ الْحَجِّ إِكْرَامًا لَهُمْ وَتَعْظِيمًا؛ لِأَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُنْكِرْ تَلَقِّيَهُمْ، بَلْ سُرَّ بِهِ لِحَمْلِهِ مِنْهُمْ بَيْنَ يَدَيْهِ وَخَلْفَهُ. انْتَهَى” (عمدة القاري)

​مفہوم: اس میں حجاجِ کرام کے استقبال، ان کے اکرام اور ان کی تعظیم کا ثبوت ہے؛ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے ان کے استقبال پر نکیر نہیں فرمائی، بلکہ آپ ﷺ اس سے مسرور ہوئے، یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ نے ان میں سے ایک بچے کو اپنے آگے اور دوسرے کو اپنے پیچھے سوار کیا۔

​اگرچہ بعض اہلِ علم نے اس روایت کو مکہ مکرمہ آمد (یعنی حج کے لیے جانے والوں) کے استقبال پر محمول کیا ہے، جیسا کہ علامہ عینی فرماتے ہیں: “قُلْتُ: أَنَّهُ لَيْسَ فِيهِ تَلَقِّي الْقَادِمِينَ مِنَ الْحَجِّ بَلْ فِيهِ تَلَقِّي الْقَادِمِينَ لِلْحَجِّ كَمَا ذَكَرْنَاهُ“، لیکن اس سے حج سے واپس آنے والوں کے استقبال پر بھی استدلال بالکل صحیح اور تسلیم شدہ ہے، کیونکہ اصل مقصود آنے والوں کی تعظیم، انسیت اور دلجوئی ہے۔

​چنانچہ علامہ عینی خود اس استدلال کی تائید میں فرماتے ہیں:

​”نَعَمْ، يُمْكِنُ أَنْ يُؤْخَذَ مِنْهُ تَلَقِّي الْقَادِمِينَ مِنَ الْحَجِّ، وَكَذَلِكَ فِي مَعْنَاهُ مَنْ قَدِمَ مِنْ جِهَادٍ أَوْ سَفَرٍ؛ لِأَنَّ فِي ذَلِكَ تَأْنِيسًا لَهُمْ وَتَطْيِيبًا لِقُلُوبِهِمْ” (عمدة القاري)

​مفہوم: جی ہاں! اس حدیث سے حج سے واپس لوٹنے والوں کے استقبال کا استدلال بھی کیا جا سکتا ہے، اور اسی کے معنی میں ہر وہ شخص شامل ہے جو جہاد یا کسی (مباح) سفر سے واپس آئے؛ کیونکہ اس استقبال میں ان کے لیے انسیت اور ان کی دلجوئی کا سامان ہے۔

​حاجی سے ملاقات اور دعا کی فضیلت:

​عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: “إِذَا لَقِيتَ الْحَاجَّ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ وَصَافِحْهُ، وَمُرْهُ أَنْ يَسْتَغْفِرَ لَكَ، قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بَيْتَهُ، فَإِنَّهُ مَغْفُورٌ لَهُ”

(مسند احمد)

​مفہوم: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “جب تم کسی حاجی سے ملو تو اسے سلام کرو، اس سے مصافحہ کرو، اور اس کے اپنے گھر میں داخل ہونے سے پہلے اس سے اپنے لیے مغفرت کی دعا کی درخواست کرو، کیونکہ وہ مغفرت یافتہ ہوتا ہے۔”

​اس حدیثِ مبارکہ سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ حاجیوں کا استقبال کرنا، ان سے ملاقات، ان کا احترام اور ان سے دعا کی درخواست کرنا باعثِ خیر و برکت ہے۔

​اسلافِ صالحین کا طرزِ عمل

​امام غزالی علیہ الرحمہ ‘احیاء العلوم’ میں اسلاف کا معمول بیان کرتے ہوئے رقمطراز ہیں:

​”وَقَدْ كَانَ مِنْ سُنَّةِ السَّلَفِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ أَنْ يُشَيِّعُوا الْغُزَاةَ، وَأَنْ يَسْتَقْبِلُوا الْحَاجَّ، وَيُقَبِّلُوا بَيْنَ أَعْيُنِهِمْ” (إحياء علوم الدين)

​مفہوم: اور اسلافِ صالحین (رضوان اللہ علیہم اجمعین) کی یہ سنت (طریقہ) رہی ہے کہ وہ غازیوں کو الوداع کہتے تھے اور حاجیوں کا استقبال کرتے تھے، اور (محبت و تکریم میں) ان کی آنکھوں کے درمیان (پیشانی پر) بوسہ دیتے تھے۔

​علامہ ابن رجب حنبلی علیہ الرحمہ ‘لطائف المعارف’ میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا اثرِ مبارک مکمل عبارت کے ساتھ یوں نقل فرماتے ہیں:

​عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ الضَّرِيرِ عَنْ حَجَّاجٍ عَنِ الْحَكَمِ قَالَ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: “لَوْ يَعْلَمُ الْمُقِيمُونَ مَا لِلْحُجَّاجِ عَلَيْهِمْ مِنَ الْحَقِّ لَأَتَوْهُمْ حِينَ يَقْدَمُونَ حَتَّى يُقَبِّلُوا رَوَاحِلَهُمْ لِأَنَّهُمْ وَفْدُ اللَّهِ فِي جَمِيعِ النَّاسِ” (لطائف المعارف)

​مفہوم: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: “اگر گھروں میں مقیم رہنے والوں کو معلوم ہو جائے کہ حاجیوں کا ان پر کیا حق ہے، تو وہ ان کی آمد پر ان کے استقبال کے لیے ضرور آئیں، یہاں تک کہ ان کی سواریوں کو چوم لیں؛ کیونکہ وہ تمام لوگوں میں سے منتخب کردہ ‘اللہ کے خاص مہمان’ (وفد اللہ) ہیں۔”

​شرعی حدود اور آدابِ استقبال

​استقبال کے موقع پر ہار پہنانا، پھول پیش کرنا یا دیگر جائز طریقوں سے خوشی کا اظہار کرنا عرفاً و شرعاً جائز ہے، بشرطیکہ اس میں کوئی بھی غیر شرعی پہلو شامل نہ ہو۔

معلوم ہوا کہ ​حجاجِ کرام کا استقبال، ان سے ملاقات، مصافحہ و معانقہ اور ان کی آمد پر خوشی کا اظہار ایک انتہائی مستحسن اور پسندیدہ عمل ہے، جو دینی محبت، باہمی اخوت اور شعائرِ اسلام کی تعظیم کا عملی اور خوبصورت اظہار ہے۔

​ابو الحسن محمد شعیب خان

Views: 0
keyboard_arrow_up