Articles

ماہ ربیع الاوّل اور بارہ کی تخصیص کیوں؟ اور تخصیص سے کون سی تخصیص مراد ہے؟

امام اہل سنت فرماتے ہیں: ماہ ربیع الاول شریف اس (ذکر میلاد مبارک بہ تعین ایام و بتخصیص ربیع الاول شریف) کے لئے زیادہ مناسب۔۔۔۔۔۔ (کیونکہ) یہاں اس عالم میں حضور سید عالم صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا رونق افروز ہونا ماہ ربیع الاول میں ہوا ولہٰذا حضور اقدس صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم روز جان افروز دوشنبہ کو روزہ شکر کے لئے خاص فرماتے اور اس کی وجہ یوں ارشاد فرماتے کہ “فیه ولدت و فیه انزل علیّ. (اسی دن میں پیدا ہوا اور اسی دن مجھ پر کتاب اُتری۔) یہ تخصیصات بوجہ مناسبات ہیں تو اُن پر طعن جہل ہے بلا مناسبت تخصیص کو تو فرمایا گیا “صوم یوم السبت لا لك ولاعلیك” (یعنی روزہ کے لئے روز شنبہ کی تخصیص نہ تجھے نافع نہ مضر) تو مناسبات جلیلہ کے باعث تخصیص پر کیا اعتراض ہوسکتا ہے؟ ہاں تخصیص بمعنی توقف کہ اوروں ہو ہی نہ سکے یا بمعنی وجوب شرعی کہ اس دن ہونا شرعاً لازم اور دوسرے دن ناجائز ہو ضرور باطل ہے مگروہ ہرگز کسی کے ذہن میں نہیں کوئی جاہل سا جاہل بھی ایسا خیال نہیں کرتا ولکن الوھابیة قوم لایعلمون. یہی حال یا زدہم و دوازدہم و تواریخ وصال محبوبان ذوالجلال کا ہے اور اوقات فاضلہ میں تکثیر اعمال صالحہ بلاشبہ مطلوب و مندوب ہے جس پر قرآن عظیم واحادیث کثیرہ ناطق “ان من افضل ایامکم الجمعة فاکثروا فیھا من الصلٰوۃ علیّ

(رضوية ٢٣/٧٥٤)

ابو الحسن

Views: 0
keyboard_arrow_up