کیا حضرت حسان بن ثابت رضی الله عنه منبر پر بیٹھ کر نعت پڑھا کرتے تھے؟

ایک مرتبہ دورۃ الحدیث میں بخاری شریف کے سبق کے دوران استاد محترم  استاذ العلماء حضرت علامہ مفتی محمد وسیم قادری ضیائی دام ظلہ نے  فرمایا:”حضرت حسان بن ثابت رضی الله عنه نبی کریمﷺ کی نعتیں پڑھا کرتے تھے اور  نبی کریمﷺ  ان کے لیے منبر لگواتے تھے ، یہاں تک تو بات سمجھ آتی ہے لیکن کیا حضرت حسان بن ثابت رضی الله عنه منبر پر بیٹھ کر نعت پڑھا کرتے تھے جبکہ نبی کریمﷺ زمین پر جلوہ فرما ہوں، یہ بات خلاف ادب معلوم ہوتی ہے اور صحابی رسولﷺ سے یہ  چیز تصور نہیں کی جاسکتی کہ وہ ایسا عمل کریں جو آداب بارگاہ رسالت ﷺ کے خلاف ہو۔“    پھر مجھ سے فرمایا :”انس اس روایت کی تحقیق کرو  کیونکہ آج کل ثناء خواں اسے دلیل بنا کر اوپر کرسی یا منبر پر بیٹھتے ہیں جبکہ علماء اور مشائخ جو کہ وارثانِ انبیاء کرام علیھم السلام ہیں انہیں نیچے زمین پر بٹھایا دیا جاتا ہےاور یہ تو علم اور علماء کی توہین ہے۔“فقیر نے اس وقت کتب حدیث میں اس روایت کو تلاش  کرنا شروع کیا ، تو احادیث کو کچھ یوں پایا:اس حوالہ سے جتنی احادیث ہیں وہ سب ام المؤمنین سیدتنا عائشہ صدیقہ  رضی الله عنها سے مروی ہیں  اور احادیث کے کلمات یہ ہیں:كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضَعُ لِحَسَّانَ مِنْبَرًا فِي المَسْجِدِ يَقُومُ عَلَيْهِ قَائِمًا (جامع ترمذی : 2846) (مستدرک للحاکم : 6058) (مسند ابی یعلی: 4746)كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضَعُ لِحَسَّانَ مِنْبَرًا فِي الْمَسْجِدِ فَيَقُومُ عَلَيْهِ(سنن ابو داؤد :5015)

أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَضَعُ لِحَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ مِنْبَرًا فِي الْمَسْجِدِ يَنْشُدُ عَلَيْهِ الْأَشْعَارَ (معجم کبیر  :3580) ( معرفۃ الصحابہ: 2210)

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضَعُ لِحَسَّانِ بْنِ ثَابِتٍ مِنْبَرًا فِي الْمَسْجِدِ يُنْشِدُ عَلَيْهِ قَائِمًا(مسند ابو یعلی : 4591)

يَقُومُ عَلَيْهِ/ يَقُومُ عَلَيْهِ قَائِمًا/ يُنْشِدُ عَلَيْهِ /يُنْشِدُ عَلَيْهِ قَائِمًا

ان تمام کلمات سے واضح کہ حضرت حسان بن ثابت رضی الله عنه   منبر پر کھڑے ہوکر نعت پڑھا کرتے تھے، اور یہی  ادب ہے  جو حضرت حسان بن ثابت رضی الله عنه کے عمل سے واضح ہے۔

نعت خواں صاحب  جب یہ سمجھتے ہیں کہ وہ حضرت حسان بن ثابت رضی الله عنه کی سنت ادا کر رہے ہیں تو انہیں چاہیے کہ حضرت حسان بن ثابت رضی الله عنه کے طریقۂ ثناء خوانی کو بھی مد نظر رکھیں، کوشش کریں نعت شریف کھڑے ہو کر پڑھیں،اور بیٹھ کر پڑھ رہیں ہیں تو دیکھیں اگر علماء  اور راوثان انبیاء علیھم السلام    زمین پر یا مسند پرتشریف فرما ہوں  تو چاہیے کہ    بلا تخصیص سب کے ادب و احترام کا خیال کریں۔ اگر آج آپ علم اورعلماء کا ادب کریں گے تو نسل نو حصول علم کی طرف رغبت کرے گی ورنہ جہالت ہمارے گھروں پر دستک تو دے چکی ہے گھر میں بلا اجازت داخل بھی ہو جائے گی۔

 محمد انس رضا قادری: از

 تصدیق

1. محمد سجاد برکاتی

(خطیب جامع مسجد فریدالاسلام ہالینڈ )

تصدیق

2.       المفتی محمد شکیل اخترالقادری النعیمی غفرلہ

شیخ الحدیث مدرسۃالبنات مسلک اعلیٰ حضرت صدر صوفہ ہبلی کرناٹک الھند

 تصدیق

3. مفتی محمد اویس نذیر نقشبندی

خطیب وامام

جامع مسجد خضری اورنگی ٹاؤن

 تصدیق

4. بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

والصلوہ والسلام علی خاتم الانبیاء والمرسلین

فقیر مولانا مفتی محمد انس رضا کی تحریر سے متفق ہے۔ یہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ جس پر ہمارے احباب کو متوجہ اور متنبہ کیا جانا ازحد ضروری ہے۔

احقر؛ سید زاہد سراج قادری

رئیس دارالافتاء

الارقم ریاض العلوم، کراچی

 تصدیق

5.   قاری نعمان المصطفی البغدادی

امام و خطیب سنی جامع مسجد دار السلام تنزانیہ ایسٹ افریقہ

 تصدیق

6. خلیفہ تاج الشریعہ مفتی ثاقب قادری الشامی

  7. تصدیق

یہ فقیر اس تحریر کی مکمل تائید و تصدیق کرتا ہے، یہ صرف ایک عالم کا موقف نہیں بلکہ قرآن و حدیث کا بھی منشا ہے اور حقیقت یہی ہے کہ جس معاشرے میں عالم کی عزت کم اور نعت خواں کی اہمیت زیادہ ہو ۔۔وہاں علم مفقود اور ناپید ہوجاتا ہے ۔ جو نعت خواں عالم کا ادب نہ کرے وہ نعت خواں ہی نہیں بلکہ دینی تعلیم کا انحراف کررہا ہے۔ عوام الناس اور علماء اس تحریر کو عام کریں اور اپنی محافل کے دورانیہ میں 25% نعت اور 75% علمی مجالس کا رکھیں۔ امت کو عشق مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے فروغ کے ساتھ پھر سے ایک امام احمد رضا کی ضرورت ہے۔۔

گدائے غوث و خواجہ

مفتی عبدالرحمن قادری

خطیب وامام لمبی جامع مسجد

ملاوی افریقہ

پرنسپل۔قرآن اکیڈمی ملاوی

Related

keyboard_arrow_up