Articles

بارہ ربیع الاول کی چھٹی

سیدنا امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: کمال الدین الادفوی، اپنی کتاب «الطالع السعید» میں فرماتے ہیں: ہم سے ہمارے عادل دوست ناصر الدین محمود بن العماد نے بیان کیا کہ ابوالطیب محمد بن ابراہیم السبتی المالکی، نزیلِ قوص، جو علماءِ باعمل میں سے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے یومِ ولادت (12 ربیع الاول) کو مدرسے کے پاس سے گزرتے اور کہا کرتے تھے:

اے فقیہ! یہ خوشی کا دن ہے، بچوں کو چھوڑ دو۔

تو وہ ہمیں چھوڑ دیتے، یعنی چھٹی دے دیتے۔

نوٹ:امام سیوطی علیہ الرحمہ، ابوالطیب محمد بن ابراہیم السبتی المالکی کے بارے میں لکھتے ہیں: یہ مالکی فقیہ، کئی علوم میں صاحبِ فن اور متقی بزرگ تھے۔ ان سے ابو حیان وغیرہ نے علم حاصل کیا ہے، اور 695ھ میں ان کی وفات ہوئی۔

[الحاوی للفتاویٰ، جلد 1، صفحہ 189]

معلوم ہوا کہ ولادتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے دن خوشی منانا اور چھٹی کرنا کوئی نیا معمول نہیں، بلکہ تقریباً سات سو سال قبل سے چلا آ رہا ہے۔ یعنی سات سو سال پہلے بھی علماءِ مدارس بچوں کو ولادتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشی میں اسی دن چھٹی دیا کرتے تھے، نہ کہ وفات کی وجہ سے۔

اور آج بھی عاشقانِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدارس میں تعلیمی عمل موقوف کرکے 12 ربیع الاول کو محافلِ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انعقاد کرتے ہیں اور اپنے بزرگوں کے طریقے پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔

ابوالحسن محمد شعیب خان

23 نومبر 2018

Views: 0
keyboard_arrow_up