Articles

جعلی روایات اور مقررین سے حوالہ طلب کرنے کی ضرورت

علمی دیانت کا تقاضا یہ ہے کہ جو شخص کسی حدیث، روایت یا تاریخی واقعہ کو بیان کرے، اس سے اس کا معتبر حوالہ بھی طلب کیا جائے۔ محض خوش بیانی، خطابت یا شہرت کسی روایت کے صحیح ہونے کی دلیل نہیں بن سکتی۔ اس حوالے سے فقیہِ اہلِ سنت، مفتی شریف الحق امجدی رحمہ اللہ نے نہایت واضح اور دوٹوک رہنمائی فرمائی ہے۔

آپ سے ایک روایت کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا: “آپ پر لازم تھا کہ اس کذاب، جعل ساز مقرر سے پوچھتے کہ تو نے یہ روایت کہاں دیکھی ہے؟ آپ لوگوں کی عجیب عادت ہے۔ کیسے کذاب، جعل ساز مقرر ہوں، اگر پھکڑ باز، چرب زبان ہے تو اس کو سر پر بٹھاتے ہیں، منہ مانگی فیس دیتے ہیں۔ اس کے مقابل علما کو گھاس تک نہیں ڈالتے۔ آخر ان جعل سازوں کی اصلاح کیسے ہوگی؟ یہ جعل ساز مقرر اگر زندہ ہو تو اس سے پوچھئے کہ تو نے یہ روایت کہاں دیکھی ہے؟”

(فتاویٰ شارح بخاری، جلد دوم، صفحہ ۳۳، واثقہ برکات، کھوئی – انڈیا)

اسی طرح ایک اور مقام پر ارشاد فرماتے ہیں:”پہلی بات یہ ہے کہ آپ پر لازم تھا کہ تقریر ختم ہونے کے بعد اس مقرر سے پوچھتے کہ یہ دونوں روایتیں کہاں ہیں۔ آئندہ ناظرین بھی اس کو نوٹ کرلیں کہ کسی بھی مقرر کی تقریر میں کوئی خلجان ہو یا کوئی حوالہ پوچھنا ہو تو اسی مقرر سے پوچھیں۔ مقرر نے جب بیان کیا ہے تو اسے بتانا آسان ہوگا کہ روایات کہاں ہیں۔ کسی دوسرے شخص کو یہ بتانا بڑا مشکل ہوتا ہے کہ یہ روایت ہے یا نہیں؟ تاریخِ اسلام پر لکھی گئی سینکڑوں کتابیں ہیں، وہ مختصر نہیں بلکہ بہت ضخیم ہیں۔ بعض کتابیں کئی کئی ہزار صفحات کی ہیں۔ نہ تو سب کتابیں ہمارے یہاں موجود ہیں، اور جو موجود ہیں وہ سب میں نے بالاستیعاب نہیں پڑھی ہیں، اور جو پڑھی ہیں وہ سب ہر وقت مستحضر نہیں۔ نہ یہ بھی ضروری ہے کہ جو بات جس سے متعلق ہے، وہ وہیں مذکور ہو جہاں اُن صاحب کے احوال ہیں۔ دوسروں کے احوال میں ضمناً غیر متعلق لوگوں کے بارے میں بہت سی باتیں مؤرخین لکھ دیتے ہیں، اس لیے بہرحال ہمیں دشواری ہوتی ہے کہ یہ روایت کہیں ہے یا نہیں؟”

(فتاویٰ شارح بخاری، جلد دوم، صفحہ ۹۸، ادارہ برکات، کھوئی – انڈیا)

خلاصۂ کلام یہ کہ جب کوئی مقرر حدیث، روایت یا تاریخی واقعہ بیان کرے تو اس سے اس کا معتبر حوالہ طلب کرنا چاہیے۔ یہی علمی دیانت، تحقیق کا تقاضا اور جعلی روایات کی اشاعت روکنے کا مؤثر ذریعہ ہے۔ خوش بیانی اور شہرت کے بجائے دلیل اور حوالہ کو معیار بنایا جائے، تاکہ دین میں بے اصل روایات کے فروغ کا راستہ بند ہو۔

ابو الحسن

Views: 0
keyboard_arrow_up