Articles

اہلسنت کی ترجیحات

انڈیا کے مشہور عالم و مقرر

مفتی سلمان ازہری کا اہم بیان

*عوام اھلسنت اور پروفیشنل مقررین کے لئے اہم پیغام*

آپ نے بیان کے دوران اہم معاملے پر توجہ دلائی

کہ میں نے باوثوق ذرائع سے معلوم کروایا کہ

اس غریب اسٹیٹ بہار میں

سال میں 4000 ( چار ہزار) جلسے ہوتے ہیں

ہر جلسے پر کم از کم پانچ لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں۔۔بعض میں اس سے بھی زیادہ۔۔۔۔

4000*500,000

= 2,000,000,000

سال کے دو ہزار کروڑ ( دو ارب بھارتی روپے) خرچ ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔۔

آجکل سوشل میڈیا کے زمانے میں میرا ایک بیان لاکھوں لوگ سنتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ضروری نہیں میں ہر جگہ پہنچوں۔۔۔۔۔۔میری ایسی کوئ خواہش نہیں۔۔۔۔۔نہ ہی میری کوئ ڈیمانڈ ہے کہ مجھے بیان کرنے کے اتنی رقم دیں۔۔۔۔۔۔💵💵

مگر افسوس ہے کہ ہمارے پورے اسٹیٹ بہار میں سنیوں کی ایک یونیورسٹی بھی نہیں😭😭😭

خود سوچ لیں !!

ہماری انرجی کہاں جارہی ہے ۔۔۔

ہم اپنے وسائل کہاں خرچ کررہے ہیں۔۔۔۔

رات بھر جلسے سننے والے ۔۔صبح یا ایک ہفتے بعد پوچھیں۔۔سب بھول چکے ہوں گے

کوشش کریں۔۔۔۔۔۔۔کہ ہمارے ہر شہر میں ایک بڑی سنی یونیورسٹی ہو۔۔۔🏢

Set your priorities

اپنی ترجیحات کا تعین کریں

اور جہالت کے اندھیرے مٹائیں۔۔

اپنی مساجد کو آباد کریں ۔۔خاص کر فجر میں۔۔۔کیا مغرب کے بعد اور فجر کے بعد جلسے کرنے منع ہیں ؟؟ صرف چند ہی مقررین ایسے ہیں 2% جنھوں نے اپنی مقبولیت کا فائدہ اٹھا کر ۔۔۔مغرب اور فجر کے بعد جلسے شروع کئے۔۔۔۔

کیا ہر جلسے میں ایک درجن نعت خواں بلانا لازمی ہے ؟ کیا آپ کی محفل دو گھنٹے میں مکمل نہیں ہوسکتی ہے ۔۔ضروری ہے کہ پانچ سے چھ گھنٹہ محفل جاری رہے۔۔۔کیا ضروری ہے کہ ہر محفل کے اختتام پر اکنی اور بریانی کی نیاز ہو ؟ کیا دینی کتابوں کا لنگر نہیں ہوسکتا ؟؟؟

یہ سب سوچنے اور کرنے والی باتیں ہیں۔۔۔۔اور یہ ذمہ داری تمام سنیوں پر ۔۔خاص جلسے کرنے والے لوگوں پر ۔۔اور سب سے بڑھ کر علماء پر عائد ہوتی ہے۔۔۔۔

ہم نے اب تک سمجھا نہیں کہ مسلک اعلحضرت کیا ہے ❗‼️

اللہ تعالٰی ہم سب کو دین متین کی کما حقہ خدمت کی توفیق عطا فرمائے ۔۔۔

سطر کے اوپر مفتی صاحب کے الفاظ۔۔حاشیہ نگاری عرض گذاری میری

*تیرا مخلص اور ہمدرد*

عبدالرحمن قادری

ملاوی افریقہ

Views: 7
keyboard_arrow_up