افریقہ میں بڑھتی ہوئی قادیانیت اور مسلمانوں کی غفلت
صرف تنزانیہ 🇹🇿 Tanzania میں آفیشل 25 لاکھ 40 ہزار قادیانی ہیں ۔۔۔
تنزانیہ ۔۔جس کا سب سے بڑے شہر کا نام ہی عربی زبان میں ہے دارالسلام اس ملک میں 11ویں صدی میں ہی اسلام پہنچ چکا ہے۔ جبکہ 19ویں صدی اور 20 ویں صدی میں ہر طرف قادری اور شاذلی سلسلے کے مشائخ اور صوفیائے کرام کی تعلیمات کا دور تھا۔
خلیفہ اعلحضرت مبلغ اسلام علامہ شاہ عبدالعلیم صدیقی (متوفی 1954 ء) اور ان کے شہزادے علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی علیہ الرحمہ نے تنزانیہ کے اتنے دورے کئے کہ وہاں کی مقامی Swahili سواحلی زبان میں مہارت رکھتے تھے۔
1934 میں قادیانیوں نے تنزانیہ میں اپنا کام کیا اور پورا نقشہ ہی بدل دیا۔
قادیانی عبادت گاہیں :
▪️Dar-es-Salaam
Salam Mosque in Dar-es-Salaam
▪️Baitul Hamid Mosque in Dodoma
▪️Fazal Mosque was inaugurated in 1947 in Tabora, which is popularly known as the Taj Mahal of East Africa
اس عبادت گاہ کو مشرقی افریقہ کا تاج محل کہا جاتا ہے۔
▪️Kitonga Ahmadiyya Mosque in Dar-es-Salaam
📕قرآن پاک کا قادیانی ترجمہ مقامی ساحلی زبان میں 1936 میں ہی کیا جاچکا ہے۔۔جبکہ اب تک مقامی زبان میں معتبر سنی ترجمہ اور تفسیر نہیں۔
📰 احمدی اخبار 1936 میں شروع ہوگیا تھا۔
📰 ملک کا سب سے پہلا مسلمانوں کا انگریزی اخبار بھی قادیانیوں کی تحریک پر شروع ہوا۔
Ahmadiyya newspaper established in 1936 called ‘Mapenzi ya Munga’ (The Love of God).
The first ever English language Muslim newspaper called ‘East African Times’ established by the late MM Ahmad (former vice-president of the World Bank, Pakistani civil servant, Amir of the USA Ahmadiyya Community and Amir of East African countries. He translated the Qur’an into Swahili)
🏫 احمدیہ پرائمری اسکول 1940 سے کام کررہی ہے۔
Ahmadiyya Primary School opened in 1940
وسیع پیمانے پر اپنا تبلیغی اور سماجی کام کررہے ہیں، جس کا نتیجہ یہ ہوا ہر شہر میں ان کی عبادت خانے، اسکول اور سماجی خدمات کے ادارے موجود ہیں۔۔مقامی لوگوں کو مکمل اپنی گرفت میں کرلیا ہے۔۔۔۔
جبکہ اہل حق یکسر غفلت میں۔۔
اسکی کئ وجوہات ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں ۔۔
⭕مبلغین اور معتبر علماء کا فقدان
⭕مقامی زبان میں معتبر قرآنی تفاسیر اور احادیث آسانی سے دستیاب ہی نہیں۔
⭕مقامی علماء بہت ہی کسمپرسی کی زندگی گذاررہے ہیں
⭕اکثر کاروباری اور مالدار حضرات کا مقصد پیسوں کا دکھاوا، کاروباری مقابلہ ، دوسرے ملکوں میں اثاثہ جات
⭕پیسوں کا بے دریغ غلط استعمال
⭕موجودہ علماء کی بے قدری اور توہین
⭕معتبر تعلیمی اور سماجی اداروں کا فقدان خاص کر غریب آبادیوں میں مکمل عیسائیت اور قادیانیت کے ڈیرے جم چکے ہیں۔
ہوسکتا ہے جوابا کوئ کہے یہ اعداد و شمار درست نہیں ۔۔۔ان سے گذارش ہے کہ خود شہر شہر گلی گلی جا کر دیکھ لیں اندازہ ہوجائے گا۔۔۔۔اب بڑے منصب عدالت، فوج میں قادیانی براجمان ہوچکے ہیں۔۔۔
لکھنے اور نام لے کر نقاب کشائ کرنے کیلئےتو بہت کچھ ہے۔۔۔۔آج انٹرنیشنل عالم دین کو ہر سال حج اور عمرہ تو کرنا ہے۔۔۔مگر وہ سرمایہ اور وقت خلق خدا ، تصنیف اور تبلیغ کو نہیں دینا۔۔۔۔
گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی
ثُریّا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا
🙏
خدارا انبیائے کرام ، صحابہ کرام اور اولیائے کرام رضی اللہ عنھم کی سیرت کا پھر سے مطالعہ کریں۔۔۔ان کا تبلیغی طرز عمل دیکھ لیں۔۔۔۔۔۔ان سب کا نچوڑ میں سمجھتا ہوں مندرجہ ذیل نکات تھا۔۔
🔅 علم کی اشاعت
🔅عمل صالح
🔅مساجد اور اداروں کا قیام
🔅 افرادی قوت
اور ان سب کیلئے
🔆اخلاص اور جہد مسلسل
آج یہ سب پیچھے رہ گئے اور حصول زر 💵 سب سے آگے چلا گیا۔۔۔۔۔اور یہی تباہی ہے ۔
اس گلشن کو ہم نے ہی آگ لگائی ہے۔۔۔
میں میدان جہاد سے وقتا فوقتا اپنے لوگوں کو پیغام پہنچاتا رہتا ہوں۔۔۔کہ کہیں سے پھر کوئ محی الدین ۔۔معین الدین۔۔صلاح الدین آجائے ۔۔اور ضرور آئے گا۔۔۔ان شاء اللہ ۔۔میرے عزیز تم پیچھے مت رہ جانا
تیرا مخلص اور ہمدرد
عبدالرحمن قادری
ملاوی افریقہ

