Articles

بھوکوں کو کھانا کھلانا

دنیاداری ، دین سے دوری، تربیت کا فقدان، حرص و لالچ، مہنگائی اور کئ وجوہات کی وجہ سے مسلمانوں کی قدیم سنت غریبوں کو کھانا کھلانا بھی ختم ہوتا جارہا ہے۔ خاص کر گاؤں دیہاتوں میں کئ لاکھوں لوگ ہیں جو گوشت اور تازہ کھانے کو ترستے ہیں۔

افریقہ کے ایک ملک ملاوی 🇲🇼 میں ڈسٹرکٹ لیرانگوے کے ایک گاؤں میں گذشتہ سال یوسف مسجد میری نگرانی میں مکمل ہوئ۔

وہاں کیلئے کسی نمازی نے اپنی دوکان کا آخری اسٹاک نوڈلز ہمیں دیا ۔ہم اتوار کی صبح گاؤں پہنچے۔۔نوڈلز گرم کیا اور پلیٹوں میں ڈال کر غریب مسلمان بچوں کو اپنے ہاتھوں سے کھلانے کی سعادت حاصل کی۔

آج کا دن ان کے لئے عید اور خوشیوں کا دن تھا کہ آج وہ گرم گرم کھانا کھارہے ہیں اگرچہ نوڈلز 🍜 صحیح۔ بچوں کی خوشی دیکھ کر ان کی ماؤں نے مکمل ایک ایک پلیٹ 🍽️ کھائ۔

جہاں تک آپکی رسائ ہو غریبوں کی دلجوئی کریں ان کو خوش کریں ۔ یقین مانیں اگر آپ کے دل میں جذبات، احساسات ابھی زندہ ہیں چھوٹے بچوں کی مسکراہٹ آپ کو وہ ذہنی اور قلبی سکون دے گی جو کوئ picnic resort تفریحی مقام بھی نہ دے۔۔اور جس کو خدمتِ خلق کا یہ جائز نشہ لگ جائے وہ پھر اتارے نہیں اترے گا ۔

حضرت جابر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’مغفرت لازم کر دینے والی چیزوں میں سے بھوکے مسلمان کو کھانا کھلانا ہے”۔( مستدرک، کتاب التفسیر، تفسیر سورۃ البلد، اطعام المسلم السغبان… الخ، ۳ / ۳۷۲، الحدیث: ۳۹۹۰)

تیرا مخلص اور ہمدرد

عبدالرحمن قادری

Views: 1
keyboard_arrow_up