Articles

فکرِ رضا اور دور حاضر کے نو مولود مفتی

*ایک علمی گذارش تمام خادمین علم کے نام*

قربِ قیامت فتنوں کی بارش ہوگی۔ آقا کریم صلی الله عليه وسلم نے فرمایا : “میں تمہارے گھروں میں فتنوں کے واقع ہونے کے مقامات بارش ٹپکنے کے نشانات کی طرح (بکثرت اور واضح) دیکھ رہا ہوں۔” (مسلم شریف) ۔۔ہم اسی فتنوں کی بارش والے زمانے سے گذر رہے ہیں اور جس complex پیچیدہ فتنہ کی طرف آپ احباب کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے وہ “ہر پتھر کے نیچے سے مفتی کا نکلنا” اور مسند افتاء کو نااہل کے سپرد کرنا یا نااہل کے غلط استعمال پر اصحابِ علم کی خاموشی ہے۔

افتاء کی سند اور مفتی کا ٹائٹل ایسے استعمال ہورہا ہے جیسا کہ فن تجوید کی سند دی جاتی ہے اور جس طرح ہر استاذ خواہ جزری کو جانتا ہو یا نہیں اپنے نام کے ساتھ قاری کا استعمال کرتا ہے اسی طرح بے دریغ لفظ مفتی کا استعمال ہورہا ہے۔ حالانکہ فن افتاء اور فن تجوید کی ذمہ داریاں اور منصب اور اس کے حصول میں مشقت زمین آسمان کا فرق ہے۔

میری اس تحریر کے ساتھ فتاویٰ رضویہ شریف کا خطبہ موجود ہے جس کے خط کشیدہ عبارت کا ترجمہ و تسهیل یہ ہے :

1) امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ نے 1286ھ میں علوم دینیہ سے فراغت کے بعد فتوی نویسی شروع فرمائ۔

2) مزید سات سال تک مسلسل اپنے والد کو فتاویٰ لکھ کر تصحیح کرواتے رہے۔

3) سات سال کے بعد والد ماجد علامہ نقی علی خان علیہ الرحمہ نے امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ کو independently فتویٰ دینے کی اجازت عطا فرمائی کہ اب وہ اپنے والد کو تصدیق اور تائید کے لئے فتوی نہ دکھائیں بلکہ جاری کردیا کریں

4) مگر امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ کی کمال علمی عاجزی اور خدمتِ فقہ و افتاء کہ والد کے ہوتے ہوئے میری جرأت نہ ہوئ کہ تنہا فتوی جاری کروں تو مزید 4 سال ان کے وصال تک فتاویٰ کی تصدیق و تائید کراتا رہا۔

“مفتی” کے چار حروف کی نسبت سے ان چار نکات پر بار بار مدارس کے مہتمم ۔فتاوی جاری کرنے والے علماء، خاص کر تخصص فی الفقہ کے طلباء غور فرمائیں کہ🔸 7 سال فتاوی جات پر کل وقتی دن رات محنت اور اس کے بعد اجازت اور🔸 کل 11 سال تک اپنے والد ماجد کو فتاوی چیک کروانا بغرض تائید و تصویب ۔

الله اکبر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اور ہمارا طرز عمل بلکل برعکس۔۔۔

On a lighter note:

تم کتنی مفتی مانگو گے ۔۔ہر گھر سے مفتی نکلے گا

میرے مشاہدات: (چھوٹی اور بڑی تباہ کاریاں)

📛پچاس فتاوی بھی نہ لکھے اور نام کے ساتھ “مفتی” کا استعمال

📛ہدایہ ایک سال بھی نہ پڑھائ مگر نام کے ساتھ مفتی کا استعمال

📛درس نظامی بھی پورا ٹھیک نہیں پڑھا، خاص کر عربی ادب فصاحت و بلاغت ۔دورہ حدیث کی سند اور پھر نام کے ساتھ مفتی کا استعمال

📛ٹی وی پروگرام اور اسلامی بینک میں نوکری کے لئے نام کے ساتھ مفتی کا استعمال

📛ایک مشہور امامِ مسجد کے نام کے ساتھ اچانک مفتی دیکھا ۔میں نے جان کر پوچھا ماشاءاللہ آپ کے دارالافتاء کے کیا اوقات ہیں: وہ کہنے لگے آس پاس کی ساری مساجد کے امام مکمل عالم نہ ہوتے ہوئے بھی مفتی ہیں۔۔میں نے بھی نام کے ساتھ مفتی لگالیا ورنہ لوگوں کو میرے بتائے ہوئے مسائل پر اعتماد نہیں ہوتا تھا-

📛سالہائے سال سے عملیات کرنے والے اور پیشہ ور مقررین جن کا فنِ تدریس سے اب دور دور کا تعلق نہیں اور ایک ماہ میں دو تین فتوے شرح صحیح مسلم اور اردو فتاویٰ سے بعینہ نقل کرکے لکھ دئے وہ بھی مفتی ہیں.

📛کسی شیخ الحدیث یا مفتی کے بیٹے کو مفتی ٹائٹل ایسے ورثے میں ملا ہے جیسے یہ اس کا surname / خاندانی نام ہے.

یہ صرف سطحی مشاہدات ہیں اگر گیرائ اور علی بصیرۃ گفتگو کروں تو تعجب خیز ہوگی

📛کثیر مروجہ نو مولود یا معروف مفتی فقہ حنفی کی متدوال کتب، متون اور ان کےشروحات سے ، مبسوطات سے، فقہی ابواب کی ترتیب سے ہی ناواقف ہیں۔

📛پھر یہ کہ ہر تخصص سے فارغ ہونے والا اپنے نام کے ساتھ مفتی لگاتا ہے جو کہ علمی خیانت، دروغ گوئی اور فساد کو مستلزم ہے جبکہ پریکٹیکلی وہ فتاویٰ کی مشق / مس بالکل بھی نہیں رکھتا۔

📛جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ‘نومولود مفتی’ یا ‘فائیواسٹار مفتی’ عقائد اہلسنت سے نا آشنا اور اکثر ذاتی تعبیرات اور تشریحات کرکے لوگوں کے افکار و معاملات کو تباہ کررہے ہیں۔

ہر کالج یونیورسٹی کا ٹیچر پروفیسر نہیں ۔ہر وکیل جج نہیں ۔ ہر وردی والا سپہ سالار کمانڈر ان چیف نہیں، ہر ڈاکٹر سرجن یا چائلڈ اسپیشلسٹ نہیں، ہر پائلٹ کی تعلیم حاصل کرنے والا فوری طور پر پائلٹ نہیں، ہر چارٹرڈ اکاؤننٹ CFO چیف فائننشل آفیسر نہیں، ہر MA economics معیشت دان نہیں۔۔مگر ہر عالم مفتی یا بغیر تخصص والا مفتی یا صرف تخصص کرنے والا فتاوی بلکل نہ لکھنے والا یا کم لکھنے والا مفتی۔۔❗

ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک SOP / معیار بنایا جائے ۔مفتی بنانے کیلئے :

🎯 فقہ میں دسترس والے افراد تیار کئے جائیں

🎯مفتی سے قبل متخصص، نائب مفتی کے کئ سال مراحل سے گزارا جائے۔

🎯ناتجربہ کار کو تنہا فتویٰ جاری کرنے کی سند نہ دی جائے۔

حیرت یہ ہے کہ جان بچانے کیلئے انٹرنیشنل فلائٹ پائلٹ / کپتان کو سیٹ دینے کیلئے ۔۔۔اتنے ہزار گھنٹوں کا تجربہ مانگتی ہے۔۔مگر ایمان بچانے کیلئے اکثر علمی طبقوں میں خاطر خواہ mechanism نہیں ۔

🎯صاحبِ فتویٰ، قاضی شہر یا تجربہ کار مفتی۔۔۔۔۔۔علماء کی استعداد اور صلاحیت دیکھتے ہوئے تخصص کرنے والے علماء کو ایک عرصہ گذارنے کے بعد فتوی دینے کی اجازت دے۔

بہرحال ‘درء المفاسد’ نو پید فسادات کی روک تھام ضروری ہے۔۔۔اس پر یکسر خاموشی تباہی ہے ۔ منطقی انداز میں اگر کہوں تو مفتی بالقوۃ بہت ہیں اور مفتیِ ناقل بالفعل قلیل ۔ والقلیل کالمعدوم۔۔۔۔۔

ہوسکتا ہے کسی “مفتی” کو برا لگا ہو۔لیکن یہ تحریر کسی ذات کسی ادارے کے لئے نہیں بلکہ من حیث الامۃ / ایک مجموعی کیفیت اور حقیقت کی ترجمانی ہے ۔

امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ کا طرز عمل دیکھ کر اپنا محاسبه کرلیں۔ استفتِ قلبک اپنے جسم میں موجود مفتی سے پوچھیں اگر آج تک اپنے نام کے ساتھ غلط مفتی کا استعمال کیا اس سے آئندہ اجتناب کریں۔۔۔اور اگر ٹھیک کیا ہے تو خوب کریں اور اس منصب کا حق ادا کرنے کی کوشش کریں ۔ جعلک الله بسطۃ فی العلم

مفتی کے 4 حروف کی نسبت سے یہی پیغام چار حدیثوں میں سمجھ لیں اور لائحہ عمل بنانا شروع کردیں :

📙اجراکم على الفتيا اجراکم على النار یعنی “جو شخص تم میں فتوی پر زیادہ دلیر ہے جہنم پر زیادہ دلير ہے “( کنز العمال ج 10 ص102 )

📕من افتى بغير علم لعنتہ ملائکة السماء والارض .. اھ

یعنی “جس نے بغیر علم کے فتوی دیا آسمان و زمین کی فرشتوں نے اس پر لعنت کی” ( کنز العمال ج 10 ص 193 )

📘إذا وسد الامر إلى غير اهله فانتظر الساعة”.

“جب عہدے نالائق لوگوں کو سونپ دئیے جائیں تو قیامت کا انتظار کر۔”

📒اتَّخَذَ النَّاسُ رُؤُوساً جُهَّالاً، فَسُئِلُوا فَأفْتوا بِغَيْرِ عِلْمٍ، فَضَلُّوا وَأضَلُّوا».

“لوگ جاہلوں کو اپنا پیشوا بنالیں گے۔ ان سے جب کوئی مسئلہ دریافت کیا جائے گا تو وہ علم کے بغیر فتوی دیں گے اور یوں خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔‘‘

نوٹ: احادیث کے علاوہ سارے الفاط ذاتی ہیں۔۔ کسی اردو کتاب سے نقل کردہ یا عربی کتاب کا ترجمہ نہیں لہذا نقل کرنے والے اس مسکین کا نام نہ ہٹائیں کہ آداب افتاء میں سے یہ بھی ہے کہ نقل کرتے وقت اصل ماخذ و مرجع بیان کرنا بھی ہے ۔۔۔۔

تیرا ہمدرد اور مخلص

عبدالرحمن قادری

Views: 1
keyboard_arrow_up