رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«دِينَارٌ أَنْفَقْتَهُ فِي سَبِيلِ اللهِ، وَدِينَارٌ أَنْفَقْتَهُ فِي رَقَبَةٍ، وَدِينَارٌ تَصَدَّقْتَ بِهِ عَلَى مِسْكِينٍ، وَدِينَارٌ أَنْفَقْتَهُ عَلَى أَهْلِكَ، أَعْظَمُهَا أَجْرًا الَّذِي أَنْفَقْتَهُ عَلَى أَهْلِكَ»
“ایک دینار وہ ہے جو تم نے اللہ کی راہ میں خرچ کیا، ایک دینار وہ ہے جو تم نے کسی غلام کو آزاد کرانے میں خرچ کیا، ایک دینار وہ ہے جو تم نے کسی مسکین پر صدقہ کیا، اور ایک دینار وہ ہے جو تم نے اپنے اہلِ خانہ پر خرچ کیا۔ ان سب میں زیادہ اجر والا وہ دینار ہے جو تم نے اپنے اہلِ خانہ پر خرچ کیا۔”
صحیح مسلم: 995
ذرا ٹھہریے۔۔۔
اس حدیث کو صرف خرچ کرنے کی ترغیب سمجھ کر آگے نہ بڑھ جائیے۔۔۔
اس میں ایک بہت بڑی تربیت چھپی ہوئی ہے۔۔۔
انسان اکثر نیکی کو وہاں تلاش کرتا ہے جہاں لوگ اسے دیکھ سکیں۔۔۔
مسجد میں صدقہ دیا، کسی غریب کی مدد کی، کسی دینی کام میں مال لگایا تو دل کو خوشی ہوئی کہ میں نے نیکی کی۔۔۔
مگر رسول اللہ ﷺ ہمیں بتا رہے ہیں کہ وہ مال بھی عبادت بن سکتا ہے جو تم اپنے گھر میں خرچ کرتے ہو۔۔۔
وہ روٹی جو تم اپنے بچوں کے لیے لاتے ہو۔۔۔
وہ لباس جو تم اپنی بیوی کے لیے خریدتے ہو۔۔۔
وہ دوا جو اپنے والدین کے لیے لیتے ہو۔۔۔
وہ فیس جو اپنی اولاد کی تعلیم کے لیے دیتے ہو۔۔۔
وہ گھر کا خرچ جس کے لیے تم صبح سے شام تک محنت کرتے ہو۔۔۔
اگر نیت اللہ کی رضا ہو تو یہ سب محض دنیاوی مصروفیات نہیں رہتیں۔۔۔
یہ تمہارے لیے آخرت کا سرمایہ بن جاتی ہیں۔۔۔
تم اپنے گھر والوں کے لیے کماتے ہو اور اللہ تمہارے لیے آخرت کا اجر لکھ دیتا ہے۔۔۔
تم سمجھتے ہو کہ میں اپنے اہل و عیال کا خرچ اٹھا رہا ہوں۔۔۔
اللہ کے نزدیک:
یہ تمہارا صرف خرچ کرنا نہیں، تمہاری عبادت ہے، اگر نیت میری رضا کی ہے۔۔۔
اسی لیے اپنے گھر والوں کے ساتھ حسنِ سلوک کو معمولی نہ سمجھو۔۔۔
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
“يَنْبَغِي لِلرَّجُلِ أَنْ يُحْسِنَ إِلَى أَهْلِ دَارِهِ حَتَّى يَكُونَ أَحَبَّ النَّاسِ إِلَيْهِمْ”
“آدمی کو چاہیے کہ اپنے گھر والوں کے ساتھ حسنِ سلوک کرے، یہاں تک کہ وہ ان کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب شخص بن جائے۔”
ذرا اس جملے پر غور کیجیے۔۔۔
سب سے زیادہ محبوب شخص۔۔۔
گھر میں تمہاری حیثیت صرف یہ نہیں ہونی چاہیے کہ تم خرچ اٹھاتے ہو۔۔۔
تم وہ شخص بھی ہو جس کے آنے سے گھر والوں کے دل خوش ہوجائیں۔۔۔
جس کی آواز سے گھر میں خوف نہیں، خوشی و اطمینان پیدا ہو۔۔۔
جس کے چہرے کو دیکھ کر بیوی کو سکون محسوس ہو۔۔۔
جس کے پاس بیٹھ کر بچے تحفظ و اپنائیت سے اپنی بات کہہ سکیں۔۔۔
جس کے والدین اس کے ساتھ اپنے بڑھاپے کو بوجھ نہ سمجھیں۔۔۔
باہر کی دنیا میں اچھا بن جانا بہت آسان ہے۔۔۔
وہاں آدمی اپنے اخلاق کو سنبھال کر رکھتا ہے۔۔۔
لوگوں کے سامنے مسکرا لیتا ہے۔۔۔
نرم لہجے میں بات کرلیتا ہے۔۔۔
مگر گھر؟
گھر تو وہ جگہ ہے جہاں انسان کی حقیقت ظاہر ہوتی ہے۔۔۔
وہاں نہ بناوٹ زیادہ دیر چلتی ہے، نہ کردار چھپتا ہے۔۔۔
اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ»
“تم میں بہترین وہ ہے جو اپنے اہلِ خانہ کے لیے بہترین ہے۔”
تو اپنے آپ کو دیکھو۔۔۔
لوگ تم سے خوش ہیں، یہ بڑی بات نہیں۔۔۔
تمہارے گھر والے تم سے خوش ہیں یا نہیں؟
لوگ تمہیں بڑا سخی سمجھتے ہیں، یہ بھی بڑی بات نہیں۔۔۔
تمہارے گھر والوں کو تمہارے ہاتھ سے خرچ کرتے ہوئے اطمینان ملتا ہے یا ہر ضرورت کے لیے مانگتے ہوئے خوف محسوس ہوتا ہے؟
لوگ تمہیں بڑا دیندار سمجھتے ہیں، یہ بھی کافی نہیں۔۔۔
تمہاری دینداری نے تمہارے گھر میں رحمت پیدا کی یا سختی؟
تمہاری نماز نے تمہارے اخلاق کو نرم کیا یا تمہاری زبان کو مزید سخت؟
تمہاری عبادت سے تمہارے گھر والے اللہ کے قریب ہوئے یا تمہارے رویے سے دین ہی سے گھبرانے لگے؟
اے لوگو!
اپنے گھر کو اپنی نیکیوں کا پہلا مرکز و میدان بنا۔۔۔
اپنی بیوی کو عزت دو۔۔۔
اپنی اولاد کو وقت دو۔۔۔
اپنے والدین کے ساتھ نرمی کرو۔۔۔
ان کی ضروریات کو احسان نہ سمجھو۔۔۔
اور جو کچھ اللہ نے آپکو دیا ہے، اسے صرف اپنی ذات تک محفوظ یا جمع رکھنے کی بجائے ان لوگوں پر بھی خرچ کرو جنہیں اللہ نے آپکے ذمہ کیا ہے۔۔۔
یاد رکھیں۔۔۔
گھر والوں کی ضروریات پوری کرنا صرف ذمہ داری نہیں، نیت درست ہوجائے تو عبادت ہے۔۔۔
ان کی دلجوئی کرنا عبادت ہے۔۔۔
ان کے لیے آسانی پیدا کرنا عبادت ہے۔۔۔
ان کی غلطیوں کو معاف کرنا عبادت ہے۔۔۔
ان کے ساتھ نرمی کرنا عبادت ہے۔۔۔
اور کبھی کبھی تو صرف یہ کہ تم تھکے ہوئے گھر آئے، یقیناً چڑچڑا پن آجاتا ہے مگر اسکے باوجود اپنی تھکن کا غصہ ان بے قصور لوگوں پر نہیں نکالا، یہ عظیم صبر ہے اور یہ بھی ایک بڑی نیکی ہے۔۔۔
کسی کے لیے باہر دنیا سے لڑتے رہنا کمال نہیں۔۔۔
اصل کمال یہ ہے کہ انسان دنیا کی سختیوں سے لڑ کر گھر آئے تو اپنے گھر والوں کے لیے پھر بھی رحمت بن جائے۔۔۔
اپنے گھر والوں کے دل جیت لیجیے۔۔۔
صرف ان کے اخراجات نہیں اٹھائیے، ان کے دلوں کی ساری توجہ بھی اٹھائیے۔۔۔
صرف ان کے لیے روٹی نہ لائیے، ان کے لیے سکون بھی لائیے۔۔۔
صرف بچوں کی فیس نہ دیجیے، ان کے ساتھ بیٹھ کر ان کی بات بھی سنیے۔۔۔
صرف بیوی کی ضروریات پوری نہ کیجیے، اسے یہ احساس بھی دیجیے کہ وہ آپ کے لیے بوجھ نہیں، اللہ کی بڑی نعمت اور عطا ہے۔۔۔
صرف والدین کے لیے مادی چیزوں پر خرچ نہ کیجیے، ان کے بڑھاپے میں ان کے دلوں کا سہارا بھی بنیے۔۔۔
کیونکہ مال تو خرچ ہوجاتا ہے۔۔۔
مگر اچھا برتاؤ دل میں رہ جاتا ہے۔۔۔
اور ایک دن ایسا بھی آئے گا جب یہ گھر، یہ مال، یہ مصروفیات، یہ کاروبار، یہ سب پیچھے رہ جائے گا۔۔۔
اور تم اپنے رب کے سامنے کھڑے ہوگے۔۔۔
تب شاید تمہیں معلوم ہو کہ دنیا میں اپنے گھر والوں کے لیے جو روٹی کمائی تھی، وہ بھی آپکے لیے آخرت میں کیسا عظیم زادِ راہ بن گئی۔۔۔
اس لیے اپنے گھر کو معمولی نہ سمجھو۔۔۔
ممکن ہے آپکی سب سے بڑی نیکی وہ نہ ہو جسے آپ بڑی نیکی سمجھتے ہیں یا باہر اسے لوگوں نے دیکھا اور گواہ ہوگئے۔۔۔
بلکہ وہ ہو جسے صرف اللہ نے دیکھا۔۔۔
ایک باپ کا خاموشی سے اولاد کے لیے محنت کرنا۔۔۔
ایک شوہر کا اپنی بیوی کی ضرورت خاموشی اور احسن طریقے سے پوری کرنا۔۔۔
ایک بیٹے کا اپنے بوڑھے والدین کا ہر طرح سے خیال رکھنا۔۔۔
اور پھر دل میں کہنا:
یا اللہ! یہ تیرے حکم کی ادائیگی کے لیے ہے۔۔۔
تیری رضا و خوشنودی کے لیے ہے۔۔۔
بیشک یہ میرے پاس تیری امانت ہے۔۔۔
یہی تو وہ مال ہے جس میں برکت بھی ہے اور اجر بھی۔۔۔
پس اگر جنت چاہتے ہو تو اپنے گھر سے آغاز کرو۔۔۔
اپنے گھر والوں کے لیے خیر بنو۔۔۔
اور کبھی کبھی اپنے گھر والوں سے بھی پوچھ لیا کیجیے۔۔۔
کیا میں تمہارے لیے واقعی اچھا ہوں؟
کیونکہ ممکن ہے مخلوق تمہاری تعریف کررہی ہو اور تمہارے گھر والے تمہارے کوئی شکایت اپنے دل میں لیے بیٹھے ہوں۔۔۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے اہل و عیال کے حقوق ادا کرنے، ان کے لیے رحمت بننے، حلال رزق کمانے، خرچ کرنے میں اخلاص رکھنے اور اپنے گھروں کو محبت، سکون کا گہوارہ اور دین کا مضبوط قلعہ بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔۔۔
آمین یا رب العالمین 🤲🏻
محمد جواد الحسن عباسی
متعلم درجہ سابعہ
جامعہ حبیبیہ اسلامک اکیڈمی مقبول آباد سوسائٹی کراچی

