«فِي أَصْحَابِي اثْنَا عَشَرَ مُنَافِقًا» کا درست مفہوم
سب سے پہلے حدیث کے الفاظ ملاحظہ کریں۔ روایت کے الفاظ «فِي أَصْحَابِي اثْنَا عَشَرَ مُنَافِقًا» ہیں، «مِنْ أَصْحَابِي» نہیں۔
لہٰذا «فِي أَصْحَابِي» کا مفہوم یہ نہیں کہ میرے صحابہ میں سے بارہ منافق ہیں، بلکہ مفہوم یہ ہے کہ میرے صحابہ کے درمیان بارہ منافق داخل اور شامل ہوگئے ہیں۔ یعنی منافقین کو بطورِ وصف صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر محمول کرنا مقصود نہیں، بلکہ ان منافقین کے جماعتِ صحابہ میں موجود ہونے کی خبر دینا مقصود ہے۔
اس فرق کو ایک سادہ مثال سے سمجھا جاسکتا ہے۔ اگر کوئی شخص کہے:
“میرے دوستوں میں بارہ جاسوس ہیں۔”
تو اس جملے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ میرے دوست جاسوس ہیں یا ان لوگوں پر بیک وقت ’’دوست‘‘ اور ’’جاسوس‘‘ دونوں اوصاف ثابت کیے جا رہے ہیں؛ بلکہ مفہوم یہ ہے کہ کچھ جاسوس میرے دوستوں کے درمیان شامل ہوگئے ہیں۔ جاسوس ہونا ان کی اصل حیثیت ہے اور دوستوں میں ہونا ان کے موجود ہونے کی نسبت ہے۔
اسی طرح «فِي أَصْحَابِي اثْنَا عَشَرَ مُنَافِقًا» میں منافق ہونا ان اشخاص کا وصف ہے، جبکہ «فِي أَصْحَابِي» ان کے جماعتِ صحابہ کے درمیان موجود ہونے کو بیان کرتا ہے۔ لہٰذا اس عبارت سے صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جماعت پر نفاق کا اطلاق لازم نہیں آتا۔
غرضِ خبر کے اعتبار سے حدیث کا مفہوم
مزید برآں، علمِ معانی کا ایک اصول یہاں قابلِ توجہ ہے کہ خبر کے مختلف اغراض ہوتے ہیں، جن میں فائدۂ خبر اور لازمِ فائدۂ خبر بھی شامل ہیں۔
فائدۂ خبر سے مراد یہ ہے کہ متکلم مخاطب کو کسی ایسے حکم کا علم دے جو اسے پہلے معلوم نہ ہو۔ مثلاً کوئی کہے:
«زَيْدٌ قَائِمٌ»
تو اگر مخاطب کو زید کے قیام کا علم نہیں تھا، اس جملے سے اسے زید کے قیام کا علم حاصل ہوگا۔ یہی فائدۂ خبر ہے۔
پس جب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«فِي أَصْحَابِي اثْنَا عَشَرَ مُنَافِقًا»
تو صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو یہ خبر دی کہ ان کے درمیان بارہ منافق موجود ہیں، تاکہ انہیں اس امر کا علم ہوجائے۔
اسی طرح لازمِ فائدۂ خبر یہ ہوتا ہے کہ مخاطب کو یہ باور کرانا مقصود ہو کہ جو بات تم جانتے ہو، میں بھی اس سے باخبر ہوں۔ مثلاً کسی شخص کے پاس زید موجود ہو اور وہ یہ سمجھ رہا ہو کہ آپ کو زید کے وہاں ہونے کا علم نہیں، تو آپ کہیں:
«زَيْدٌ عِنْدَكَ»
یعنی: زید تمہارے پاس ہے۔
یہاں مقصود محض زید کے وہاں ہونے کی اطلاع دینا نہیں، بلکہ یہ بھی جتانا ہے کہ مجھے بھی اس کے وہاں ہونے کا علم ہے۔
اسی اصول کی روشنی میں یہ احتمال بھی بالکل واضح ہے کہ منافقین یہ سمجھتے ہوں کہ شاید رسول اللہ ﷺ ان کے نفاق سے واقف نہیں، تو آپ ﷺ نے ان کے بارے میں یہ خبر دے کر واضح فرما دیا کہ مجھے ان منافقین کا علم ہے۔ البتہ ان کے نام اسی وقت عام نہ فرمانا کسی حکمت کے تحت تھا۔
پھر جب موقع آیا تو رسول اللہ ﷺ نے بعض منافقین کو ان کے ناموں کے ساتھ ظاہر فرمایا، جیسا کہ تفسیر درمنثور میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے:
«قامَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَوْمَ جُمُعَةٍ خَطِيبًا، فَقالَ: قُمْ يا فُلانُ فاخْرُجْ فَإنَّكَ مُنافِقٌ، اخْرُجْ يا فُلانُ، فَإنَّكَ مُنافِقٌ. فَأخْرَجَهم بِأسْمائِهِمْ فَفَضَحَهُمْ…»
یعنی رسول اللہ ﷺ جمعہ کے دن خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: اے فلاں! کھڑے ہو کر نکل جاؤ، بے شک تم منافق ہو۔ پھر ایک ایک کا نام لے کر انہیں نکالا اور ان کی پردہ دری فرمائی۔
(الدر المنثور، تفسیر آیت: ﴿وَمِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِنَ الْأَعْرَابِ مُنَافِقُونَ﴾)
لہٰذا «فِي أَصْحَابِي اثْنَا عَشَرَ مُنَافِقًا» کا صحیح مفہوم یہی ہے کہ جماعتِ صحابہ کے درمیان بارہ منافق موجود یا شامل ہوگئے تھے؛ یہ ہرگز نہیں کہ معاذ اللہ صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے بارہ افراد منافق تھے۔
صحابۂ کرام کے بارے میں قرآنی اصول
صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں ایک نہایت اہم قرآنی اصول ہمیشہ پیشِ نظر رہنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ آمِنُوا كَمَا آمَنَ النَّاسُ قَالُوا أَنُؤْمِنُ كَمَا آمَنَ السُّفَهَاءُ ۗ أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَاءُ وَلَٰكِنْ لَا يَعْلَمُونَ﴾
(البقرة: 13)
جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جس طرح دوسرے لوگ ایمان لائے ہیں، تم بھی ایمان لاؤ تو وہ کہتے ہیں: کیا ہم بھی ان بے وقوفوں کی طرح ایمان لے آئیں؟ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس طرزِ کلام کو رد کرتے ہوئے فرمایا:
«أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَاءُ وَلَٰكِنْ لَا يَعْلَمُونَ»
یعنی خبردار! بے وقوف وہ خود ہیں، لیکن انہیں شعور نہیں۔
یہاں «آمَنُوا كَمَا آمَنَ النَّاسُ» میں جن لوگوں کے ایمان کو معیار بنایا گیا، مفسرین نے ان سے مراد رسول اللہ ﷺ کے اصحاب کو بھی بیان کیا ہے۔ منافقین نے ان مقدس نفوس کے ایمان کو سفاہت قرار دیا، تو اللہ تعالیٰ نے ان کے اس طعن کا جواب دیتے ہوئے سفاہت کا وصف انہی طعن کرنے والوں کی طرف لوٹا دیا۔
لہٰذا صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں زبان کھولتے وقت یہ قرآنی اصول پیشِ نظر رہنا چاہیے کہ جس وصف کو منافقین نے صحابہ کی طرف منسوب کیا، قرآن نے اسی وصف کو منافقین ہی کی طرف لوٹا دیا۔
اس سے یہ اصول واضح ہوا کہ جو صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بے وقوف کہے، وہ خود بے وقوف ہے؛ جو انہیں گمراہ کہے، وہ خود گمراہ ہے؛ جو انہیں منافق کہے، وہ خود منافق ہے؛ جو ان پر لعنت کرے، وہ خود لعنتی ہے؛ اور جو انہیں کافر کہے، وہ خود کافر ہے۔
خلاصہ یہ کہ:
«فِي أَصْحَابِي» کو «مِنْ أَصْحَابِي» بنا کر پیش کرنا ہی پہلے مرحلے میں لفظی و معنوی تحریف ہے، اور پھر اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ صحابۂ کرام میں سے بارہ منافق تھے، عبارت کے سیاق، عربی اسلوب اور غرضِ خبر—تینوں کے خلاف ہے۔
ابو الحسن

