Articles

اہلِ سنت کی فکری و عملی کمزوری

امام اہل سنت فرماتے ہیں: سنیوں میں عوام کی توجہ لہو و لعب و ہزل کی طرف ہے اور بدمذہب — رافضی ہوں یا وہابی یا قادیانی یا آریہ یا نصارٰی — سب اپنے اپنے مذہب کی نصرت و حمایت و اشاعت میں کمربستہ ہیں، مال سے، اعمال سے، اقوال سے۔ سنیوں کو کون پوچھتا ہے؟”

(بحوالہ: ابتدائیہ فتاویٰ رضویہ، جلد ۱۴، از علامہ عبد الحکیم شرف قادری علیہ الرحمہ)

یہ اقتباس امامِ اہلِ سنت کے فکر و دردِ ملت کا آئینہ دار ہے۔ اس میں انہوں نے اہلِ سنت کی فکری و عملی کمزوری پر تنبیہ کی ہے کہ جہاں دوسرے مذاہب و فرقے اپنے عقائد کی ترویج میں سرگرم ہیں، وہاں سنی عوام لہو و لعب اور غیر سنجیدہ مشاغل میں الجھ کر اپنی دینی و فکری ذمہ داریوں سے غافل ہو گئے ہیں۔ اس اقتباس میں بیداریِ شعور اور دعوتِ عمل کا پیغام پوشیدہ ہے — کہ اہلِ سنت کو چاہیے اپنی توانائیاں دین کی خدمت، علم کی اشاعت اور اتحادِ امت کی مضبوطی کے لیے وقف کریں۔

یہ جملے دراصل اصلاحی للکار ہیں، مایوسی نہیں بلکہ خود آگہی اور عمل کی دعوت دیتے ہیں۔

ابو الحسن

Views: 0
keyboard_arrow_up