حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں نصیحت فرمائی:
«يَا أَبَا ذَرٍّ! جَدِّدِ السَّفِينَةَ، فَإِنَّ الْبَحْرَ عَمِيقٌ، وَخَفِّفِ الْحَمْلَ، فَإِنَّ السَّفَرَ بَعِيدٌ، وَاحْمِلِ الزَّادَ، فَإِنَّ الْعَقَبَةَ طَوِيلَةٌ، وَأَخْلِصِ الْعَمَلَ، فَإِنَّ النَّاقِدَ بَصِيرٌ»
اے ابوذر! اپنی کشتی کو درست کرلو، کیونکہ سمندر بہت گہرا ہے۔۔۔ اپنا بوجھ ہلکا کرلو، کیونکہ سفر بہت دور ہے۔۔۔ زادِ راہ ساتھ لے لو، کیونکہ گھاٹی بہت طویل ہے۔۔۔ اور اپنے عمل کو خالص کرلو، کیونکہ پرکھنے والا خوب دیکھنے والا ہے۔
یہ چند الفاظ ہیں، مگر اگر دل میں اتر جائیں تو پوری زندگی کا رخ بدل دینے کے لیے کافی ہیں۔۔۔
“جَدِّدِ السَّفِينَةَ”
اپنی کشتی کو درست کرلو۔۔۔
کشتی سے مراد تمہارا ایمان ہے۔۔۔ تمہارا دل ہے۔۔۔ تمھارا نفس ہے۔۔۔ تمہارا عمل ہے۔۔۔ تمہاری وہ زندگی ہے جسے لے کر تم دنیا کے سمندر میں سفر کررہے ہو۔۔۔
کشتی نئی ہونے سے مراد یہ نہیں کہ دنیا چھوڑ دو۔۔۔ بلکہ مراد یہ ہے کہ اپنے ایمان کی تجدید کرتے رہو، اپنی نیت کو درست کرتے رہو، اپنے اعمال کی اصلاح کرتے رہو۔۔۔
کیونکہ کشتی اگر باہر سے خوبصورت ہو اور اندر سے ٹوٹی ہوئی ہو تو سمندر کے بیچ جاکر اس کی حقیقت کھل جاتی ہے۔۔۔
اسی طرح انسان لوگوں کے درمیان نیک دکھائی دے، مگر اس کے دل میں اخلاص نہ ہو، تو اس کی حقیقت اس دن ظاہر ہوگی جب وہ اپنے رب کے سامنے کھڑا ہوگا۔۔۔
پھر فرمایا:
“فَإِنَّ الْبَحْرَ عَمِيقٌ”
سمندر بہت گہرا ہے۔۔۔
یہ دنیا بھی ایک سمندر ہے۔۔۔ اس میں خواہشات کی موجیں ہیں۔۔۔ شہوتوں کی موجیں ہیں۔۔۔ حرام مال کی موجیں ہیں۔۔۔ شہرت کی موجیں ہیں۔۔۔ لوگوں کی تعریف اور مذمت کی موجیں ہیں۔۔۔ غفلت کے طوفان ہیں۔۔۔
اور انسان اگر اپنی کشتی کو مضبوط نہ رکھے تو کوئی ایک بڑی موج بھی اسے اپنی طرف کھینچ سکتی ہے۔۔۔
اس لیے اپنے دل کی خبر لیتے رہو۔۔۔
آج ایمان کی کیفیت کیا ہے؟
آج نماز کا حال کیا ہے؟
آج قرآن سے تعلق کیسا ہے؟
آج دل میں اللہ کی محبت کتنی ہے؟
آج گناہ سے خوف باقی ہے یا نہیں؟
کیونکہ جو شخص اپنی کشتی کا جائزہ نہیں لیتا، اسے اکثر کشتی کے ڈوبنے کا علم اس وقت ہوتا ہے جب پانی اندر آچکا ہوتا ہے۔۔۔
پھر فرمایا:
“وَخَفِّفِ الْحَمْلَ، فَإِنَّ السَّفَرَ بَعِيدٌ”
اپنا بوجھ ہلکا کرلو، کیونکہ سفر بہت دور ہے۔۔۔
اے انسان!
اپنے اوپر گناہوں کا بوجھ مت لادتے جاؤ۔۔۔
ایک گناہ کیا، پھر دوسرا۔۔۔ پھر تیسرا۔۔۔ پھر توبہ کو مؤخر کیا۔۔۔ پھر دل کو سمجھایا کہ ابھی عمر پڑی ہے۔۔۔
مگر عمر کس نے دیکھی ہے؟
جس شخص کو یہ معلوم ہی نہیں کہ سفر کب ختم ہوجائے گا، وہ اپنے سامان میں ایسی چیزیں کیوں رکھتا جائے جو منزل پر اس کے خلاف گواہی دیں گی؟
دنیا کا مسافر بھی غیر ضروری بوجھ کم کرتا ہے۔۔۔ کیونکہ اسے معلوم ہے کہ زیادہ بوجھ سفر کو دشوار کردیتا ہے۔۔۔
تو آخرت کے مسافر کو اتنی غفلت کیسے ہوسکتی ہے!
اپنا بوجھ ہلکا کریں۔۔۔
حقوق اللہ و حقوق العباد ادا کریں۔۔۔
دلوں کو تکلیف دی ہے تو معافی مانگیں۔۔۔
مرتکب حرام ہیں تو اسے چھوڑیں۔۔۔
گناہوں کی دلدل سے نکلیں۔۔۔
توبہ کریں۔۔۔
اور جس جس چیز نے اللہ سے دور کردیا ہے اسے اپنے کندھے سے اتار دیں۔۔۔
پھر فرمایا:
“وَاحْمِلِ الزَّادَ، فَإِنَّ الْعَقَبَةَ طَوِيلَةٌ”
زادِ راہ ساتھ لے لو، کیونکہ گھاٹی بہت طویل ہے۔۔۔
یہاں ہمیں اپنے آپ سے سوال کرنا چاہیے:
میں نے آخرت کے لیے کیا جمع کیا ہے؟
نماز۔۔۔؟
قرآن۔۔۔؟
صدقہ۔۔۔؟
ذکر۔۔۔؟
والدین کی خدمت۔۔۔؟
کسی غریب کی مدد۔۔۔؟
کسی مظلوم کا ساتھ۔۔۔؟
کسی گناہ سے صرف اللہ کے لیے رک جانا۔۔۔؟
کسی کے عیب پر پردہ ڈال دینا۔۔۔؟
کسی کے دل میں امید پیدا کردینا۔۔۔؟
یہی زادِ سفر ہے۔۔۔
دنیا کا سفر ختم ہونے والا ہے، مگر آخرت کا سفر طویل ہے۔۔۔
اور قرآن کہتا ہے:
وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَىٰ
زادِ راہ لے لیا کرو، اور بے شک بہترین زادِ راہ تقویٰ ہے۔
پس اپنے ساتھ دنیا کی چیزیں کم اور تقویٰ زیادہ لے جاؤ۔۔۔
مال اگر ہاتھ میں ہو تو نعمت ہے، دل میں ہو تو مصیبت بن سکتا ہے۔۔۔
شہرت اگر اللہ کی رضا کے لیے ہو تو آزمائش ہے، اور اگر نفس کے لیے ہو تو ہلاکت کا سبب بن سکتی ہے۔۔۔
اصل زاد راہ وہ ہے جو قبر کے پار بھی تمہارے ساتھ جائے۔۔۔
پھر فرمایا:
“وَأَخْلِصِ الْعَمَلَ، فَإِنَّ النَّاقِدَ بَصِيرٌ”
اپنے عمل کو خالص کرلو، کیونکہ پرکھنے والا (اللّٰہ) خوب دیکھنے والا ہے۔۔۔
اللّٰہ اللّٰہ
میرے حضور ﷺ نے
یہاں ساری بات کا راز کھول دیا۔۔۔
صرف عمل کافی نہیں۔۔۔
عمل کے ساتھ اخلاص چاہیے۔
لوگ تمہارا عمل دیکھیں گے، اللہ تمہارا دل دیکھے گا۔۔۔
لوگ کہیں گے کہ یہ بڑا نیک آدمی ہے۔۔۔
مگر اللہ جانتا ہے کہ اس عمل کے پیچھے کیا تھا۔۔۔
لوگ تمہاری تعریف کریں گے۔۔۔ مگر اللہ جانتا ہے کہ تم تنہائی میں کون تھے۔۔۔
اسی لیے فرمایا:
“فَإِنَّ النَّاقِدَ بَصِيرٌ”
جس کے سامنے تمہارا سودا ہونا ہے، وہ بہت خوب دیکھنے والا ہے۔۔۔
وہ صرف یہ نہیں دیکھتا کہ تم نے کیا کیا۔۔۔
وہ یہ بھی دیکھتا ہے کہ کیوں کیا؟
لوگوں کے لیے؟
اپنی شہرت کے لیے؟
اپنی بڑائی کے لیے؟
یا صرف اس لیے کہ میرا رب راضی ہوجائے؟
یہی اخلاص ہے۔۔۔
اور یہی وہ دولت ہے جس کے بغیر بہت سا عمل بھی انسان کو اس مقام تک نہیں پہنچاتا جہاں ایک چھوٹا سا عمل اخلاص کے ساتھ پہنچا دیتا ہے۔۔۔
لہٰذا اے حضرت ابوذر کے ذریعے مخاطب ہونے والے انسان!
اپنی کشتی درست کر۔۔۔
اپنا بوجھ ہلکا کر۔۔۔
اپنا زادِ سفر جمع کر۔۔۔
اپنے عمل کو خالص کر۔۔۔
سمندر گہرا ہے۔۔۔
سفر طویل ہے۔۔۔
گھاٹی دشوار ہے۔۔۔
اور پرکھنے والا ایسا ہے جس سے دل کا کوئی راز پوشیدہ نہیں۔۔۔
دنیا میں لوگ تمہیں جانتے ہوں یا نہ جانتے ہوں، اس کی فکر نہ کرو۔۔۔
بس اتنا دیکھ لو کہ عظمتوں والا رب تمہیں جانتا ہے۔۔۔
لوگ تمہارے عمل کی تعداد گنیں یا نہ گنیں، تم اپنے رب کے سامنے قبولیت کی فکر کرو۔۔۔
لوگ تمہیں بڑا سمجھیں یا چھوٹا، تم اپنے رب کے ہاں مقبول ہونے کی فکر کرو۔۔۔
اور جب کبھی دل دنیا میں الجھنے لگے تو اپنے آپ سے صرف یثیی چار سوال کرلیا کرو:
میری کشتی کیسی ہے؟
میرا بوجھ کتنا ہے؟
میرا زادِ سفر کتنا ہے؟
اور میرے عمل میں اخلاص کتنا ہے؟
اگر ان چار سوالوں کا جواب درست ہوگیا تو سمجھو تم نے اپنی اصل زندگی کی فکر شروع کردی۔۔۔
ورنہ انسان دنیا کے ایک چھوٹے سے سفر کے لیے برسوں تیاری کرتا رہتا ہے، مگر اس آخری سفر کے لیے خالی ہاتھ چلا جاتا ہے۔۔۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی کشتی درست کرنے، اپنا بوجھ ہلکا کرنے، آخرت کا زادِ راہ جمع کرنے اور اپنے ہر عمل کو خالص کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔۔۔
آمین یا رب العالمین 🤲🏻
محمد جواد الحسن عباسی بن قاری ممتاز احمد مہروی
متعلم: درجہ سابعہ،
حبیبیہ اسلامک اکیڈمی مقبول آباد سوسائٹی کراچی

