Articles

تمام اہل اسلام کو عیدوں کی عید، ہمارے حضور ﷺ کا یومِ ولادت مبارک

نثار تیری چہل پہل پر ♥️

ہزاروں عیدیں ربیع الاول

سوائے ابلیس کے جہاں میں

سبھی تو خوشیاں منا رہے ہیں

عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم پورے جوش و خروش اور ایمانی جذبے کے ساتھ بھرپور طریقے سے منائیں ۔۔۔

مگر

حضور جان جاناں صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو بھی منائیں، انہیں راضی کرنے کا عہد بھی کریں ۔۔۔

یہ بات ہم سب کے لیے سوچنے کی ہے کہ ہم میلاد النبی صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خوشیاں تو مناتے ہیں، لیکن کیا کبھی یہ بھی غور کیا کہ

حضور علیہ السّلام ہم سے راضی ہیں یا نہیں؟

وہ دین جس کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بے شمار مصیبتیں برداشت کیں، پتھر کھائے، دندان مبارک شہید ہوئے، اپنا وطن اور قبیلہ چھوڑا، ہجرت کی، اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بھی بے پناہ قربانیاں دیں۔

جنکا مقصد و منشور

“لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ” ہے

کیا وہ دین آج دنیا میں قائم ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ آج دین نہ ہمارے ملکوں میں نافذ ہے اور نہ ہی ہمارے گھروں میں۔ جہاں ہمارا اختیار ہے، وہاں بھی ہم نے دین کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ تو کیا محض جھنڈیاں لگانے، لائٹنگ کرنے یا لنگر تقسیم کرنے سے

کیا ہمارے حضور علیہ السّلام ایسے ہی خوش ہو جائیں گے؟

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

“تم اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتے جب تک اپنی خواہشات کو اس کے تابع نہ کر لو جو میں لے کر آیا ہوں (یعنی دین و شریعت)”۔

لیکن ہم نے تو اپنی خواہشات کو دین پر حاوی کر لیا ہے۔ ہم دین کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں، بجائے اس کے کہ اپنی خواہشات کو دین کے تابع کریں۔

ہم نے دین کو آسان پہلوؤں تک محدود کردیا ہے اور جبکہ دین کے وہ احکام و معاملات جو مشکل ہیں ، قربانی اور آزمائش طلب ہیں اور جو ذمہ داریاں ہیں انہیں فراموش کر دیا ہے ، یعنی فرائض کو چھوڑ کر مستحبات کے شارٹ کٹ کے ذریعے جنت کے متلاشی ہیں ۔

اس وقت سب سے بڑا فرض خلافت کا قیام ہے جسے ہم بھول کر گناہ کبیرہ کے مرتکب ہو رہے ہیں ۔

دین اسلام پورے نظام پر نفاذ کا متقاضی ہے مگر ہم نے اسے انفرادی رسومات و عبادات تک محدود کردیا ہے ۔

ہم اپنے اجتماعی معاملات میں یہود ونصاریٰ کے بنائے ہوئے قوانین اور اپنے فرسودہ رسوم و رواج کی پیروی کرتے ہیں ، پورا معاشرہ بے حیائ ، فحاشی اور عریانی اور منشیات میں غرق ہے ، زنا کاری اور ہم جنس پرستی عروج پر ہے۔

جس خطے میں اسلامی تعلیمات و روایات کے خلاف سود و فحاشی کی صورت میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ جاری ہو ۔

کیا وہاں صرف سرکاری طور پر عید میلاد النبی کی چھٹی کرنے اور پورے ملک میں جلسے جلوس نکالنے سے حضور جان جاناں صلی اللہ علیہ وسلم راضی ہو جائیں گے ۔۔۔

حضور علیہ السّلام نے نماز کو اپنی آنکھوں کی ٹھنڈک قرار دیا، مگر ہم نے اس کی پرواہ نہیں کی، نہ خود پابندی کی اور نہ اپنے اہلِ خانہ کو اس کی تلقین کی۔۔۔

آج امتِ مسلمہ پر خصوصاً غزہ میں ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں۔ ہمارے بہن بھائی بھوک و پیاس سے تڑپا تڑپا کر شہید کیے جا رہے ہیں، مگر ہم خاموش، بے حس اور اپنی دنیا میں مگن ہیں۔ اسرائیلی مصنوعات کا کھلے عام استعمال کر رہے ہیں، جانتے ہوئے بھی کہ یہی پیسہ ان پر ظلم ڈھانے میں استعمال ہو رہا ہے۔۔۔

جنہیں حضور علیہ السّلام کی امت کی فکر نہیں انہیں حضور اپنا نہیں سمجھتے چاہے وہ کتنے ہی غلامی رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے دعوے کریں۔۔۔

حضور صلی اللّٰہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:

“جو مسلمانوں کے معاملات کی فکر نہ کرے، وہ ہم میں سے نہیں۔”

لہٰذا میلاد النبی صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ایسے منائیں کہ اصل مقصد حضور علیہ السّلام کو راضی کرنا ہو۔ اگر وہی راضی نہ ہوئے تو یہ جھنڈیاں، لائٹنگ اور جلسے جلوس کس کام کے؟

حضور صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم تب ہی راضی ہونگے جب ہم آپ ﷺ کے لائے دین پر پوری طرح عمل کریں گے اور اپنے معاملات میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی کلیتا پیروی کریں گے اور دین کے نفاذ کے لیے خود بھی کوشش کریں گے اور اپنے گھر والوں اور احباب کو بھی اس مشن کے لیے تیار کریں گے ۔۔۔

محمد جواد الحسن عباسی

متعلم درجہ سابعہ

جامعہ حبیبیہ اسلامک اکیڈمی مقبول آباد سوسائٹی کراچی

Views: 3
keyboard_arrow_up