خَدَمْتُهُ بِمَدِيحٍ أَسْتَقِيلُ بِهِ
ذُنُوبَ عُمْرٍ مَضَى فِي الشِّعْرِ وَالخِدَمِ
میں نے حضور ﷺ کی مدح کے ذریعے خدمت کی اور اپنی گزری ہوئی عمر کے شعر و خدمت سے متعلق لغزشوں کی معافی چاہی۔
إِذْ قَلَّدَانِيَ مَا تُخْشَى عَوَاقِبُهُ
كَأَنَّنِي بِهِمَا هَدْىٌ مِنَ النَّعَمِ
شعر اور دنیاوی خدمت نے مجھ پر ایسی ذمہ داریاں ڈالیں جن کے انجام سے ڈرتا ہوں، گویا قربانی کا جانور ہوں۔
أَطَعْتُ غَيَّ الصِّبَا فِي الحَالَتَيْنِ وَمَا
حَصَلْتُ إِلاَّ عَلَى الآثَامِ وَالنَّدَمِ
میں نے جوانی میں خواہشات کی پیروی کی اور اس تجارت سے گناہ اور ندامت کے سوا کچھ حاصل نہ کیا۔
فَيَا خَسَارَةَ نَفْسٍ فِي تِجَارَتِهَا
لَمْ تَشْتَرِ الدِّينَ بِالدُّنْيَا وَلَمْ تَسُمِ
میرے نفس کی تجارت کتنی خسارے والی رہی کہ اس نے دنیا کے بدلے دین نہ خریدا اور نہ نفع کا سودا کیا۔
وَمَنْ يَبِعْ آجِلاً مِنْهُ بِعَاجِلِهِ
يَبِنْ لَهُ الْغَبْنُ فِي بَيْعٍ وَفِي سَلَمِ
جو شخص آخرت کو دنیا کے بدلے بیچ دے، اس کا نقصان ظاہر ہے اور وہ اپنی خرید و فروخت میں گھاٹے میں رہتا ہے۔
إِنْ آتِ ذَنْبًا فَمَا عَهْدِي بِمُنْتَقِضٍ
مَنَ النَّبِيِّ وَلاَ حَبْلِي بِمُنْصَرِمِ
اگر مجھ سے گناہ سرزد ہوئے ہیں تو حضور ﷺ سے میری نسبت اور عہد کی امید منقطع نہیں ہوتی۔
فَإِنَّ لِي ذِمَّةً مِنْهُ بِتَسْمِيَتيِ
مُحَمَّداً وَهْوَ أَوْفَى الخَلْقِ بِالذِّمَمِ
میرا نام محمد ہونے کے سبب مجھے حضور ﷺ سے ایک نسبت حاصل ہے، اور آپ ﷺ عہد پورا کرنے والوں میں سب سے زیادہ وفادار ہیں۔
إِنْ لَمْ يَكُنْ فِي مَعَادِي آخِذًا بِيَدِي
فَضْلاً وَإِلاَّ فَقُلْ يَا زَلَّةَ القَدَمِ
اگر قیامت کے دن حضور ﷺ نے میرا ہاتھ نہ تھاما تو میرے لیے قدم جمانا ممکن نہ ہوگا۔
حَاشَاهُ أَنْ يَحْرِمَ الرَّاجِي مَكَارِمَهُ
أَوْ يَرْجِعَ الجَارُ مِنْهُ غَيْرَ مُحْتَرَمِ
یہ ممکن نہیں کہ حضور ﷺ کا کرم امید رکھنے والے کو محروم کرے یا آپ ﷺ کی پناہ کا پڑوسی بے عزت لوٹے۔
وَمُنْذُ أَلْزَمْتُ أَفْكَارِي مَدَائِحَهُ
وَجَدْتُهُ لِخَلاَصِي خَيْرَ مُلْتَزِمِ
جب سے میں نے اپنی فکر کو حضور ﷺ کی مدح کے لیے وقف کیا، میں نے اسے اپنی نجات کے لیے بہترین ذریعہ پایا۔
وَلَنْ يَفُوتَ الغِنَى مِنْهُ يَدًا تَرِبَتْ
إِنَّ الحَيَا يُنْبِتَ الأَزْهَارَ فِي الأَكَمِ
حضور ﷺ کے دستِ کرم سے محتاج محروم نہیں رہتا، جیسے بارش سے پہاڑیوں پر بھی پھول کھل اٹھتے ہیں۔
وَلَمْ أُرِدْ زَهْرَةَ الدُّنْيَا الَّتيِ اقْتَطَفَتْ
يَدَا زُهَيْرٍ بِمَا أَثْنَى عَلَى هَرِمِ
میں نے حضور ﷺ کی مدح سے زہیر کی طرح دنیاوی مال حاصل کرنا مقصود نہیں کیا؛ زہیر نے اپنی مدح سے ہرم کے عطیات پائے تھے۔