يَا أَكْرَمَ الخَلْقِ مَالَي مَنْ أَلُوذُ بِهِ
سِوَاكَ عِنْدَ حُلُولِ الحَادِثِ العَمِمِ
اے تمام مخلوق میں سب سے زیادہ کریم! عام اور سخت مصیبت کے وقت آپ ﷺ کے سوا میرے لیے کوئی پناہ نہیں۔
وَلَنْ يَضِيقَ رَسُولَ اللهِ جَاهُكَ بيِ
إِذَا الكَرِيمُ تَجَلَّى بِاسْمِ مُنْتَقِمِ
یا رسول اللہ ﷺ! جب اللہ تعالیٰ اپنے اسمِ منتقم کے ساتھ تجلی فرمائے گا تو آپ ﷺ کا مرتبہ میری شفاعت سے تنگ نہ ہوگا۔
فَإِنَّ مِنْ جُودِكَ الدُّنْيَا وَضَرَّتَهَا
وَمِنْ عُلُومِكَ عِلْمَ اللَّوْحِ وَالقَلَمِ
بے شک دنیا اور آخرت آپ ﷺ کے جود سے ہیں اور لوح و قلم کا علم بھی آپ ﷺ کے عطا کردہ علوم کے ایک حصے سے ہے۔
يَا نَفْسُ لاَ تَقْنَطِي مِنْ زَلَّةٍ عَظُمَتْ
إَنَّ الكَبَائِرَ فِي الغُفْرَانِ كَاللَّمَمِ
اے نفس! اپنے بڑے گناہوں کے سبب ناامید نہ ہو؛ اللہ تعالیٰ کی مغفرت کے سامنے بڑے گناہ بھی معمولی ہیں۔
لَعَلَّ رَحْمَةَ رَبِّي حِينَ يَقْسِمُهَا
تَأْتِي عَلَى حَسَبِ العِصْيَانِ فِي الْقِسَمِ
امید ہے کہ جب میرے رب کی رحمت تقسیم ہوگی تو میری نافرمانی کے حساب سے بھی اس رحمت میں میرا حصہ ہوگا۔
يَا رَبِّ وَاجْعَلْ رَجَائِي غَيْرَ مُنْعَكِسٍ
لَدَيْكَ وَاجْعَلْ حِسَابِي غَيْرَ مُنْخَرِمِ
اے میرے رب! اپنی بارگاہ میں میری امید کو خلافِ مراد نہ فرما اور میرے حساب کو تباہ نہ ہونے دے۔
وَالْطُفْ بِعَبْدِكَ فِي الدَّارَيْنِ إَنَّ لَهُ
صَبْرًا مَتَى تَدْعُهُ الأَهْوَالُ يَنْهَزِمِ
اے اللہ! اپنے بندے پر دنیا و آخرت میں لطف و کرم فرما؛ مصیبتوں کے وقت اس کا صبر کمزور پڑ جاتا ہے۔
وَأْذَنْ لِسُحْبِ صَلاَةٍ مِنْكَ دَائِمَةٍ
عَلَى النَّبِيِّ بِمُنْهَلٍّ وَمُنْسَجِمِ
اے اللہ! اپنی رحمت کے بادلوں کو حکم دے کہ وہ ہمیشہ حضور نبی کریم ﷺ پر مسلسل درود و سلام کی بارش کرتے رہیں۔
مَا رَنَّحَتْ عَذَبَاتِ الْبَانِ رِيحُ صَبًا
وَأَطْرَبَ الْعِيسَ حَادِي الْعِيسِ بِالنَّغَمِ
تیری مدح و ثنا اس وقت تک جاری رہے جب تک بادِ صبا بان کی شاخوں کو ہلاتی اور ساربان اپنے نغموں سے اونٹوں کو خوش کرتا رہے۔
ثُمَّ الرِّضَا عَنْ أَبِي بَكْرٍ وَعَنْ عُمَرٍ
وَعَنْ عَلِيٍّ وَعَنْ عُثْمَانَ ذِي الْكَرَمِ
پھر ابوبکر، عمر، علی اور عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہم سب سے اللہ تعالیٰ راضی ہو، یہ سب فضل و کرم والے ہیں۔
وَالآلِ وَالصَّحْبِ ثُمَّ التَابِعِيَن فَهُمْ
أَهْلُ التُّقَى وَالنَّقَا وَالحِلْمِ وَالْكَرَمِ
اے اللہ! حضور ﷺ کی آل، صحابہ اور تابعین پر بھی رحمت فرما، جو تقویٰ، پاکیزگی، حلم اور کرم والے ہیں۔
يِا رَبِّ بِالمُصْطَفَى بَلِّغْ مَقَاصِدَنَا
وَاغْفِرْ لَنَا مَا مَضَى يَا وَاسِعَ الكَرَمِ
↻اس شعر کو 3 مرتبہ پڑھیں
اے میرے رب! مصطفیٰ کریم ﷺ کے صدقے ہمارے مقاصد پورے فرما اور ہمارے گزشتہ گناہوں کو بخش دے، اے وسیع کرم والے۔
وَاغْفِرْ إِلَهِي لِكُلِ المُسْلِمِينَ بِمَا
يَتْلُونَ فِي المَسْجِدِ الأَقْصَى وَفِي الحَرَمِ
اے میرے رب! تمام مسلمانوں کی مغفرت فرما جو مسجدِ اقصیٰ، حرم اور دوسری مساجد میں قرآنِ مجید کی تلاوت کرتے ہیں۔
بِجَاهِ مَنْ بَيْتُهُ فِي طَيْبَةٍ حَرَمٌ
وَاسْمُهُ قَسَمٌ مِنْ أَعْظَمِ الْقَسَمِ
اس ہستی ﷺ کے مرتبے کے صدقے جن کا گھر طیبہ میں حرم ہے اور جن کا مبارک نام عظیم قسموں میں ایک قسم ہے۔
وَهَذِهِ بُرْدَةُ المُخْتَارِ قَدْ خُتِمَتْ
وَالحَمْدُ للهِ فِي بَدْءٍ وَفِي خَتَمِ
اور یہ بردۂ مختار اب مکمل ہوا؛ آغاز اور اختتام ہر حال میں تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں۔
أَبْيَاتُهَا قَدْ أَتَتْ سِتِّينَ مَعْ مِائَةٍ
فَرِّجْ بِهَا كَرْبَنَا يَا وَاسِعَ الْكَرَمِ
اس قصیدۂ بردہ شریف کے اشعار ایک سو ساٹھ ہیں؛ اے وسیع کرم والے، اس قصیدے کی برکت سے ہماری مصیبتیں دور فرما۔