رَاعَتْ قُلُوبَ الْعِدَا أَنْبَاءُ بِعْثَتِهِ
كَنَبْأَةٍ أَجْفَلَتْ غُفْلاً مِنَ الْغَنَمِ
حضور ﷺ کی ہیبت نے دشمنوں کے دلوں میں ایسا خوف ڈال دیا کہ وہ بے خبر جانوروں کی طرح منتشر ہونے لگے۔
مَا زَالَ يَلْقَاهُمُ فِي كُلِّ مُعْتَرَكٍ
حَتَّى حَكَوْا بِالْقَنَا لَحْمًا عَلَى وَضَمِ
آپ ﷺ کے مجاہدین دشمنوں سے مقابلہ کرتے رہے یہاں تک کہ نیزوں نے انہیں تختوں پر رکھے گوشت کی مانند کردیا۔
وَدُّوا الفِرَارَ فَكَادُوا يَغْبِطُونَ بِهِ
أَشْلاَءَ شَالَتْ مَعَ الْعِقْبَانِ وَالرَّخَمِ
دشمن بھاگنے کی تمنا کرتے اور ان لاشوں پر رشک کرتے جنہیں گدھ اور عقاب لے گئے تھے۔
تَمْضِي اللَّيَالِي وَلاَ يَدْرُونَ عِدَّتَهَا
مَا لَمْ تَكُنْ مِنْ لَيَالِي الأَشْهُرِ الْحُرُمِ
خوف کے عالم میں راتیں گزر جاتی تھیں اور دشمن مہینوں کی گنتی بھول جاتے، سوائے امن والے مہینوں کے۔
كَأَنَّمَا الدِّينُ ضَيْفٌ حَلَّ سَاحَتَهُمْ
بِكُلِّ قَرْمٍ إِلَى لَحْمِ العِدَا قَرِمِ
دینِ اسلام گویا ان بہادروں کے صحن میں اترا ہوا مہمان تھا اور ہر جانب دشمن کا مقابلہ کرنے والے جوان موجود تھے۔
يَجُرُّ بَحْرَ خَمِيسٍ فَوْقَ سَابِحَةٍ
يَرْمِى بِمَوْجٍ مِنَ الأَبْطَالِ مُلْتَطِمِ
حضور ﷺ کا لشکر موجیں مارتے سمندر کی مانند تھا، جس میں بہترین سوار اور بہادر مجاہد موجود تھے۔
مِنْ كُلِّ مُنْتَدَبٍ لِلهِ مُحْتَسِبٍ
يَسْطُو بِمُسْتَأْصِلٍ لِلكُفْرِ مُصْطَلِمِ
ہر مجاہد اللہ کی رضا کا طالب اور اسلام کی سربلندی کے لیے کفر کی جڑ کاٹنے پر آمادہ تھا۔
حَتىَّ غَدَتْ مِلَّةُ الإِسْلاَمِ وَهْيَ بِهِمْ
مِنْ بَعْدِ غُرْبَتِهَا مَوْصُولَةَ الرَّحِمِ
یہاں تک کہ اسلام اپنی غربت کے بعد مضبوط رشتوں اور عزت کے ساتھ قائم و دائم ہوگیا۔
مَكْفُولَةً أَبَدًا مِنْهُمْ بِخَيْرِ أَبٍ
وَخَيْرِ بَعْلٍ فَلَمْ تَيْتَمْ وَلَمْ تَئِمِ
اسلام ہمیشہ ان بہترین نگہبانوں کی کفالت میں رہا؛ نہ یتیم ہوا اور نہ بے سہارا۔
هُمُ الجِبَالُ فَسَلْ عَنْهُمْ مُصَادِمَهُمْ
مَاذَا رَأَى مِنْهُمُ فِي كُلِّ مُصْطَدَمِ
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم پہاڑوں کی مانند مضبوط تھے؛ ان کے دشمنوں سے پوچھو کہ ہر معرکے میں کیا دیکھا۔
وَسَلْ حُنَيْنًا وَسَلْ بَدْرًا وَسَلْ أُحُدًا
فُصُولَ حَتْفٍ لَهُمْ أَدْهَى مِنَ الوَخَمِ
حنین، بدر اور اُحد کے میدانوں نے ایسے واقعات دیکھے کہ دشمن کے لیے موت سرخ منظر بن گئی۔
المُصْدِرِي البِيضِ حُمْرًا بَعْدَ مَا وَرَدَتْ
مِنَ العِدَا كُلَّ مُسْوَدٍّ مِنَ اللِّمَمِ
اسلام کے مددگاروں کی سفید تلواریں دشمنوں کے خون سے سرخ ہوکر واپس آتی تھیں۔
وَالكَاتِبِينَ بِسُمْرِ الخَطِّ مَا تَرَكَتْ
أَقْلاَمُهُمْ حَرْفَ جِسْمٍ غَيْرَ مُنَعَجِمِ
ان کے نیزوں اور تلواروں کے نشان دشمنوں کے جسموں پر ایسی تحریر چھوڑتے جس کے حروف بے نقط نہ رہتے۔
شَاكِي السِّلاَحِ لَهُمْ سِيمَا تُمَيِّزُهُمْ
وَالوَرْدُ يَمْتَازُ بِالسِّيمَا عَنِ السَّلَمِ
مجاہدین کے ہتھیار انہیں ممتاز کرتے تھے، جیسے پھولوں کی خوشبو اور نشان درختوں کو پہچان دیتے ہیں۔
تُهْدِي إِلَيْكَ رِيَاحُ النَّصْرِ نَشْرَهُمُ
فَتَحْسَبُ الزَّهْرَ فِي الأَكْمَامِ كُلَّ كَمِي
فتح کی خوشبو ان کی خبریں پہلے پہنچا دیتی تھی، گویا ہر جانب بہار کے پھول پھیل گئے ہوں۔
كَأَنَّهُمْ فِي ظُهُورِ الخَيْلِ نَبْتُ رُبًا
مِنْ شِدَّةِ الحَزْمِ لاَ مِنْ شِدَّةِ الحُزُمِ
وہ گھوڑوں کی پشت پر ایسے ثابت قدم نظر آتے جیسے پہاڑی ڈھلوانوں پر مضبوط پودے جمے ہوں۔
طَارَتْ قُلُوبُ العِدَا مِنْ بَأْسِهِمْ فَرَقًا
فَمَا تُفَرِّقُ بَيْنَ البَهْمِ وَالبُهُمِ
دشمنوں کے دل خوف سے اس قدر لرزتے کہ وہ بہادر اور کمزور میں فرق نہ کرپاتے۔
وَمَنْ تَكُنْ بِرَسُولِ اللهِ نُصْرَتُهُ
إِنْ تَلْقَهُ الأُسْدُ فِي آجَامِهَا تَجِمِ
جس کی مدد رسول اللہ ﷺ فرمائیں، اس کے سامنے جنگل کے شیر بھی خوف زدہ ہوجائیں۔
وَلَنْ تَرَى مِنْ وَليٍّ غَيْرِ مُنْتَصِرٍ
بِهِ وَلاَ مِنْ عَدُوٍّ غَيْرِ مُنْقَصِمِ
حضور ﷺ کے دوست کو ہمیشہ نصرت ملتی ہے اور آپ ﷺ کے دشمن کو شکست اور کمزوری نصیب ہوتی ہے۔
أَحَلَّ أُمَّتَهُ فِي حِرْزِ مِلَّتِهِ
كَاللَّيْثِ حَلَّ مَعَ الأَشْبَالِ فِي أَجَمِ
حضور ﷺ نے اپنی امت کو دین کے محفوظ قلعے میں جگہ دی، جیسے شیر اپنے بچوں کو اپنی پناہ میں رکھتا ہے۔
كَمْ جَدَّلَتْ كَلِمَاتُ اللهِ مِنْ جَدَلٍ
فِيهِ وَكَمْ خَصَمَ البُرْهَانُ مِنْ خَصِمِ
قرآن نے کتنے ہی منکروں سے حجت کی اور اس کی روشن دلیل نے کتنے ہی جھگڑنے والوں کو مغلوب کردیا۔
كَفَاكَ بِالْعِلْمِ فِي الأُمِّيِّ مُعْجِزَةً
فِي الجَاهِلِيَّةِ وَالتَّأْدِيبِ فِي اليُتُمِ
حضور ﷺ کے علم کا معجزہ کافی ہے کہ زمانۂ جاہلیت میں بغیر ظاہری تعلیم کے علم عطا ہوا اور یتیمی کے باوجود بہترین ادب ملا۔