جَاءَتْ لِدَعْوَتِهِ الأَشْجَارُ سَاجِدَةً
تَمْشِي إِلَيْهِ عَلَى سَاقٍ بِلاَ قَدَمِ
درخت حضور ﷺ کی طرف سجدہ کرتے ہوئے آئے؛ وہ بغیر قدموں کے اپنی جڑوں اور تنوں پر چلتے معلوم ہوتے تھے۔
كَأَنَّمَا سَطَرَتْ سَطْرًا لِمَا كَتَبَتْ
فُرُوعُهَا مِنْ بَدِيعِ الْخَطِّ بِاللَّقَمِ
گویا ان درختوں نے راستے میں اپنی شاخوں سے خوبصورت تحریر کی سطریں کھینچ دی ہوں۔
مِثْلَ الغَمَامَةِ أَنَّى سَارَ سَائِرَةً
تَقِيهِ حَرَّ وَطِيسٍ لِلْهَجِيرِ حَمِي
بادل حضور ﷺ پر سایہ فگن رہتا اور تیز دھوپ سے حفاظت کرتا، جدھر آپ ﷺ تشریف لے جاتے وہ ساتھ رہتا۔
أَقْسَمْتُ بِالْقَمَرِ المُنْشَقِّ إِنَّ لَهُ
مِنْ قَلْبِهِ نِسْبَةً مَبْرُورَةَ القَسَمِ
میں شقِ قمر کی قسم کھاتا ہوں؛ اس چاند کے دو ٹکڑے ہونا حضور ﷺ کی روشن نشانیوں میں سے ہے۔
وَمَا حَوَى الغَارُ مِنْ خَيْرٍ وَمِنْ كَرَمِ
وَكُلُّ طَرْفٍ مِنَ الكُفَّارِ عَنْهُ عَمِي
غار نے خیر و کرم کی دو عظیم ہستیوں کو اپنے اندر محفوظ رکھا، جبکہ دشمن ان کی طرف دیکھتے ہوئے بھی نہ دیکھ سکے۔
فَالصِّدْقُ فِي الغَارِ وَالصِّدِّيقُ لَمْ يَرِمَا
وَهُمْ يَقُولُونَ مَا بِالْغَارِ مِنْ أَرِمِ
رسول اللہ ﷺ اور صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ غار میں تھے، مگر دشمن کہتے رہے کہ یہاں کوئی نہیں۔
ظَنُّوا الحَمَامَ وَظَنُّوا الْعَنْكَبُوتَ عَلَى
خَيْرِ الْبَرِيَّةِ لَمْ تَنْسُجْ وَلَمْ تَحُمِ
کفار نے غار کے منہ پر کبوتروں اور مکڑی کے جالے کو دیکھ کر گمان کیا کہ یہاں کوئی داخل نہیں ہوا۔
وِقَايَةُ اللهِ أَغْنَتْ عَنْ مُضَاعَفَةٍ
مِنَ الدُّرُوعِ وَعَنْ عَالٍ مِنَ الأُطُمِ
اللہ تعالیٰ کی حفاظت نے حضور ﷺ کو ایسا حصار عطا فرمایا کہ مضبوط زرہوں اور بلند قلعوں کی حاجت نہ رہی۔
مَا سَامَنِي الدَّهْرُ ضَيْمًا وَاسْتَجَرْتُ بِهِ
إِلاَّ وَنِلْتُ جِوَارًا مِنْهُ لَمْ يُضَمِ
جب بھی زمانے نے مجھے کسی سختی میں ڈالا اور میں نے حضور ﷺ کی پناہ لی تو وہ سختی دور ہوئی اور میں محفوظ رہا۔
وَلاَ الْتَمَسْتُ غِنَى الدَّارَيْنِ مِنْ يَدِهِ
إِلاَّ اسْتَلَمْتُ النَّدَى مِنْ خَيْرِ مُسْتَلَمِ
میں نے حضور ﷺ کے دستِ مبارک کے سوا دین و دنیا کی کسی بھلائی کا سوال نہیں کیا؛ آپ ﷺ بہترین عطا فرمانے والے ہیں۔
لاَ تُنْكِرِ الْوَحْيَ مِنْ رُؤْيَاهُ إِنَّ لَهُ
قَلْبًا إِذَا نَامَتِ العَيْنَانِ لَمْ يَنَمِ
حضور ﷺ کی وحی کو اس وجہ سے نہ جھٹلاؤ کہ وہ خواب میں آئی؛ آپ ﷺ کا قلب بیدار رہتا تھا اگرچہ آنکھیں سو جاتی تھیں۔
وَذَاكَ حِينَ بُلُوغٍ مِنْ نُبَوَّتِهِ
فَلَيْسَ يُنْكَرُ فِيهِ حَالُ مُحْتَلِمِ
نبوت کے کمال کے زمانے میں ایسے خواب حق ہوتے ہیں، اس لیے ان کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔
تَبَارَكَ اللهُ مَا وَحَيٌ بِمُكْتَسَبٍ
وَلاَ نَبيُّ عَلَى غَيْبٍ بِمُتَّهَمِ
اللہ تعالیٰ پاک ہے؛ وحی کسب سے حاصل ہونے والی چیز نہیں، اور نبی ﷺ غیب کی خبر دینے میں متہم نہیں۔
كَمْ أَبْرَأَتْ وَصِبًا بِاللَّمْسِ رَاحَتُهُ
وَأَطْلَقَتْ أَرِبًا مِنْ رِبْقَةِ اللَّمَمِ
حضور ﷺ کے دستِ مبارک نے کتنے بیماروں کو شفا دی اور کتنے گرفتارِ آفت لوگوں کو نجات ملی۔
وَأَحْيَتِ السَّنَةَ الشَّهْبَاءَ دَعْوَتُهُ
حَتَّى حَكَتْ غُرَّةً فِي الأَعْصُرِ الدُّهُمِ
حضور ﷺ کی دعا نے قحط زدہ سال کو ایسا سرسبز کردیا کہ وادیاں پانی سے بھر گئیں۔
بِعَارضٍ جَادَ أَوْ خِلْتَ البِطَاحَ بِهَا
سَيْبًا مِنَ اليَمِّ أَوْ سَيْلاً مِنَ العَرِمِ
بارش ایسے برسی گویا پہاڑوں سے سیلاب یا سمندر کی موجیں بہہ نکلی ہوں۔