أَبَانَ مَوْلِدُهُ عَنْ طِيبِ عُنْصُرِهِ
يَا طِيبَ مُبْتَدَإٍ مِنْهُ وَمُخْتَتَمِ
حضور ﷺ کی ولادت نے آپ ﷺ کی پاکیزگی اور مبارک اصل کو ظاہر کردیا؛ آپ پاکیزہ آغاز و انجام کے مالک ہیں۔
يَوْمٌ تَفَرَّسَ فِيهِ الفُرْسُ أَنَّهُمُ
قَدْ أُنْذِرُوا بِحُلُولِ البُؤْسِ وَالنِّقَمِ
فارسیوں نے حضور ﷺ کی ولادت کے دن ہی سمجھ لیا کہ ان پر مصیبت اور زوال آنے والا ہے۔
وَبَاتَ إِيوَانُ كِسْرَى وَهُوَ مُنْصَدِعٌ
كَشَمْلِ أَصْحَابِ كِسْرَى غَيْرَ مُلْتَئِمِ
کسریٰ کا ایوان پھٹ گیا اور بکھرنے لگا، جیسے اس کی حکومت کے ساتھی بھی منتشر ہورہے ہوں۔
وَالنَّارُ خَامِدَةُ الأَنْفَاسِ مِنْ أَسَفٍ
عَلَيْهِ وَالنَّهْرُ سَاهِي العَيْنِ مِنْ سَدَمِ
آتش کدہ کی آگ غم سے بجھ گئی اور نہرِ ساوہ کا پانی خشک ہوگیا۔
وَسَاءَ سَاوَةَ أَنْ غَاضَتْ بُحَيْرَتُهَا
وَرُدَّ وَارِدُهَا بِالغَيْظِ حِينَ ظَمِي
ساوہ کے لوگوں کو ان کا دریا خشک ہونے پر رنج ہوا اور پیاسے واپس لوٹے۔
كَأَنَّ بِالنَّارِ مَا بِالمَاءِ مِنْ بَلَلٍ
حُزْنًا وَبِالمَاءِ مَا بِالنَّارِ مِنْ ضَرَمِ
گویا آگ نے اپنے غم میں پانی سے نمی حاصل کی اور پانی نے آگ سے حرارت لے کر خشک ہونے کی کیفیت اختیار کی۔
وَالجِنُّ تَهْتِفُ وَالأَنْوَارُ سَاطِعَةٌ
وَالحَّقُ يَظْهَرُ مِنْ مَعْنىً وَمِنْ كَلِمِ
جنات حضور ﷺ کی آمد کی بشارت دینے لگے، غیبی آوازیں سنائی دیں اور حق کی نشانیاں ظاہر ہوگئیں۔
عَمُوا وَصَمُّوا فَإِعْلاَنُ البَشَائِرِ لَمْ
يُسْمَعْ وَبَارِقَةُ الإِنْذَارِ لَمْ تُشَمِ
کفار اندھے اور بہرے رہے؛ نہ خوش خبری کا اعلان سن سکے اور نہ ڈرانے والی نشانیاں دیکھ سکے۔
مِنْ بَعْدِ مَا أَخْبَرَ الأَقْوَامَ كَاهِنُهُمْ
بِأَنَّ دِينَهُمُ المُعْوَجَّ لَمْ يَقُمِ
حالانکہ ان کے کاہن پہلے ہی خبر دے چکے تھے کہ ان کا باطل دین قائم نہ رہ سکے گا، پھر بھی وہ نہ سمجھے۔
وَبَعْدَمَا عَايَنُوا فِي الأُفْقِ مِنْ شُهُبٍ
مُنْقَضَّةٍ وَفْقَ مَا فِي الأَرْضَ مِنْ صَنَمِ
آسمان سے ٹوٹتے ستارے دکھائی دیے اور زمین پر بت گرتے رہے، جیسے شیاطین کو آسمانی حدود سے دور کیا جارہا ہو۔
حَتَّى غَدَا عَنْ طَرِيقِ الْوَحْيِ مُنْهَزِمٌ
مِنَ الشَّيَاطِينِ يَقْفُوا إِثْرَ مُنْهَزِمِ
یہاں تک کہ شیاطین وحی کے راستے سے ایک دوسرے کے پیچھے بھاگتے چلے گئے۔
كَأَنَّهُمْ هَرَبًا أَبْطَالُ أَبْرَهَةٍ
أَوْ عَسْكَرٍ بِالحَصَى مِنْ رَاحَتَيْهِ رُمِي
وہ بھاگتے شیاطین گویا ابرہہ کے لشکر کی مانند تھے جسے کنکریوں سے پسپا کردیا گیا۔
نَبْذًا بِهِ بَعْدَ تَسْبِيحٍ بِبَطْنِهِمَا
نَبْذَ المُسَبِّحِ مِنْ أَحْشَاءِ مُلْتَقِمِ
حضور ﷺ کے دستِ مبارک میں کنکریوں نے تسبیح کی اور پھر ان کا پھینکا جانا حضرت یونس علیہ السلام کے مچھلی کے پیٹ سے نکلنے کی مانند ہوا۔