ظَلَمْتُ سُنَّةَ مَنْ أَحْيَا الظَّلاَمَ إِلَى
أَنِ اشْتَكَتْ قَدَمَاهُ الضُّرَّ مِنْ وَرَمِ
میں نے اس ہستی ﷺ کی سنت کے حق میں کوتاہی کی جنہوں نے راتیں عبادت میں گزاریں، یہاں تک کہ قدموں میں ورم آگیا۔
وَشَدَّ مِنْ سَغَبٍ أَحْشَاءَهُ وَطَوَى
تَحْتَ الحِجَارَةِ كَشْحًا مُتْرَفَ الأَدَمِ
آپ ﷺ نے بھوک کی شدت سے اپنے شکم پر پتھر باندھے اور اپنے نرم پہلو کو پتھروں کے نیچے رکھا۔
وَرَاوَدَتْهُ الجِبَالُ الشُّمُّ مِنْ ذَهَبٍ
عَنْ نَفْسِهِ فَأَرَاهَا أَيَّمَا شَمَمِ
بلند پہاڑ آپ ﷺ کے لیے سونا بننے کو آمادہ ہوئے، مگر آپ ﷺ نے اپنی بلند ہمتی سے انہیں رد فرمادیا۔
وَأَكَّدَتْ زُهْدَهُ فِيهَا ضَرُورَتُهُ
إِنَّ الضَّرُورَةَ لاَ تَعْدُو عَلَى العِصَمِ
آپ ﷺ کی ضرورت اور تنگ دستی نے زہد کو اور مضبوط کیا؛ دنیا کی ضرورتیں معصوم ہستی کو اپنی طرف مائل نہ کرسکیں۔
وَكَيْفَ تَدْعُو إِلَى الدُّنْيَا ضَرُورَةُ مَنْ
لَوْلاَهُ لَمْ تُخْرَجِ الدُّنْيَا مِنَ العَدَمِ
دنیا کی ضرورت اس ہستی ﷺ کو اپنی طرف کیسے بلاتی جن کے بغیر دنیا عدم سے وجود میں نہ آتی؟
مُحَمَّدٌ سَيِّدُ الكَوْنَيْنِ وَالثَّقَلَيْــنِ
وَالفَرِيقَيْنِ مِنْ عُرْبٍ وَمِنْ عَجَمِ
↻اس شعر کو 3 مرتبہ پڑھیں
محمد ﷺ دونوں جہانوں، جن و انس اور عرب و عجم سب کے سردار ہیں۔
نَبِيُّنَا الآمِرُ النَّاهِي فَلاَ أَحَدٌ
أَبَرَّ فِي قَوْلِ لاَ مِنْهُ وَلاَ نَعَمِ
ہمارے نبی ﷺ آمر و ناہی ہیں؛ ہاں اور نہیں کے فیصلے میں آپ ﷺ سے زیادہ سچا کوئی نہیں۔
هُوَ الحَبِيبُ الذِّي تُرْجَى شَفَاعَتُهُ
لِكُلِّ هَوْلٍ مِنَ الأَهْوَالِ مُقْتَحَمِ
↻اس شعر کو 3 مرتبہ پڑھیں
آپ ﷺ وہ محبوب ہیں جن کی شفاعت ہر آنے والی سخت مصیبت میں امید کی جاتی ہے۔
دَعَا إِلَى اللهِ فَالْمُسْتَمْسِكُونَ بِهِ
مُسْتَمْسِكُونَ بِحَبْلٍ غَيْرِ مُنْفَصِمِ
آپ ﷺ نے لوگوں کو اللہ کے دین کی دعوت دی؛ جس نے آپ ﷺ کا دامن تھاما اس نے ایسی رسی پکڑی جو کبھی نہیں ٹوٹتی۔
فَاقَ النَبِيّينَ فِي خَلْقٍ وَفِي خُلُقٍ
وَلَمْ يُدَانُوهُ فِي عِلْمٍ وَلاَ كَرَمِ
آپ ﷺ صورت و سیرت میں تمام انبیاء علیہم السلام سے افضل ہیں، اور علم و کرم میں کوئی آپ ﷺ کے مرتبے تک نہیں پہنچ سکتا۔
وَكُلُّهُمْ مِنْ رَسُولِ اللهِ مُلْتَمِسٌ
غَرْفًا مِنَ البَحْرِ أَوْ رَشْفًا مِنَ الدِّيَمِ
تمام انبیائے کرام علیہم السلام حضور ﷺ کے دریائے علم و فضل سے ایک چلو یا بارش کے چند قطرے حاصل کرتے ہیں۔
وَوَاقِفُونَ لَدَيْهِ عِنْدَ حَدِّهِمِ
مِنْ نُقْطَةِ العِلْمِ أَوْ مِنْ شَكْلَةِ الحِكَمِ
سب انبیاء علیہم السلام اپنے اپنے مقام پر حضور ﷺ کے علم کے ایک نقطے یا حکمت کے ایک اعراب سے حصہ پاتے ہیں۔
فَهْوَ الذِّي تَمَّ مَعْنَاهُ وَصُورَتُهُ
ثُمَّ اصْطَفَاهُ حَبِيبًا بَارِئُ النَّسَمِ
حضور اقدس ﷺ اپنی ذات و صفات کے کمال میں کامل ہوئے، پھر خالقِ کائنات نے آپ ﷺ کو اپنا حبیب منتخب فرمایا۔
مُنَزَّهٌ عَنْ شَرِيكٍ فِي مَحَاسِنِهِ
فَجَوْهَرُ الحُسْنِ فِيهِ غَيْرُ مُنْقَسِمِ
حضور ﷺ کے ظاہری و باطنی محاسن میں کوئی شریک نہیں؛ آپ ﷺ کا حسن ایسا جوہر ہے جو تقسیم نہیں ہوتا۔
دَعْ مَا ادَّعَتْهُ النَّصَارَى فِي نَبِيِّهِمِ
وَاحْكُمْ بِمَا شِئْتَ مَدْحًا فِيهِ وَاحْتَكِمِ
نصاریٰ نے اپنے نبی کے بارے میں جو غلو کیا اسے چھوڑ دو، پھر حضور ﷺ کی مدح میں جو چاہو کہو۔
وَانْسُبْ إِلَى ذَاتِهِ مَا شِئْتَ مِنْ شَرَفٍ
وَانْسُبْ إِلَى قَدْرِهِ مَا شِئْتَ مِنْ عِظَمِ
آپ ﷺ کی ذات کی طرف جس شرف کو چاہو منسوب کرو اور آپ ﷺ کے مرتبے کی طرف جس عظمت کو چاہو۔
فَإِنَّ فَضْلَ رَسُولِ اللهِ لَيْسَ لَهُ
حَدٌّ فَيُعْرِبَ عَنْهُ نَاطِقٌ بِفَمِ
رسول اللہ ﷺ کے فضل کی کوئی ایسی حد نہیں جسے زبان مکمل طور پر بیان کرسکے۔
لَوْ نَاسَبَتْ قَدْرَهُ آيَاتُهُ عِظَمًا
أَحْيَا اسْمُهُ حِينَ يُدْعَى دَارِسَ الرِّمَمِ
اگر حضور ﷺ کے معجزات آپ ﷺ کی عظمت کے مطابق ظاہر ہوتے تو آپ ﷺ کا نام پکارنے سے بوسیدہ ہڈیاں بھی زندہ ہوجاتیں۔
لَمْ يَمْتَحِنَّا بِمَا تَعْيَا الْعُقُولُ بِهِ
حِرْصًا عَلَيْنَا فَلَمْ نَرْتَبْ وَلَمْ نَهِمْ
حضور ﷺ نے ہمیں ایسی چیزوں سے نہیں آزمایا جنہیں عقلیں نہ سمجھ سکیں؛ آپ ﷺ ہماری بھلائی کے بہت چاہنے والے ہیں۔
أَعْيَا الوَرَى فَهْمُ مَعْنَاهُ فَلَيْسَ يُرَى
فِي القُرْبِ وَالْبُعْدِ فِيهِ غَيْرُ مُنْفَحِمِ
مخلوق آپ ﷺ کی حقیقت اور کمالات کو پوری طرح سمجھنے سے عاجز ہے؛ قریب و دور سب آپ ﷺ کے سامنے حیران ہیں۔
كَالشَّمْسِ تَظْهَرُ لِلْعَيْنَيْنِ مِنْ بُعُدٍ
صَغِيرَةً وَتُكِلُّ الطَّرْفَ مِنْ أَمَمِ
حضور ﷺ کی مثال آفتاب کی ہے جو دور سے چھوٹا دکھائی دیتا ہے اور قریب آکر آنکھوں کو خیرہ کردیتا ہے۔
وَكَيْفَ يُدْرِكُ فِي الدُّنْيَا حَقِيقَتَهُ
قَوْمٌ نِيَامٌ تَسَلَّوْا عَنْهُ بِالحُلُمِ
دنیا میں حضور ﷺ کی حقیقت کو وہ لوگ کیسے پاسکتے ہیں جو غفلت کی نیند میں ہیں اور خوابوں ہی پر قناعت کیے ہوئے ہیں؟
فَمَبْلَغُ العِلْمِ فِيهِ أَنَّهُ بَشَرٌ
وَأَنَّهُ خَيْرُ خَلْقِ اللهِ كُلِّهِمِ
↻اس شعر کو 3 مرتبہ پڑھیں
حضور ﷺ کے بارے میں ہمارے علم کی انتہا یہی ہے کہ آپ بشر ہیں، اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی تمام مخلوق میں سب سے افضل ہیں۔
وَكُلُّ آيٍ أَتَى الرُّسْلُ الكِرَامُ بِهَا
فَإِنَّمَا اتَّصَلَتْ مِنْ نُوِرِهِ بِهِمِ
تمام معجزات جو انبیائے کرام علیہم السلام لائے، وہ سب حضور ﷺ کے نور ہی سے ان تک پہنچے۔
فَإِنَّهُ شَمْسُ فَضْلٍ هُمْ كَوَاكِبُهَا
يُظْهِرْنَ أَنْوَارَهاَ لِلنَّاسِ فِي الظُّلَمِ
حضور اقدس ﷺ فضل کے آفتاب ہیں اور تمام انبیاء علیہم السلام اس آفتاب سے روشنی لینے والے ستارے ہیں۔
أَكْرِمْ بِخَلْقِ نَبِيٍ زَانَهُ خُلُقٌ
بِالحُسْنِ مُشْتَمِلٍ بِالبِشْرِ مُتَّسِمِ
اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی ﷺ کی مبارک تخلیق کو کیسا مکرم بنایا؛ آپ حسن، خوش اخلاقی اور تبسم سے آراستہ ہیں۔
كَالزَّهْرِ فِي تَرَفٍ وَالبَدْرِ فِي شَرَفٍ
وَالبَحْرِ فِي كَرَمٍ وَالدَّهْرِ فِي هِمَمِ
حضور ﷺ نزاکت میں پھول، شرف میں چودھویں رات کے چاند، سخاوت میں دریا اور بلند ہمتی میں زمانے کی مثال ہیں۔
كَأَنَّه وَهْوَ فَرْدٌ مِنْ جَلاَلَتِهِ
فِي عَسْكَرٍ حِينَ تَلْقَاهُ وَفِي حَشَمِ
جب حضور ﷺ تنہائی میں لوگوں سے ملتے تو اپنی ہیبت و شان میں ایسے معلوم ہوتے جیسے لشکر کے درمیان منفرد ہوں۔
كَأَنَّمَا اللُّؤْلُؤْ المَكْنُونُ فِي صَدَفٍ
مِنْ مَعْدِنَيْ مَنْطِقٍ مِنْهُ وَمُبْتَسِمِ
حضور ﷺ کے کلام اور تبسم میں گویا موتی صدفوں میں محفوظ اور خوشبو مشک میں بند ہو۔
لاَ طِيبَ يَعْدِلُ تُرْبًا ضَمَّ أَعْظُمَهُ
طُوبىَ لِمُنْتَشِقٍ مِنْهُ وَمُلْتَثِمِ
کوئی خوشبو اس پاک مٹی کی برابری نہیں کرسکتی جو حضور ﷺ کے جسمِ مبارک کو اپنے اندر لیے ہوئے ہے؛ اسے سونگھنے اور چومنے والے کے لیے خوش خبری ہے۔