طاق عدد میں پڑھیں
اَ للّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ کَمَا اَمَرْتَنَآ اَنْ نُّصَلِّیَ عَلَیْہِ
اَ للّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ کَمَا ھُوَ اَھْلُہٗ
اَ للّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ کَمَا تُحِبُّ وَتَرْضٰی لَہٗ
اَ للّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی رُوْحِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ فِی الْاَرْوَاحِ
اَ للّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی جَسَدِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ فِی الْاَجْسَادِ
اَ للّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی قَبْرِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ فِی الْقُبُوْرِ
صَلَّ اللہُ عَلٰی سَیِّدِنَا وَمَولَانَا مُحَمَّدٍﷺ
طاق بار جتنا نبھ سکے ، حصولِ زیارت ِاقدس کے لئے اس سے بہتر صیغہ نہیں مگر خالص تعظیم ِشانِ اقدس کے لئے پڑھے ، اس نیت کو بھی جگہ نہ دے کہ مجھے زیارت عطا ہو، آگے ان کا کرم بے حد و انتہا ہے ۔
فراق و وصل چہ خواہی رضائے دوست طلب
کہ حیف باشد ازو غیرِ او تمنائے
مُنہ مدینہ طیبہ کی طرف ہو اور دل حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ وَسَلَّم کی طرف، دست بستہ پڑھے ، یہ تصور باندھے کہ روضۂ انور کے حضور حاضر ہوں اور یقین جانے کہ حضورِانور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ وَسَلَّم اسے دیکھ رہے ہیں ، اس کی آواز سن رہے ہیں ، اس کے دل کے خطر وں پرمُطَّلِع ْہیں ۔


