!!! اس پر کچھ درد دل بیان کروں گا قبول کرلیں
ہوَیدا آج اپنے زخمِ پنہاں کر کے چھوڑوں گا
لہُو رو رو 😭🩸🩸 کے محفل کو گُلستاں کر کے چھوڑوں گا
جلانا ہے مجھے ہر شمعِ دل کو سوزِ پنہاں سے
تری تاریک راتوں میں چراغاں کر کے چھوڑوں گا
براعظم افریقہ جہاں 54 ممالک ہیں کم از کم 1500 زبانیں بولی جاتی ہیں۔ انگریزی کے علاوہ ہر ملک میں کئی زبانیں اور چونکہ آبادی کے اکثر حصے دیہات پر مبنی ہیں وہاں پر مقامی زبان ہی چلتی ہے انگریزی ان کے لیے ایک لطیفہ ہے۔ 1400 سال قبل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جانثار صحابہ کرام اور صحابیات نے افریقی ممالک کے انتہائی دشوار سفر کئے ۔ اور بعد میں اللہ کے پیاروں نے یہ مشن جاری رکھا۔
خاص کر اس مہینے صفر المظفر میں ایک مرد قلندر علم و عمل کے سمندر حضرت بہاء الدین زکریا ملتانی علیہ الرحمہ کا عرس ہوتا ہے آپ کی unique خصوصیات میں سے ایک اسلامی یونیورسٹی کا قیام تھا جہاں سے مبلغین کو بیرونی زبانیں سکھا کر دنیا کے مختلف ممالک روانہ کیا جاتا تھا اور یہ اسلاف کا طریقہ رہا۔۔مدارس کا منھج رہا۔
💔آج المیہ یہ ہے کہ انگریزی تو کجا ۔۔اولیاء کی سرزمین پاک و ہند پر عربی کے ماہرین بھی رخصت ہورہے ہیں۔۔۔اور فارسی زبان کو تو مدارس نے نصاب سے ہی نکال دیا کہ اب یہ شجر ممنوعہ ہے ۔
💔یعنی آگے بڑھنے کے بجائے ہم پیچھے کا سفر کررہے ہیں ۔۔ہونا یہ چاہیے کہ ہر ملک سے خاص کر افریقی مخصوص ممالک، چین، مخصوص یورپی ممالک، ملیشیا، انڈونیشیا سے قابل ترین علماء کو پاکستان اور ہندوستان بلایا جائے ۔۔ان کو اردو یا مقامی زبان سیکھا کر ان سے ان کی زبانیں مخصوص مجاہد اور قابل علماء کو سکھائی جائیں۔۔مثلا swahili زبان سکھا کر 🇹🇿 Tanzania روانہ کیا جائے جس کا سب سے بڑا شہر تو دارالسلام Daresalam ہے مگر اب اسلام 35% رہ گیا ہے۔۔۔۔اس طرح ہر ملک کو ٹارگٹ کیا جائے اور ایک جامع لائحہ عمل تیار کیا جائے۔
▪️مگر ان مبلغین کا باعمل، مستقل مزاج ، مخلص، بہترین عالم انگریزی اور عربی میں ماہر ہونا اور سب سے بڑھ کر ایک مسجد سے وابستہ ہونا ضروری ہے۔۔بدعمل، لالچی ، کوتاہ علم اور مسجد سے دور رہنے والا دین کے قریب کافر کو کیا کرے گا وہ دیندار کو بھی متنفر کرتا ہے۔
♦️اس وقت دنیا بھر میں خاص کر افریقی ممالک میں ایک مسئلہ یہ درپیش ہے امام صاحب نے یہ سمجھا کہ میرا کام صرف نماز پڑھانا ، ہر جمعہ وہی عربی خطبہ دیکھ کر پڑھنا، بچوں کو قرآن پڑھانا، نکاح و جنازہ یا بہت ہوگیا بہت ہی چند کی مختلف اعلی علمی سرگرمیاں ۔۔۔۔مگر گاؤں دیہاتوں کی زبان / مقامی زبان سیکھنا اور ان کو پر اثر گھنٹوں وعظ کرنا مفقود۔۔۔متروک ۔القلیل کالمعدوم ۔۔۔۔۔
💔💔اس سونے پر سہاگا کچھ دیندار طبقہ افریقی ممالک کے بظاہر تبلیغی دورے کرکے مطالبہ کرتا کہ ہمیں نذرانہ دو۔۔ہم ایک گھنٹے کا اپنے علاقہ میں اتنا چارج کرتے ہیں۔۔آپ کے یہاں قدر نہیں ۔ ہمارا خاندان اتنا اونچا ہے۔ ڈائریکٹ تقاضا یا بالواسطہ۔اگر نہ ہو تو کیمپین چلانا ، فتنے کروانا۔۔۔یہ کچھ کی بات ہے صالحین اکابرین کی نہیں کررہا۔۔وہ ہر زمانے میں رہے ہیں مگر اب خال خال ہیں۔
▪️پاک و ہند کے کچھ دانشور سمجھتے ہیں افریقی ممالک میں کافر کو ڈبل روٹی دے دیں وہ مسلمان ہوجائیں گے ۔۔ایک بینک کے شاہی افسر اس طرح مجھ پر طنز کرنے لگے کہ “ہم جانتے ہیں کہ لوگ کتنی آسانی سے مسلمان ہوجاتے ہیں” وہ میرا صرف ایک 21 سیکنڈ کا کلپ دیکھ لیں اس کے پیچھے کئی گھنٹوں کی محنت ہے۔۔من لم یعرف اھل زمانہ فھو جاہل ۔۔
پاکستان اور انڈیا الحمد للہ سینکڑوں سال سے علماء کی production کا مرکز رہا ہے مگر اب ایک مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے۔۔۔۔
▪️افریقی ممالک میں موجود علماء کی سپورٹ نہیں کرتے تو نہ کریں ۔۔مگر 54 ممالک میں دیہاتوں میں اپنے علماء کو پھیلانا ہوگا ۔۔ان کو مقامی زبان سیکھنا ہوگی۔۔خانقاہ کے ساتھ رسم شبیری ادا کرنی ہوگی پھر اس دائرہ کار کو بڑھا کر چین ، یورپی امریکی اور روسی ریاستوں کو پہنچانا ہوگا۔ اس کے بعد اگلا مرحلہ اسکول، ہسپتال ، کالج، یونیورسٹیوں کا قیام ہے۔۔۔عیسائ مشنری چار سو سال قبل یہ پلان بنا چکی تھی کہ 2100 تک افریقہ سے اسلام کے وجود کو کافی حد تک مٹادیا جائے گا اور پورا افریقہ عیسائی اکثریت کا مرکز بن جائے گا۔۔اس پر بہت حد تک کامیاب ہوچکے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
◼️تحریر پڑھنے والے کسی درد دل عالم کے پاس پاکستان اور انڈیا کے ایسے علماء کے رابطے نمبر ہیں جنھوں نے افریقی54 ممالک میں کسی میں آکر مقامی زبان سیکھی ہو اور گاؤں دیہاتوں میں اداروں کا قیام کیا ہو۔۔۔تو مجھے ضرور دیں۔صرف کچھ ہی مخلصین کے نام میرے پاس ہیں ۔۔
بوقت تحریر۔۔۔ اکثر ممالک میں شہروں میں ہسپتال۔۔سرد خانے ۔اسکول۔ کالج ۔یونیورسٹی عیسائیوں کے ہیں اور گاؤں دیہاتوں کا تو حال بیان کرنے کی مجھ میں سکت نہیں ہاں اتنا ضرور دیکھا کہ مسلمانوں کے پاس قبرستان تو کجا اور جنازے کی ڈولی بھی نہیں ہوتی۔
ہوسکتا ہے کہ حق کی کرواہٹ کسی کو محسوس ہو اور وہ اختلاف کرے اس کا حق ہے چاہے تو لہولہان بھی کرے مگر حق یہ کہ جتنا ارتداد پچھلے ستر 70 سال میں ہوا اتنا کبھی نہ ہوا !!!!!
اس تحریر کو پڑھنے کے بعد اقبال کے یہ اشعار پڑھ لیں۔۔میرے مخاطب علم والے ہیں۔۔۔وہ خود ہی سمجھ جائیں گے
وطن کی فکر کر ناداں! مصیبت آنے والی ہے
تری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں
ذرا دیکھ اس کو جو کچھ ہو رہا ہے، ہونے والا ہے
دھَرا کیا ہے بھلا عہدِ کُہن کی داستانوں میں
یہ خاموشی کہاں تک؟ لذّتِ فریاد پیدا کر
زمیں پر تُو ہو اور تیری صدا ہو آسمانوں میں
نہ سمجھو گے تو مِٹ جاؤ گے اے ہندوستاں والو!
تمھاری داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں
از
غریب الوطن
خاکپائے صالحین و کاملین
عبدالرحمن قادری
ملاوی افریقہ
14 صفر 1445

