۔۔۔سارے طلباء زمین پر
۔۔۔۔۔کھلے آسمان کے نیچے
۔۔۔۔۔نہ کتابیں نہ بستہ 👜
۔۔۔ساری غریب مسلمان عورتیں۔۔۔۔۔۔جن کے پاس بمشکل دو سے تین کپڑے ہیں جو بدل بدل کر پہنتے ہیں۔۔۔مگر واہ سب نے اپنا سر بغیر کہے ڈھانک رکھا ہے
۔۔۔۔۔نگاہوں میں شرم بھی حیا بھی ۔۔
۔۔۔۔دلوں میں علم سیکھنے کا جذبہ بھی
۔۔۔۔۔۔پھر عجب یہ ہے کہ ان کو لیکچر دینے والا ان کی پوری زندگی میں پہلا ایشین ہے۔۔۔جو انہی کی زبان میں انہی کی طرح گفتگو کر رہا ہے۔۔۔۔آج تک پاکستان۔۔انڈیا۔۔سے کوئ ان غریبوں کے پاس نہیں آیا۔۔
آج ان کے پاس آیا ہوں۔
ان کی آس بندھ گئ ہے
کہ ہم دیہاتی متروک لوگوں کا بھی کسی کو خیال آیا ہے ۔۔کسی غیر قوم نے آج ہمیں اپنا جانا ہے ۔۔ہماری فکر کی ہے۔۔
مجھ سے پوچھیں ۔۔۔۔ان کلاسز میں ادب و سکون کی وہ ٹھنڈی ہوائیں ہیں جو کسی استاد کو فائیو اسٹار ہوٹل میں یا یونیورسٹی میں میسر نہ ہوں۔۔۔
کیا استاد اور شاگرد کا رشتہ صرف فیس کی حد تک ہے۔۔۔
کبھی تعلیم کے سمندر میں اترو۔۔۔تعظیم بھی ملے گی۔۔۔تکریم بھی ملے گی۔۔۔تسکین بھی ملے گی۔۔۔۔
اور ہاں بعد مرنے کے قدسیوں سے تحیسن بھی ملے گی۔۔۔
نوٹ : ویڈیو میں تو شاید یہ سب باتیں آپ کو محسوس نہ ہوں مگر آخر میں ان فاقہ کشوں کی الله اکبر کی صدائیں آپ کو متاثر ضرور کرینگی۔۔۔
ایشیا سے نکل کر افریقہ کی راہوں کا ادنی معلم
مفتی عبدالرحمن قادری
چگومولا ملاوی

