زندہ انسان کی قدر کیجیے
ہماری زندگی میں ایک عجیب رویہ پایا جاتا ہے: زندہ انسان کی ضرورت کے وقت ہم سے ایک روٹی دینا بھی مشکل ہوجاتا ہے، لیکن جب وہ دنیا سے چلا جاتا ہے تو اس کے نام پر دیگیں پکانے، کھانا کھلانے اور اپنی محبت کا اظہار کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔
حالانکہ دین ہمیں صرف مرنے کے بعد کی محبت نہیں، بلکہ زندگی میں انسان کے کام آنے، اس کی حاجت پوری کرنے، اس کی تکلیف دور کرنے اور اس کا دل رکھنے کی تعلیم دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:وَیُؤْثِرُوْنَ عَلٰٓی اَنْفُسِهِمْ وَلَوْ کَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌؕ وَمَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓئِکَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۔
(الحشر، 59:9)
اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا: وَاللّٰهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا کَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ۔
(سنن ترمذی، کتاب البر، باب ما جاء فی الستر علی المسلم)
یعنی بندہ جب تک اپنے بھائی کی مدد میں رہتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی مدد فرماتا رہتا ہے۔
ایک اور ارشادِ نبوی ﷺ ہے: وَمَنْ کَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ کَانَ اللّٰهُ فِي حَاجَتِهِ، وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ کُرْبَةً فَرَّجَ اللّٰهُ عَنْهُ کُرْبَةً مِنْ کُرَبَاتِ یَوْمِ الْقِیَامَةِ۔
(صحیح مسلم، کتاب البر، باب تحریم ظلم المسلم)
اور فرمایا:مَنْ قَضَى لِأَخِيهِ حَاجَةً کَانَ بِمَنْزِلَةِ مَنْ خَدَمَ اللّٰهَ عُمُرَهُ۔
(جامع الصغیر، امام جلال الدین سیوطی، 2:79)
نیز ارشاد فرمایا:مَنْ أَغَاثَ مَلْهُوفًا کَتَبَ اللّٰهُ لَهُ ثَلَاثًا وَسَبْعِينَ مَغْفِرَةً، وَاحِدَةٌ مِنْهَا صَلَاحُ أَمْرِهِ کُلِّهِ وَثِنْتَانِ وَسَبْعُونَ لَهُ دَرَجَاتٌ یَوْمَ الْقِیَامَةِ۔
(جامع الصغیر، امام سیوطی، 2:65)
اور فرمایا:مَنْ مَشَى مَعَ أَخِيهِ فِي حَاجَتِهِ فَنَاصَحَهُ فِيهَا جَعَلَ اللّٰهُ بَیْنَهُ وَبَیْنَ النَّارِ یَوْمَ الْقِیَامَةِ سَبْعَ خَنَادِقَ، بَیْنَ الْخَنْدَقِ کَمَا بَیْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ۔
(جمع الجوامع، امام سیوطی، 1:837)
سو جتنا اہتمام ہم کسی میت کے جنازے میں شرکت، قبر پر حاضری اور اس کے لیے ایصالِ ثواب میں کرتے ہیں، اگر یہی جذبۂ ثواب اس کی زندگی میں اس کی خیر خبر لینے، اس کی ضرورت پوری کرنے اور اس کا سہارا بننے میں صرف کریں تو کیا ہی خوب ہو!
جو کھانا ہم مرنے کے بعد کھلاتے ہیں، اس میں ثواب کی نیت ہوسکتی ہے؛ مگر کسی زندہ، ضرورت مند انسان کو اس وقت کھانا کھلانا جب اسے واقعی ضرورت ہو، اس کے دکھ میں شریک ہونا اور اس کی مشکل آسان کرنا بھی عظیم نیکی ہے۔
بیمار ہو تو عیادت کیجیے، بھوکا ہو تو کھانا کھلائیے، پریشان ہو تو اس کی بات سنیے، ضرورت ہو تو ڈاکٹر تک لے جائیے، اور اگر کوئی مشکل میں ہو تو حتی المقدور اس کا ہاتھ تھامیے۔
نیکی کریں، مگر احسان نہ جتائیں
اللہ تعالیٰ نے کسی کے ساتھ بھلائی کرنے کی توفیق دی ہے تو اسے احسان جتلا جتلا کر پریشان نہ کریں؛ کہیں ایسا نہ ہو کہ جس نیکی کی توفیق ملی تھی، اسی کے ذریعے اپنی نیکی ضائع کر بیٹھیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِكُمْ بِالْمَنِّ وَ الْاَذٰىۙ كَالَّذِیْ یُنْفِقُ مَالَهٗ رِئَآءَ النَّاسِ۔
(البقرۃ، 2:264)
اور اگر کسی کی مدد نہ کرسکیں تو اسے اذیت دینے سے کہیں بہتر ہے کہ اچھی بات کہیں اور خوش اخلاقی سے معذرت کرلیں: قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ وَّمَغْفِرَةٌ خَیْرٌ مِّنْ صَدَقَةٍ یَّتْبَعُهَاۤ أَذًىؕ وَاللّٰهُ غَنِیٌّ حَلِیْمٌ۔
(البقرۃ، 2:263)
نمود و نمائش یا آخرت کا اجر؟
اصل سوال یہ ہے کہ ہماری نیکی کا مقصد کیا ہے؟
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:وَمَنْ یُّرِدْ ثَوَابَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا وَمَنْ یُّرِدْ ثَوَابَ الْاٰخِرَةِ نُؤْتِهٖ مِنْهَا۔
(آل عمران، 3:145)
اور فرمایا: وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ فَسَوْفَ نُؤْتِیْهِ أَجْرًا عَظِیْمًا۔
(النساء، 4:114)
تو ہمیں خود سے پوچھنا چاہیے:
ہمیں دنیا کی نمود و نمائش چاہیے یا ثوابِ آخرت؟
جو تعریف ہم کسی انسان کے مرنے کے بعد کرتے ہیں، وہ اس کی زندگی میں کیوں نہیں کرتے؟
اس کی خوبیوں کا اعتراف اس وقت کیوں نہیں کرتے جب وہ ہمارے درمیان موجود ہے؟
اس کا دل اس وقت کیوں نہیں رکھتے جب وہ ہماری ایک اچھی بات کا محتاج ہے؟
اس کی ضرورت اس وقت کیوں نہیں پوچھتے جب وہ خاموشی سے کسی سہارے کا منتظر ہے؟
ہم کسی انسان کی قدر کرنے، اس کی اچھائیوں کو سراہنے اور اس کے ساتھ محبت و خیر خواہی کا اظہار کرنے کے لیے اس کے مرنے کا انتظار کیوں کریں؟
کیا محبت، خیر خواہی، تعریف اور نیکی کے اظہار کے لیے کسی انسان کا مرنا ضروری ہے؟
موت کے بعد تعزیتی الفاظ کہنے سے پہلے زندگی میں دو میٹھے بول کہہ دیجیے۔
مرنے کے بعد اس کے نام پر کھانا کھلانے سے پہلے، زندگی میں ایک بھوکے کا پیٹ بھر دیجیے۔
قبر پر جانے سے پہلے، کسی زندہ دل کی خبر لے لیجیے۔
اور کسی کے جانے کے بعد اس کی خوبیوں کے قصے سنانے سے پہلے، اس کی زندگی میں اس کی قدر کر لیجیے۔
کیونکہ مرنے کے بعد کی تعریف، زندہ انسان کے دل کو نہیں پہنچتی؛ مگر زندگی میں دیا ہوا سہارا، کہا ہوا اچھا لفظ اور خاموشی سے کی گئی مدد شاید پوری زندگی یاد رہ جاتی ہے۔
زندہ انسان کی قدر کیجیے؛ موت کے بعد پھول چڑھانے سے بہتر ہے کہ زندگی میں دل خوش کر دیا جائے۔
ابو الحسن

