أَمِنْ تَذَكُّرِ جِيرَانٍ بِذِي سَلَمِ
مَزَجْتَ دَمْعًا جَرَى مِنْ مُقْلَةٍ بِدَمِ
کیا تو نے مقامِ ذی سلم کے پڑوسیوں یعنی اپنے محبوبوں کو یاد کرکے خون آلود آنسو بہائے؟
أَمْ هَبَّتِ الرِّيحُ مِنْ تِلْقَاءِ كَاظِمَةٍ
وَأَوْمَضَ البَرْقُ فِي الظَّلْمَاءِ مِنْ إِضَمِ
یا مقامِ کاظمہ کی سمت سے چلنے والی ہوا اور تاریک رات میں اضم کی بجلی نے وہاں کی یاد تازہ کرکے تجھے رُلا دیا؟
فَمَا لِعَيْنَيْكَ إِنْ قُلْتَ اكْفُفَا هَمَتَا
وَمَا لِقَلْبِكَ إِنْ قُلْتَ اسْتَفِقْ يَهِمِ
تیری آنکھوں کو کیا ہوا کہ جب تو انہیں رکنے کو کہتا ہے تو اور بہتی ہیں، اور دل کو کیا ہوا کہ سنبھلنے کا کہتا ہے تو مزید بے قرار ہوجاتا ہے؟
أَيَحْسَبُ الصَّبُّ أَنَّ الحُبَّ مُنْكَتِمٌ
مَا بَيْنَ مُنْسَجِمٍ مِنْهُ وَمُضْطَرِمِ
کیا عشق میں مبتلا شخص گمان کرتا ہے کہ اشکِ رواں اور جلتے دل کے درمیان بھی محبت کا راز چھپ سکتا ہے؟
لَوْلاَ الهَوَى لَمْ تَرِقْ دَمْعًا عَلَى طَلَلٍ
وَلاَ أَرِقْتَ لِذِكْرِ البَانِ وَالْعَلَمِ
اگر تجھے محبت نہ ہوتی تو تو ویران کھنڈرات پر آنسو نہ بہاتا اور بان کے درخت و پہاڑ کی یاد میں راتوں کو نہ جاگتا۔
فَكَيْفَ تُنْكِرُ حُبًّا بَعْدَمَا شَهِدَتْ
بِهِ عَلَيْكَ عُدُولُ الدَّمْعِ وَالسَّقَمِ
تو محبت کا انکار کیسے کرسکتا ہے جبکہ آنسو اور بیماری خود تیری محبت پر گواہ ہیں۔
وَأَثْبَتَ الوَجْدُ خَطَّيْ عَبْرَةٍ وَضَنىً
مِثْلَ البَهَارِ عَلَى خَدَّيْكَ وَالعَنَمِ
عشق نے تیرے رخساروں پر آنسو اور کمزوری کے دو نشان ثبت کردیئے ہیں، جیسے زرد پھول اور سرخ شاخیں۔
نَعَمْ سَرَى طَيْفُ مَنْ أَهْوَى فَأَرَّقَنِي
وَالحُبُّ يَعْتَرِضُ اللَّذَّاتِ بِالأَلَمِ
رات محبوب کا خیال آیا اور مجھے بے قرار کردیا؛ محبت محبوب کی جدائی کے غم سے لذتوں کو ختم کردیتی ہے۔
يَا لاَئِمِي فِي الهَوَى العُذْرِيِّ مَعْذِرَةً
مِنِّي إِلَيْكَ وَلَوْ أَنْصَفْتَ لَمْ تَلُمِ
اے عشقِ پاک میں مجھے ملامت کرنے والے! میری مجبوری کا عذر قبول کر؛ اگر تو انصاف کرتا تو مجھے ملامت نہ کرتا۔
عَدَتْكَ حَالِي لاَ سِرِّي بِمُسْتَتِرٍ
عَنِ الْوُشَاةِ وَلاَ دَائِي بِمُنْحَسِمِ
میرا حال اور میرا مرض تجھ پر ظاہر ہوچکا؛ اب میرا راز چغل خوروں سے پوشیدہ نہیں اور محبت کا مرض ختم ہونے والا نہیں۔
مَحَّضْتَنِي النُصْحَ لَكِنْ لَسْتُ أَسْمَعُهُ
إِنَّ المُحِبَّ عَنْ العُذَّالِ فِي صَمَمِ
تو نے مجھے مخلصانہ نصیحت کی، مگر میں نے نہ سنی؛ کیونکہ عاشق ملامت کرنے والوں کی بات سننے سے بہرا ہوتا ہے۔
إِنِّي اتَّهَمْتُ نَصِيحَ الشَّيْبِ فِي عَذَليِ
وَالشَّيْبُ أَبْعَدُ فِي نُصْحِ عَنِ التُّهَمِ
میں نے بڑھاپے کی نصیحت کو بھی تہمت دی، حالانکہ بڑھاپا نصیحت میں ہر تہمت سے بہت دور ہے۔