زہریلے جانوروں سے محفوظ رہنے کی دُعا

نماز فجر اورنماز مغرب کے بعد ہر روز تین بار یہ دُعا پڑھے اول وآخر تین تین بار درود شریف پڑھ لے۔

اَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ

ترجمہ: میں اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کے پورے اور کامل کلمات کے ساتھ مخلوق کے شر سے پناہ لیتا ہوں ۔(یہاں مخلوق سے مراد وہ مخلوق ہے جس سے شر ہوسکے) پھر یہ پڑھے :
یہ دُعا سفر و حضر میں ہمیشہ ہی صبح شام پڑھا کیجئے، زہریلی چیزوں سے محفوظ رہیں گے، بہت مجرَّب ہے۔ ( مراٰۃ ج ۴ ص ۳۵)

سَلٰمٌ عَلٰى نُوْحٍ فِی الْعٰلَمِیْنَ(۷۹) ( پ ۲۳ الصفت : ۷۹)

ترجَمۂ کنزالایمان: نوح پر سلام ہو جہان والوں میں ۔
خدا عَزَّ وَجَلَّ نے چاہا تو زہر یلے جانوروں سانپ بچھو وغیرہ سے محفوظ رہے گا۔ نہایت مجرب ہے ۔( اسلامی زندگی ص۱۲۸)

کسی قوم سے خطرے کے وقت کی دُعا

اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَجْعَلُکَ فِیْ نُحُوْرِھِمْ وَ نَعُوْذُبِکَ مِنْ شُرُوْرِھِمْ ( سُنَنُ اَ بِی دَاوٗد ج ۲ ص ۱۲۷ حدیث ۱۵۳۷)

ترجمہ: اے اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ ہم تجھے دشمنوں کے مقابل کرتے ہیں اور ان کی شرارتوں سے تیری پناہ چاہتے ہیں ۔

سخت خطرے کے وقت کی دُعا

اَللّٰھُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِنَا وَاٰمِنْ رَوْعَا تِنَا ( مُسْنَدْ اِمَام اَحْمَدْبن حَنْبَل ج ۴ ص ۸ حدیث ۱۰۹۹۶)

ترجمہ: الٰہی! عَزَّ وَجَلَّ ہماری پردہ داری فرما اور ہماری گھبراہٹ کو بے خوفی و اطمینان سے بدل دے۔

کفرو فقرسے پناہ کی دُعا

اَللّٰھُمَّ اِنِّیْٓ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْکُفْرِ وَالْفَقْرِوَعَذَابِ الْقَبْرِ ( سُنَنُ النَّسَائی ص ۲۳۱ حدیث ۱۳۴۴)

ترجمہ: اے اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ میں کفر، فقراور عذاب قبر سے تیری پناہ چاہتاہوں ۔

عیادت کرتے وقت کی دُعائیں

لَابَأْسَ طَھُوْرٌ اِنْ شَآءَ اللّٰہ ( صَحِیحُ البُخارِی ج ۲ ص ۵۰۵ حدیث ۳۶۱۶ )
ترجمہ: کوئی حرج کی بات نہیں اِنْ شَآءَ عَزَّ وَجَلَّ یہ مرض گناہوں سے پاک کرنے والا ہے ۔

 

اَسْأَلُ اللّٰہ الْعَظِیْمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ اَنْ یَّشْفِیَکَ ( سُنَنُ اَ بِی دَاوٗد ج ۳، ص ۲۵۱ حدیث ۳۱۰۶)
ترجمہ: میں عظمت والے سے سوال کرتا ہوں جو عرش عظیم کا مالک ہے کہ وہ تجھے شفا دے۔

مصیبت کے وقت کی دُعا

اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ(۱۵۶) اَللّٰھُمَّ أْجُرْنِیْ فِیْ مُصِیْبَتِیْ وَاَخْلِفْ لِیْ خَیْرًا مِّنْھَا ( صَحِیح مُسلِم ص ۴۵۷ حدیث ۹۱۸)

ترجمہ: بے شک ہم اللّٰہ تَعَالٰی کے ہیں اور بے شک ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں ، اے اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ میری مصیبت میں مجھے اجر دے اور مجھے اس سے بہتر عطا فرما۔

تعزیت کرتے وقت کی دُعا

اِنَّ لِلّٰہِ مَااَخَذَ وَلَہُ مَااَعْطٰی وَکُلٌّ عِنْدَہٗ بِاَجَلٍ مُّسَمًّی فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ ( صَحِیحُ البُخارِی ج ۱ ص ۴۳۴ حدیث ۱۲۸۴ )

ترجمہ: بے شک اللّٰہ تَعَالٰی ہی کا ہے جو اس نے لے لیا اور جو کچھ اس نے دیا ہے اورہر چیز کی اس کی بارگاہ میں میعاد مقرر ہے پس چاہیئے کہ تُو صبر کرے اور ثواب کی امید رکھے۔

کفن پر لکھنے کی دُعائیں

جو یہ دُعا میت کے کفن پر لکھے اللّٰہ تَعَالٰی قیامت تک اس سے عذاب اٹھالے۔ وہ دعُا یہ ہے :

اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْأَلُکَ یَا عَالِمَ السِّرِّ یَا عَظِیْمَ الْخَطَرِ یَاخَالِقَ الْبَشَرِ یَامُوْقِعَ الظَفَرِ یَامَعْرُوْفَ الْاَ ثْرِ یَاذَا الطَّوْلِ وَالْمَنِّ یَاکَاشِفَ الضَّرِّ وَالْمِحَنِ یَااِلٰہَ الْاَوَّلِیْنَ وَالْاٰخِرِیْنَ فَرِّجْ عَنِّیْ ھُمُوْمِیْ وَاکْشِفْ عَنِّیْ غُمُوْمِیْ وَصَلِّ اَللّٰھُمَّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّسَلِّمْ ۔

جو یہ دُعاکسی پرچہ پر لکھ کر سینہ پر کفن کے نیچے رکھ دے اسے عذاب قبر نہ ہو نہ مُنکَر نکیر نظرآئیں اور وہ دُعا یہ ہے :

لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ لَہٗ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُلَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ (فتاوی رضویہ مُخرجہ ج۹ ص۱۰۸ ، ۱۱۰ )

مشورہ: بہتر یہ ہے کہ یہ پرچہ (بلکہ عہد نامہ اورشجرہ وغیرہ )میت کے منہ کے سامنے قبلہ کی جانب (قبر کی اندرونی دیوار میں )طاق کھود کر اس میں رکھیں ۔ (بہارشریعت ج۱ حصہ ۴ ص ۸۴۸)

مشورہ : کچھ پرچے اپنے پاس رکھ لیجئے اورمسلمانوں کی فوتگی کے مواقع پر پیش کر کے ثواب کمائیے نیز کفن فروشوں اورتجہیز وتکفین کرنے والے سماجی اداروں کو بھی پیش کیجئے کہ وہ ہر مسلمان کیلئے کفن کے ساتھ ایک پرچہ فی سبیل اللہ دے دیا کریں ۔

دُعابرائے روشنی چشم

آیۃ الکرسی ہر نماز کے بعد ایک بار پڑھی جائے اورنماز پنجگانہ کی پابندی کرے جن دنوں میں عورت کو نماز کا حکم نہیں ان میں بھی پانچوں نماز کے وقت آیۃ الکرسی اس نیت سے کہ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کی تعریف ہے نہ اس نیت سے کہ کلام اللّٰہ ہے پڑھ لے اورجب اس کلمہ پر پہونچے
وَلَا یئودُہٗ حِفْظُھُمَا “
دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کے پورے آنکھوں پر رکھ کر اس کلمہ کو گیارہ بار کہے پھر دونوں ہاتھوں کی انگلیوں پر دم کر کے آنکھوں پرپھیرلے ۔

فرض نماز کے بعد کی دُعائیں

ہرنمازکے بعدپیشانی یعنی سرکے اگلے حصے پرہاتھ رکھ کرپڑھے۔
بِسْمِ اللّٰہ الَّذِیْ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ اَللّٰھُمَّ اَذْھِبْ عَنِّی الْھَمَّ وَالْحُزْنَ ( مَجْمَعُ الزَّوَائِد ج ۱۰ ص ۱۴۴ حدیث ۱۶۹۷۱)اور ہاتھ کھینچ کر ماتھے تک لائے۔(بہارشریعت ج اولحصہ سوم ص۵۳۹)
ترجمہ : اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کے نام سے جس کے سواکوئی معبودنہیں ، وہ رحمن ورحیم ہے، اے اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ مجھ سے غم ورنج کودورکردے۔


اَللّٰھُمَّ اَعِنِّیْ عَلٰی ذِکْرِکَ وَ شُکْرِکَ وَ حُسْنِ عِبَادَ تِکَ ( سُنَنُ اَ بِی دَاوٗد ج ۲ ص ۱۲۳ حدیث ۱۵۲۲)
ترجمہ : اے اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ تو اپنے ذکر و شکر اور حسنِ عبادت پر میری مدد فرما۔


اَللّٰھُمَّ اَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْکَ السَّلَامُ تَبَارَکْتَ یَا ذَاالْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ ( صَحِیح مُسلِم ص ۲۹۸ حدیث ۵۹۲)
ترجمہ: اے اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ تو سلامتی دینے والاہے اور تیری ہی طرف سے سلامتی ہے تو برکت والا ہے اے جلال و بزرگی والے۔

keyboard_arrow_up