کھانے سے پہلے کی دعا

بِسْمِ اللّٰهِ الَّذِیْ لَا یَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَیْءٌ فِی الْاَرْضِ وَلَا فِی السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ (یَا حَیُّ یَا قَــــیُّوْم)

ترجمہ:

اللہ کے نام سے (شروع کرتا ہوں) کہ اُس کے نام کے ساتھ زمین و آسمان کی کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی، اور وہی خوب سننے والا، خوب جاننے والا ہے۔(اے ہمیشہ زندہ و قائم رہنے والے)

بِسْمِ اللّٰهِ وَعَلٰی بَرَكَةِ اللّٰهِ

ترجمہ:
اللہ کے نام سے اور اللہ ہی کی برکت پر (کھانا شروع کرتا ہوں)

کھانے کھانے سے پہلے اگر بسم اللہ پڑھنا بھول جائے تو یہ دعا پڑھیں

سنن ابو داؤد کی حدیث مبارک میں ہے:
عن عائشة رضی اللہ عنها، أن رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ و سلم قال: إذا أكل أحدكم فليذكر اسم اللّٰہ تعالى، فإن نسي أن يذكر اسم اللّٰہ تعالى في أوله فليقل

ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو اسے چاہیئے کہ اللہ تعالی کے نام کا ذکر کرے(بسم اللہ پڑھے)، پس اگر کھانے کے شروع میں اللہ کے نام کاذکر بھول جائے تو یہ پڑھے

بِسْمِ اللّٰهِ اَوَّلَهٗ وَ اٰخِرَهٗ۔ (سنن ابوداؤد، جلد 3، صفحہ 347، رقم الحدیث: 3767، مطبوعہ المکتبۃ العصریہ، بیروت)

کھانا کھانے کے بعد کی دعا

 

سنن ابوداؤد کی حدیث مبارک میں ہے:
عن أبي سعيد الخدري، أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم: كان إذا فرغ من طعامه قال:

ترجمہ:
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم جب اپنے کھانے سے فارغ ہوجاتے تو یہ دعا پڑھتے۔

  •  اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ اَطْعَمَنَا وَ سَقَانَا وَ جَعَلَنَا مُسْلِمِيْنَ    (سنن ابو داؤد، جلد 3، صفحہ 432، رقم الحدیث: 3850، مطبوعہ ہند)

ترجمہ:
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں کھلایا، پلایا اور مسلمان بنایا۔
——————————————————————————————————————-

سنن ابو داؤد کی حدیث مبارک میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فر مایا:
من أكل طعامًا ثم قال: اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ اَطْعَمَنِيْ هٰذَا الطَّعَامَ، وَ رَزَقَنِيْهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِّنِّيْ وَ لَا قُوَّةٍ غفر لہ ما تقدم من ذنبہ
ترجمہ:
جس نے کھانا کھایا، پھر یہ دعا پڑھی، تو اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے۔

  •  اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ اَطْعَمَنِيْ هٰذَا الطَّعَامَ، وَ رَزَقَنِيْهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِّنِّيْ وَ لَا قُوَّةٍ (سنن ابو داؤد، جلد 6، صفحہ 138، رقم الحدیث: 4023، مطبوعہ دار الرسالۃ العالمیۃ)
    ترجمہ:
    تمام تعریفیں اللہ تعالی کے لیے ہیں کہ جس نے مجھے یہ کھانا کھلایا اور میری طاقت و قوت کے بغیر مجھے یہ عطا فرمایا۔

بالغ مرد و عورت کے جنازہ کی دعا

اللّٰهُمَّ ‌اغْفِرْ ‌لِحَيِّنَا ‌وَ مَيِّتِنَا وَ شَاهِدِنَا وَ غَائِبِنَا وَ صَغِيرِنَا وَ كَبِيرِنَا وَ ذَكَرِنَا وَ أُنْثَانَا اللّٰهُمَّ مَنْ أَحْيَيْتَهُ مِنَّا فَأَحْيِهِ عَلَى الْإِسْلَامِ وَ مَنْ تَوَفَّيْتَهُ مِنَّا فَتَوَفَّهُ عَلَى الْإِيمَانِ

ترجمہ:
الہی بخش دے ہمارے ہر زندہ کو اور ہمارے ہر فوت شدہ کو اور ہمارے ہر حاضر کو اور ہمارے ہر غائب کو اور ہمارے ہر چھوٹے کو اور ہمارے ہر بڑے کو اور ہمارے ہر مرد کو اور ہماری ہر عورت کو ۔ الہی تو ہم میں سے جس کو زندہ رکھے تو اس کو اسلام پر زندہ رکھ اور ہم میں سے جس کو موت دے تو اس کو ایمان پر موت دے۔

نابالغ بچے کے جنازہ کی دعا

اللّٰهُمَّ اجْعَلْهُ لَنَا فَرَطًا وَاجْعَلْهُ لَنَا ذُخْرًا وَأَجْرًا وَاجْعَلْهُ لَنَا شَافِعًا مُشَفَّعًا

ترجمہ:
اے اللہ! تو اس (لڑکے) کو ہمارے لیے پیش رو کر اور اس کو ہمارے لیے ذخیرہ کر اور اس کو ہماری شفاعت کرنے والا بنا اور اس کو مقبول الشفاعۃ بنادے۔

نابالغ بچی کے جنازہ کی دعا

اللّٰهُمَّ اجْعَلْها لَنَا فَرَطًا وَ اجْعَلْها لَنَا ذُخْرًا وَ أَجْرًا وَ اجْعَلْها لَنَا شَافِعةً مُشَفَّعةً

ترجمہ:
اے اللہ! تو اس (لڑکی) کو ہمارے لیے پیش رو کر اور اس کو ہمارے لیے ذخیرہ کر اور اس کو ہماری شفاعت کرنے والی بنا اوراس کو مقبول الشفاعۃ بنا دے

قربانی کا جانور ذبح کرتے وقت کی دعا

إِنِّي وَجَهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَّمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ


لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ اور جانور کی گردن کے قریب پہلو پر اپنا سیدھا پاؤں رکھ كر اللَّهُمَّ لَكَ وَمِنْكَ بِسْمِ اللّٰهِ اللّٰهُ أَكْبَر پڑھ کر تیز چھری سے جلد ذبح کر دیجئے ۔ قربانی اپنی طرف سے ہو تو ذبح کے بعد یہ دعا پڑھئے : اللَّهُمَّ تَقَبَّلْ مِنّي كَمَا تَقَبَّلْتَ مِنْ خَلِيْلِكَ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ الصَّلٰوةُ وَ السَّلَامُ وَحَبِيْبِكَ مُحَمَّدٍ ﷺ اگر دوسرے کی طرف سے قربانی کریں تو منی کے بجائے من کہہ کر اس کا نام لیجئے ۔

شکریہ ادا کرنے کی دُعا

جَزَاکَ اللّٰہ خَیْرًا ( سُنَنُ التِّرْمِذِی ج ۳ ص ۴۱۷ حدیث ۲۰۴۲)

ترجمہ: اللّٰہ تَعَالٰی تجھے جزائے خیردے۔

غصہ آنے کے وقت کی دُعا

اَعُوْذُ بِ اللّٰہ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ( صَحِیحُ البُخارِی ج ۴ ص ۱۳۱ حدیث ۶۱۱۵ )

ترجمہ: میں شیطان مردودسے اللّٰہ تَعَالٰی کی پناہ چاہتاہوں ۔

مرغ کی بانگ سن کر پڑھنے کی دُعا

اَللّٰھُمَّ اِنِیْ اَسْئَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ ( صَحِیحُ البُخارِی ج ۲ ص ۴۰۵ حدیث ۳۳۰۳ ماخوذًا )

ترجمہ: یا الٰہی! عَزَّ وَجَلَّ میں تجھ سے تیرے فضل کا سوال کرتا ہوں ۔
مُرغ رحمت کا فرشتہ دیکھ کر بولتا ہے، اس وقت کی دُعا پر فرشتے کے اٰمین کہنے کی امید ہے۔ ( مراٰۃالمناجیح ج ۴ ص۳۲)

شعارِکفارکودیکھے یاآوازسنے تویہ دُعاپڑھے

اَشْھَدُ اَنْ لَّآاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ اِلٰھًا وَّاحِدًا لَّا نَعْبُدُ اِلَّآ اِیَّاہُ

ترجمہ: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ، وہ معبود یکتا ہے ہم صرف اسی کی عبادت کرتے ہیں ۔

ملفوظات اعلیٰ حضرت میں ہے کہ مندروں کے گھنٹے اور سنکھ (ناقوس یعنی بڑی کوڑی جو مندروں میں بجائی جاتی ہے) کی آواز اور گرجا وغیرہ کی عمارت کو دیکھ کر بھی یہ دُعا پڑھے۔ (الملفوظ حصہ دوم ص۲۳۵)

بارش کی زیادتی کے وقت کی دُعا

اَللّٰھُمَّ حَوَالَیْنَا وَلَا عَلَیْنَا اَللّٰھُمَّ عَلَی الاٰکَامِ وَالظِّرَابِ وَبُطُوْنِ الْاَوْدِیَۃِ وَمَنَابِتِ الشَّجَرِ ( صَحِیحُ البُخارِی ج ۱ ص ۳۴۸ حدیث ۱۰۱۴)

ترجمہ : اے اللّٰہ! عَزَّ وَجَلَّ ہمارے اردگردبرسااورہم پرنہ برسا، اے اللّٰہ! عَزَّ وَجَلَّ ٹیلوں پراور پہاڑیوں پر اوروادیوں پر اور درخت اگنے کے مقامات پربرسا۔

آندھی کے وقت کی دُعا

اَللّٰھُمَّ اِنِّیْٓ اَسْأَلُکَ خَیْرَ ھَا وَخَیْرَ مَا فِیْھَاوخَیْرَ مَا اُرْسِلَتْ بِہٖ وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّھَا وَشَرِّمَا فِیْھَا وَشَرِّمَا اُرْسِلَتْ بِہٖ ( صَحِیح مُسلِم ص ۴۴۶ حدیث ۸۹۹)

ترجمہ : یا الٰہی ! عَزَّ وَجَلَّ میں تجھ سے اس (یعنی آندھی) کی اور جو کچھ اس میں ہے اور جس کے ساتھ یہ بھیجی گئی ہے، اس کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس (آندھی ) کے شر سے اور اس چیز کے شرسے جو اس میں ہے اور اس کے شر سے جس کے ساتھ یہ بھیجی گئی ہے۔

ستارہ ٹوٹتا دیکھتے وقت کی دُعا

مَاشَآءَاللّٰہ لَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہ

ترجمہ:جو اللّٰہ تَعَالٰی چاہے، کوئی قوت نہیں مگر اللّٰہ تَعَالٰی کی مدد سے۔

بازار میں داخل ہوتے وقت کی دُعا

لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ یُحْیِیْ وَیُمِیْتُ وَھُوَ حَيٌّ لَّا یَمُوْتُ بِیَدِہِ الْخَیْرُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ( سُنَنُ التِّرْمِذِی ج ۵ ص ۲۷۱ حدیث ۳۴۳۹)

ترجمہ: اللّٰہ کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ، اسی کے لیے ہے بادشاہی اور اسی کے لئے حمد ہے، وہی زندہ کرتا اور مارتا ہے وہ زندہ ہے اس کوہرگز موت نہیں آئیگی، تمام بھلائیاں اسی کے دست قدرت میں ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ۔

شبِ قدرکی دُعا

اُمُّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا روایت فرماتی ہیں : میں نے اپنے سرتاج، صاحبِ معراج صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمتِ بابرکت میں عرض کی : ’’یا رسول اللہ ! عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اگر مجھے شبِ قدر کا علم ہوجائے توکیا پڑھوں ؟‘‘سرکارِ ابد قرار، شفیعِ روزِ شمار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ’’اِس طرح دُعا ما نگو :

اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌّکَرِیْمٌ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّیْ ( سُنَنُ التِّرْمِذِی ج ۵ ص ۳۰۶ حدیث ۳۵۲۴)

ترجمہ: اے اللّٰہ! عَزَّ وَجَلَّ بیشک تو معاف فرمانے والا، درگزرفرمانے والا ہے اور معاف کرنے کو پسند فرماتا ہے لہٰذا مجھے معاف فرمادے۔

افطارکے وقت کی دُعا

اَللّٰھُمَّ لَکَ صُمْتُ وَعَلٰی رِزْقِکَ اَفْطَرْتُ ( سُنَنُ اَ بِی دَاوٗد ج ۲ ص ۴۴۷ حدیث ۲۳۵۸)

ترجمہ: اے اللّٰہ! عَزَّ وَجَلَّ میں نے تیرے لئے روزہ رکھااور تیرے ہی عطا کردہ رزق سے افطارکیا۔

آبِ زم زم پیتے وقت کی دُعا

اَللّٰھُمَّ اَسْأَلُکَ عِلْمًا نَّافِعًا وَّرِزْقًا وَّاسِعًاوَّ شِفَآئً مِّنْ کُلِّ دَآءٍ ( اَلْمُسْتَدْرَک لِلْحَاکمْ ج ۲ ص ۱۳۲ حدیث ۱۷۸۲)

ترجمہ: اے اللّٰہ! عَزَّ وَجَلَّ میں تجھ سے علمِ نافع کااوررزق کی کشادگی کااورہر بیماری سے شفایابی کاسوال کرتاہوں ۔

سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : آب زم زم جس کام کے لئے پیا جائے(کارآمدہے)آپ اس کو پیتے وقت شفاء طلب کریں تو اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ شفاء عطا فرمائے گا، اور اگر پناہ مانگیں تو اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ اسے پناہ عطافرمائے گا۔

نیالباس پہنتے وقت کی دُعائیں

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ کَسَانِیْ مَآ اُوَارِیْ بِہٖ عَوْرَتِیْ وَ اَتَجَمَّلُ بِہٖ فِیْ حَیَاتِیْ ( سُنَنُ التِّرْمِذِی ج ۵ ص ۳۲۷ حدیث ۳۵۷۱)

ترجمہ: اللّٰہ! عَزَّ وَجَلَّ کا شکر ہے جس نے مجھے وہ کپڑاپہنایاجس سے میں اپنا ستر چھپاتا ہوں اورزندگی میں اس سے زینت حاصل کرتاہوں ۔

اَللّٰھُمَّ لَکَ الْحَمْدُ اَنْتَ کَسَوْ تَنِیْہٖ اَسْأَلُکَ خَیْرَہٗ وَخَیْرَ مَا صُنِعَ لَہٗ وَاَعُوْذُ بِکَ مِنْ شرِّہٖ وَشَرِّ مَا صُنِعَ لَہٗ ( سُنَنُ التِّرْمِذِی ج ۳ ص ۲۹۷ حدیث ۱۷۷۳)

ترجمہ: اے اللّٰہ! عَزَّ وَجَلَّ تیراشکرہے تونے مجھے یہ کپڑاپہنایامیں تجھ سے اس کی بھلائی اورجس غرض کے لئے یہ بنایاگیاہے اس کی بھلائی مانگتاہوں اوراس کی بُرائی اورجس غرض کے لئے یہ بنایاگیاہے اس کی برائی سے تیری پناہ طلب کرتاہوں ۔

سال ہجری کے آخری دن کی دعا

حضرت شیخ عثمان ہارونی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے اور اد میں لکھا ہوا کہ جو شخص ذی الحجہ کے آخری دن جو سال ہجری کا بھی یوم الآخر ہے یہ دعا پڑھے حق تعالیٰ تمام سال اسے اپنی حفظ وامان میں رکھے گا۔

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ اللَّهُمَّ مَا عَمِلْتُ مِنْ عَمَلٍ فِي هَذِهِ السَّنَةِ مِمَّا نَهَيْتَنِي عَنْهُ وَلَمْ تَرْضَهٗ وَنَسِيتُهٗ وَلَمْ تَنْسَهُ وَحَلِمْتَ عَنِّي بَعْدَ قُدْرَتِكَ عَلَى عَقُوبَتِي وَدَعَوْتَنِي إِلَى التَّوْبَةِ بَعْدَ حَوَالِي عَلَيْكَ، اَللّٰهُمَّ إِنِّي فَاسْتَغْفِرُبِكَ فِيهَا يَا غَفُورُ فَاغْفِرْ لِي وَمَا عَمِلْتُ مِنْ عَمَلٍ تَرْضَاهٗ عَنِّى وَوَعَدْتَنِيَ الثَّوَابَ فَتَقَبَّلهُ مِنِّي وَلَا تَقْطَعُ رَجَائِي يَا عَظِيمَ الرَّجَاءِ اَللّٰهُمَّ ارْزُقْنِي خَيْرَ هٰذِهِ السَّنَةِ وَمَا فِيهَا بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ

دعائے عاشوراء

یوم عاشورہ یعنی عاشورہ کا دن بعد نماز فجر (زوال کے 20منٹ بعد) دو رکعت نماز نفل ادا کریں ہر رکعت میں سورۃ الفاتحہ کے بعدایک سورہ ملائیں جو بھی یاد ہواور سلام کے بعد ایک مرتبہ اس دعا کو پڑھیں

يَا قَابِلَ تَوْبَةِ اٰدَمَ يَوْمَ عَاشُورَآءَ يَا فَارِجَ كَرْبِ ذِي النُّونِ يَوْمَ عَاشُورَآءَ يَا جَامِعَ شَمْلِ يَعْقُوبَ يَوْمَ عَاشُورَآءَ يَا سَامِعَ دَعْوَةِ مُوسٰى وَهَارُونَ يَوْمَ عَاشُورَآءَ يَا مُغِيثَ إِبْرَاهِيمَ مِنَ النَّارِ يَوْمَ عَاشُورَآءَ يَا رَافِعَ إِدْرِيسَ إِلَى السَّمَآءِ يَوْمَ عَاشُورَآءَ يَا مُجِيبَ دَعْوَةِ صَالِحٍ فِي النَّاقَةِ يَوْمَ عَاشُورَآءَ يَا نَاصِرَ سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَاشُورَآءَ يَا رَحْمٰنَ الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ وَرَحِيمَهُمَا صَلِّ عَلٰى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَ عَلٰى اٰلِ سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَصَلِّ عَلٰى جَمِيعِ الْأَنْبِيَآءِ وَالْمُرْسَلِينَ وَاقْضِ حَاجَاتِنَا فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ وَأَطِلْ عُمْرَنَا فِي طَاعَتِكَ وَ مَحَبَّتِكَ وَرِضَاكَ وَ أَحْيِنَا حَيٰوةً طَيِّبَةً وَّتَوَفَّنَا عَلَى الْإِيْمَانِ وَالْإِسْلَامِ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ اَللّٰهُمَّ بِعِزِّ الْحَسَنِ وَأَخِيهِ وَأُمِّهٖ وَأَبِيْهِ وَجَدِّهٖ وَ بَنِيهِ فَرِّج عَنَّا مَا نَحْنُ فِيهِ

پھر سات بار یہ دعا پڑھیں
سُبْحَانَ اللّٰهِ مِلْ الْمِيزَانِ وَ مُنْتَهَى الْعِلْمِ وَمَبْلَغَ الرَّضٰى وَزِنَةَ الْعَرْشِ لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنَ اللّٰهِ إِلَّا إِلَيْهِ سُبْحَانَ اللّٰهِ عَدَدَ الشَّفْعِ وَالْوَتْرِ وَعَدَدَ كَلِمَاتِ اللّٰهِ التَّامَّاتِ كُلِّهَا نَسْئَلُكَ السَّلَامَةَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ وَهُوَ حَسْبُنَا وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ نِعْمَ الْمَوْلٰى وَنِعْمَ النَّصِيْرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيْمِ وَصَلَّى اللّٰهُ تَعَالٰى عَلٰى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلٰى اٰلِهِ وَصَحْبِهٖ وَعَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَ الْمُسْلِمِيْنَ وَالْمُسْلِمَاتِ عَدَدَ ذَرَّاتِ الْوُجُودِ وَ عَدَدَ مَعْلُومَاتِ اللّٰهِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ

بازار میں نقصان نہ ہو بلکہ فائدہ ہو

بِسْمِ اللّٰہ اَللّٰھُمَّ اِنِیْ اَسْئَلُکَ خَیْرَ ھٰذِہِ السُّوْقِ وَخَیْرَ مَا فِیْھَا وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّھَا وَشَرِّ مَا فِیْھَا اَللّٰھُمَّ اِنیْ اَعُوْذُبِکَ اَنْ اُصِیْبَ فِیْہَا یَمِیْنًا فَاجِرَۃً اَوْصَفْقَۃً خَاسِرَۃً
( اَلْمُسْتَدْرَک لِلْحَاکمْ ج ۲ ص ۲۳۲ حدیث ۲۰۲۱)

سوتے وقت کی دُعا

اَللّٰھُمَّ بِاسْمِکَ اَمُوْتُ وَاَحْیَا
ترجمہ:
اے اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ میں تیرے نام کے ساتھ ہی مرتا اور جیتا ہوں (یعنی سوتا اور جاگتاہوں )۔ ( صَحِیحُ البُخارِی ج ۴ ص ۱۹۳ حدیث ۶۳۱۴)

نیند سے بیدار ہونے کے بعدکی دُعا

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْٓ اَحْیَانَا بَعْدَ مَآ اَمَاتَنَا وَاِلَیْہِ النُّشُوْرُ
ترجمہ:
تمام تعریفیں اللّٰہ تَعَالٰی کے لئے جس نے ہمیں موت(نیند)کے بعد حیات (بیداری)عطافرمائی اورہمیں اسی کی طرف لوٹناہے۔

لڑکے کے عقیقہ کی دُعا

اَللّٰھُمَّ ھٰذِہٖ عَقِیْقَۃُ اِبْنِیْ (یہاں پر لڑکے کا نام لیا جائے) دَمُھَابِدَمِہٖ وَلَحْمُھَا بِلَحْمِہٖ وَعَظْمُھَا بِعَظْمِہٖ وَجِلْدُھَا بِجِلْدِہٖ وَشَعْرُھَا بِشَعْرِہٖ اَللّٰھُمَّ اجْعَلْھَا فِدَآءً لِّاِ بْنِیْ مِنَ النَّارِ بسم اللّٰہ اَللّٰہُ اَکْبَرُ (دُعا ختم کرکے فوراً ذبح کردے) (فتاویٰ رضویہ، ج۲۰، ص۵۸۵)

ترجمہ: اے اللّٰہ! عَزَّ وَجَلَّ یہ میرے فلاں بیٹے کا عقیقہ ہے ، اس کا خون اس کے خون، اس کا گوشت اس کے گوشت، اس کی ہڈّی اسکی ہڈّی، اس کا چمڑا اس کے چمڑے اور اس کے بال اس کے بال کے بدلے میں ہیں ۔اے اللّٰہ! عَزَّ وَجَلَّ اس کو میرے بیٹے کیلئے جہنَّم کی آگ سے فِدیہ بنادے۔ اللّٰہ! عَزَّ وَجَلَّ کے نام سے ، اللّٰہ! عَزَّ وَجَلَّ سب سے بڑا ہے۔

لڑکی کے عقیقہ کی دُعا

اَللّٰھُمَّ ھٰذِہٖ عَقِیْقَۃُ بِنْتِیْ (یہاں پر لڑکی کا نام لیا جائے) دَمُھَابِدَمِہَا وَلَحْمُھَا بِلَحْمِہَا وَعَظْمُھَا بِعَظْمِہَا وَجِلْدُھَا بِجِلْدِہَا وَشَعْرُھَا بِشَعْرِہَا اَللّٰھُمَّ اجْعَلْھَا فِدَآئً لِّبِنْتِیْ مِنَ النَّارِ بسم اللّٰہ اَللّٰہُ اَکْبَرُ (دُعا ختم کرکے فوراً ذبح کردے) (فتاویٰ رضویہ، ج۲۰، ص۵۸۵)

ترجمہ : اے اللّٰہ! عَزَّ وَجَلَّ یہ میری فُلاں بیٹی کا عقیقہ ہے ، اس کا خون اس کے خون، اس کا گوشت اس کے گوشت، اس کی ہڈّی اسکی ہڈّی، اس کا چمڑااس کے چمڑے اور اس کے بال اس کے بال کے بدلے میں ہیں ۔اے اللّٰہ! عَزَّ وَجَلَّ اس کو میری بیٹی کیلئے جہنَّم کی آگ سے فِدیہ بنادے۔ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کے نام سے ، اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ سب سے بڑا ہے۔

سواری پراطمینان سے بیٹھ جانے پر دُعا

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ سُبْحٰنَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا ھٰذَا وَمَاکُنَّا لَہٗ مُقْرِنِیْنَ وَاِنَّآ اِلٰی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ

ترجمہ: اللّٰہ تَعَالٰی کا شکر ہے، پاکی ہے اسے جس نے اس سواری کوہمارے بس میں کردیا اوریہ ہمارے بوتے (طاقت)کی نہ تھی اوربیشک ہمیں اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے۔

جب کوئی شگون دل میں کھٹکے اس وقت کی دُعا

اَللّٰھُمَّ لَا یَأْ تِیْ بِالْحَسَنَاتِ اِلَّا اَنْتَ وَلَا یَدْفَعُ السَّیِّئَاتِ اِلَّا اَنْتَ وَلَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِکَ ( سُنَنُ اَ بِی دَاوٗد ج ۴ ص ۲۵ حدیث ۳۹۱۹)

ترجمہ: اے اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ تو ہی بھلائی عطا فرماتا ہے اور تو ہی برائی دور کرتا ہے اور گناہ سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت تیری ہی مدد سے ہے۔

بدشگونی کی اسلام میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ مثلاً بعض لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ اگر ان کے سامنے سے کالی بلی راستہ کاٹ کر گزر جائے تو کہتے ہیں کہ ہمارے لئے برا ہوا ، ہم جس مقصد کے لئے جا رہے تھے وہ پورا نہ ہوگا لہٰذا واپس گھر لوٹ جاتے ہیں اور دوبارہ پھر جس مقصد کے لئے گھر سے نکلے تھے اس کام کے لئے روانہ ہوتے ہیں ۔یاد رہے کہ اسلام میں ایسے توہّمات (وہموں ) اور بدشگونیوں کی کوئی حقیقت نہیں ہے ، ان سے اجتناب ضروری ہے ، اگر دل میں کبھی ایسی بات کھٹکے تو یہ دُعا پڑھے کہ اس دُعا میں مسلمانوں کو تعلیم دی گئی ہے کہ مؤثر حقیقی اللّٰہ تَعَالٰی ہے۔ وہ جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے یہی بات اگر بندۂ مؤمن ہمیشہ اپنے پیشِ نظر رکھے تو تمام توہمات اور بدشگونیوں سے چھٹکار ا ہو جائے۔ اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ

نظرِ بد لگنے پر پڑھے

حضرتِ سیِّدُناحسن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا : جس کونظر لگے اس پر یہ آیت پڑھ کر دم کردی جائے۔ ( خَزَائِنُ الْعِرْفَان ص ۱۰۱۹)
یہ آیت نظر بد سے بچنے کے لیے اکسیر ہے۔ ( نور العرفان ص ۹۷۱)

وَ اِنْ یَّكَادُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَیُزْلِقُوْنَكَ بِاَبْصَارِهِمْ لَمَّا سَمِعُوا الذِّكْرَ وَ یَقُوْلُوْنَ اِنَّهٗ لَمَجْنُوْنٌۘ(۵۱) ( پ ۲۹ القلم : ۵۱)

ترجَمۂ کنزالایمان:اور ضرور کافر تو ایسے معلوم ہوتے ہیں کہ گویا اپنی بدنظر لگا کر تمہیں گرا دیں گے، جب قرآن سنتے ہیں اور کہتے ہیں یہ ضرور عقل سے دور ہیں ۔

اَللّٰھُمَّ اَذْھِبْ عَنْہُ حَرَّھَا وَبَرْدَھَا وَوَصَبَھَا ( اَلْمُسْتَدْرَک لِلْحَاکمْ ج ۵، ص ۳۰۵ حدیث : ۷۵۷۵)

ترجمہ : ا ے اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ اس(نظربد)کی گرمی ، سردی اورمصیبت اس سے دور کر دے ۔

جل جانے پر پڑھنے کی دُعا

اَذْھِبِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِطاِشْفِ اَنْتَ الشَّافِیْ لَاشَافِیْ اِلَّااَنْتَ ( سُنَنُ الْکُبْریٰ لِلنَّسَائی ج ۶ ص ۲۵۴ حدیث ۱۰۸۶۴)

ترجمہ: اے تمام لوگوں کے رب ! عَزَّ وَجَلَّ تکلیف دور فرما ، شِفا دے تو ہی شفا دینے والا ہے تیرے سوا کوئی شفا دینے والا نہیں ۔

keyboard_arrow_up