کفن پر لکھنے کی دُعائیں

جو یہ دُعا میت کے کفن پر لکھے اللّٰہ تَعَالٰی قیامت تک اس سے عذاب اٹھالے۔ وہ دعُا یہ ہے :

اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْأَلُکَ یَا عَالِمَ السِّرِّ یَا عَظِیْمَ الْخَطَرِ یَاخَالِقَ الْبَشَرِ یَامُوْقِعَ الظَفَرِ یَامَعْرُوْفَ الْاَ ثْرِ یَاذَا الطَّوْلِ وَالْمَنِّ یَاکَاشِفَ الضَّرِّ وَالْمِحَنِ یَااِلٰہَ الْاَوَّلِیْنَ وَالْاٰخِرِیْنَ فَرِّجْ عَنِّیْ ھُمُوْمِیْ وَاکْشِفْ عَنِّیْ غُمُوْمِیْ وَصَلِّ اَللّٰھُمَّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّسَلِّمْ ۔

جو یہ دُعاکسی پرچہ پر لکھ کر سینہ پر کفن کے نیچے رکھ دے اسے عذاب قبر نہ ہو نہ مُنکَر نکیر نظرآئیں اور وہ دُعا یہ ہے :

لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ لَہٗ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُلَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ (فتاوی رضویہ مُخرجہ ج۹ ص۱۰۸ ، ۱۱۰ )

مشورہ: بہتر یہ ہے کہ یہ پرچہ (بلکہ عہد نامہ اورشجرہ وغیرہ )میت کے منہ کے سامنے قبلہ کی جانب (قبر کی اندرونی دیوار میں )طاق کھود کر اس میں رکھیں ۔ (بہارشریعت ج۱ حصہ ۴ ص ۸۴۸)

مشورہ : کچھ پرچے اپنے پاس رکھ لیجئے اورمسلمانوں کی فوتگی کے مواقع پر پیش کر کے ثواب کمائیے نیز کفن فروشوں اورتجہیز وتکفین کرنے والے سماجی اداروں کو بھی پیش کیجئے کہ وہ ہر مسلمان کیلئے کفن کے ساتھ ایک پرچہ فی سبیل اللہ دے دیا کریں ۔

Related

No results found.
keyboard_arrow_up