Personalities

علامہ محمد عمران ضیائی صاحب زید مجدہ

Personalities

علامہ محمد عمران ضیائی صاحب زید مجدہ

استاذنا الکریم ماہر درسیات, جامع المعقول و المنقول,  رئیس المدرسین, علامہ محمد عمران ضیائی صاحب زید مجدہ,

شیخ الحدیث مرکز العلوم الاسلامیہ اکیڈمی کراچی,

 آج جب اے آئی,یوٹیوب,فیس بک,مکتبہ شاملہ اور گوگل جیسی درجنوں ایپز نے انسان کو سہولت پسند اور تن پروَر بنا کے محنت سے دور کردیا,

اس قحط الرجال کے دور میں اگر کوئی شخص علوم دینیہ میں سے کسی علم یا فن  کا ماہر ہو اور پوری تند دہی کے ساتھ پڑھاتا بھی ہوتو اسکے گھر کی چھت پہ بلند و بالا جھنڈا لگانا چاہیے,

 بفضلہِ تعالٰی راقم الحروف کو کئی اساتذہ کرام سے پڑھنے کا شرف حاصل ہوا, اور ہر استاذ کا علمی مقام الگ اور اندازِ تدریس جداگانہ پایا,

ہر گُلِ را خوشبو دیگر است,

 مگر درسیات کے حوالے سے قبلہ استاذ گرامی کی شخصیت نے حد سے سوا متاثر کیا,

آپ کی خصوصیات میں سے چند ایک درج ذیل:

انتہائی عجز پسند اور منکسر المزاج, متصلب فی الدین, باعمل, فرائضِ منصبی سے وفادار,

 ☜ عمومًا 24 گھنٹوں میں صرف 3 گھنٹے نیند, بقیہ سارا وقت فرائض و واجبات کی ادائیگی,درس و تدریس اور مطالعہ میں مشغولیت,

آپ جو کتاب بھی پڑھاتے ہیں روزانہ کی بنیاد پہ اپنے  پاس موجود اسکی  تمام  شروحات اور حواشی سے تیاری فرماتے ہیں,

یاد رہے کہ آپ کی ذاتی لائبیری میں درسی کتب اور انکی شروحات و حواشی کی کثرت ہے, اور ایک ایک کتاب کی کئی کئی شروحات اور حواشی ہیں,

اثناء سبق صرف و نحو وغیرہ فنون کے قوانین کا اجراء گویا آپکی عادتِ ثانیہ ہے,

اولا سبق کے مضمون کو سمجھانا پھر اپنی تقریر کو متعلقہ عبارت پہ فِٹ کرنے میں آپ کمال مہارت رکھتے ہیں,

دورانِ سبق اکثر طور پہ عبارت حل کرنے طریقے بیان فرماتے ہیں,

آپ درسی کتب کے حل کرنے کے لیے اردو شروحات وغیرہ کے سخت مخالف ہیں,یہی وجہ ہے کہ ایسی شروحات نہ اپنے پاس رکھتے ہیں نہ طلباء کو رکھنے دیتے ہیں,

اور جب کسی بھی کتاب کا سبق پڑھاتے ہیں تو لگتا ہے کہ جیسے آپ کی زبان سے الفاظ نہیں بلکہ علم کی بلند و بالا موجیں ٹھاٹھیں مار رہی ہو, گویا

وہ چپ بیٹھیں تو کوہ ِ گراں معلوم ہوتے ہیں

جو لب کھولیں تو دریا رواں  معلوم ہوتے ہیں,

  مشکل سے مشکل سبق کو گلاب کا پھول بنا کے طلباء کے طشتِ دل پہ سجا دیتے ہیں,

کسی بھی کتاب کی شروحات و حواشی کی طرف طلباء کی رہنمائی فرماتے رہتے ہیں,

درسیات کے ساتھ طلباء کو قدیم و جدید فتنوں سے نہ صرف آگاہ فرماتے ہیں بلکہ انکی تردید و تقلیع بھی فرماتے رہتے ہیں,

طلباء کو حسن ِ اعتقاد اور عملِ صالح سے مزین کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے رہتے ہیں,

 بلا مبالغہ اس وقت کراچی شہر میں آپ کے پایے کا” مدرس” ملنا مشکل تر ہے,

 مجھ بے مایہ کے لیے یہ انتہائی فخر کی بات ہے کہ چند برس آپکی کی بارگاہ سے اکتساب ِ علم کا شرف حاصل ہوا,

مالک کریم آپ کا سایہِ عاطفت عافیت و سلامتی کے ساتھ ہم پہ تا دیر قائم رکھے,

امین بجاہ ِ خاتم النبیین ﷺ,

 

keyboard_arrow_up