Naat Lyrics

دو جہاں میں کوئی تم سا دوسرا ملتا نہیں

دو جہاں میں کوئی تم سا دوسرا ملتا نہیں
ڈھونڈتے پھرتے ہیں مہرومہ پتا ملتا نہیں

ہے رگ گردن سے اقرب نفس کے اندر رہے وہ
یوں گلے سے مل کے بھی ہے وہ جدا ملتا نہیں

آب بحر عشق جاناں سینہ میں ہے موجزن
کون کہتا ہے ہمیں آب بقا ملتا نہیں

آب تیغ عشق پی کر زندۂ جاوید ہو
غم نہ کر جو چشمۂ آب بقا ملتا نہیں

ڈوب تو بحر فنا میں پھر بقا پائے گا تو
قبل از بحر فنا بحر بقا ملتا نہیں

دنیا ہے اور اپنا مطلب بے غرض مطلب کوئی
آشنا ملتا نہیں نا آشنا ملتا نہیں

ذرہ ذرہ خاک کا چمکا ہے جس کے نور سے
بے بصیرت ہے جسے وہ مہ لقا ملتا نہیں

ذرہ ذرہ سے عیاں ہے ایسا ظاہر ہو کے بھی
قطرے قطرے میں نہاں ہے بر ملا ملتا نہیں

جو خدا دیتا ہے ملتا ہے اسی سرکار سے
کچھ کسی کو حق سے اس در کے سوا ملتا نہیں

کیا علاقہ دشمن محبوب کو اللہ سے
بے رضائے مصطفےٰ ہر گز خدا ملتا نہیں

کوئی مانگے یا نہ مانگے ملنے کا در ہے یہی
بے عطائے مصطفائی مدعا ملتا نہیں

رہنماؤں کی سی صورت راہ ماری کام ہے
راہزن ہیں کوبکو اور رہنما ملتا نہیں

اہلے گہلے ہیں مشائخ آج کل ہر ہر گلی
بے ہمہ و باہمہ مرد خدا ملتا نہیں

ہیں صفائے ظاہری کے ساز و ساماں خوب خوب
جس کا باطن صاف ہو وہ باصفا ملتا نہیں

بر زباں تسبیح و در دل گاؤ خر کا دور ہے
ایسے ملتے ہیں بہت اس سے ورا ملتا نہیں

بس یہی سرکار ہے اس سے ہمیشہ پائیں گے
دینے والے دیتے ہیں کچھ دن سدا ملتا نہیں

دور ساحل موج حائل پار بیڑا کیجئے
ناؤ ہے منجدھار میں اور نا خدا ملتا نہیں

وصل مولیٰ چاہتے ہو تو وسیلہ ڈھونڈلو
بے وسیلہ نجدیو! ہر گز خدا ملتا نہیں

دامن محبوب چھوڑے مانگے خود اللہ سے
ایسے مردک کو خدا سے مدعا ملتا نہیں

ذرہ ذرہ قطرہ قطرہ سے عیاں پھر بھی نہاں
ہو کے شہ رگ سے قریں تر ہے جدا ملتا نہیں

طائر جاں کی طرح دل اڑ کے جا بیٹھا کہاں
میرے پہلو میں ابھی تھا کیا ہوا ملتا نہیں

دہر یہ الجھا ہوا ہے دہر کے پھندوں میں یوں
سارا الجھا سامنے ہے اور سرا ملتا نہیں

علم صانع ہوتا ہے مصنوع سے لیکن اسے
دیکھ کر مصنوع صانع کا پتا ملتا نہیں

نعمت کونین دیتے ہیں دو عالم کو یہی
مانگ دیکھو ان سے تم دیکھوں تو کیا ملتا نہیں

سب سے پھر کر آئے ہیں اب شاہ والا کے حضور
جز تمہارے شافع روز جزا ملتا نہیں

درد مندی کے لئے آدم سے تا عیسیٰ گئے
دے جو اپنے درد کی حکمی دوا ملتا نہیں

جن سے امید کرم تھی دے دیا سب نے جواب
آج کے کام آنے والا خسروا ملتا نہیں

یاس کا عالم ہے سب سے آس توڑے آئے ہیں
ذات والا کے سوا اور آسرا ملتا نہیں

جل رہے ہیں پھنک رہے ہیں عاشقان سوختہ
دھوپ ہے اور سایۂ زلف رسا ملتا نہیں

وہ ہیں خورشید رسالت نور کا سایہ کہاں
اس سبب سے سایۂ خیر الوریٰ ملتا نہیں

دشمن جاں سے کہیں بدتر ہے دشمن دین کا
ان کے دشمن سے کبھی ان کا گدا ملتا نہیں

قاسم نعمت سے ہم مانگیں تو نجدی یوں بکیں
کیوں نبی سے مانگئے اللہ سے کیا ملتا نہیں

مُصْطَفیٰ مَاجِئْتَ اِلَّا رَحْمَۃَ لَّلْعٰلَمِیْں
چارہ ساز دوسرا تیرے سوا ملتا نہیں

خود خدا بے واسطہ دے یہ ہمارا منہ کہاں
واسطہ سرکار ہیں بے واسطہ ملتا نہیں

ہم تو ہم وہ انبیا کے بھی لئے ہیں واسطہ
ان کو بھی جو ملتا ہے بے واسطہ ملتا نہیں

انبیا بعض اولیا فائز ہیں اس سرکار میں
ہر ولی کو راستہ بے واسطہ ملتا نہیں

دونوں عالم پاتے ہیں صدقہ اسی سرکار کا
خود خدا سے پائے جو ان کے سوا ملتا نہیں

زن، زمین و زور اور زر کے ہیں گاہک ہر کہیں
دل سے جو ہو طالب ذکر خدا ملتا نہیں

چار زا اک ذال کے بدلے میں لیں چوکس رہے
یہ نہ سمجھے یہ اکائی سیکڑا ملتا نہیں

داد دنیا کیسا اف سنتے نہیں فریاد بھی
سننے والا درد کا کوئی شہا ملتا نہیں

باپ ماں بھائی بہن فرزندوزن اک اک جدا
غم زَدہ ہر ایک ہے اور غم زُدہ ملتا نہیں

جو محبّ کی چیز ہے محبوب کے قبضے کی ہے
ہاتھ میں ہو جس کے سب کچھ اس سے کیا ملتا نہیں

دل ستانی کرنے والے ہیں ہزاروں دلربا
دل نوازی کرنے والا دلربا ملتا نہیں

دل گیا اچھا ہوا اس کا نہیں غم، غم ہے یہ
لے گیا پہلو سے جو وہ دلربا ملتا نہیں

محی سنت، حامی ملت وہ مجدد دین کا
پیکر رشد و ہدیٰ احمد رضا ملتا نہیں

بے نوا کو بے صدا ملتا ہے اس سرکار سے
دودھ بھی بیٹے کو ماں سے بے صدا ملتا نہیں

کس طرح ہو حاضر در نورؔی بے پر شہا
نا کے رو کے دشمنوں نے راستہ ملتا نہیں

سامانِ بخشش

keyboard_arrow_up