کیا یہ درست ہے کہ اگر کِسی لڑکی نے کسی عورت کا دودھ پانچ بار سے کم پیا ہو گا تو وہ لڑکی اس عورت کے بیٹے کی رضائی بہن نہیں ہو گی، یعنی رضائی بہن ہونے کے لئے ضروری ہے کہ اس لڑکی نے پانچ یا اس سے زائد بار کسی عورت کا دودھ پیا ہو؟؟
متفرقحضرت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری علیہ الرحمہاردو
کیا یہ درست ہے کہ اگر کِسی لڑکی نے کسی عورت کا دودھ پانچ بار سے کم پیا ہو گا تو وہ لڑکی اس عورت کے بیٹے کی رضائی بہن نہیں ہو گی، یعنی رضائی بہن ہونے کے لئے ضروری ہے کہ اس لڑکی نے پانچ یا اس سے زائد بار کسی عورت کا دودھ پیا ہو؟؟