حضور غوث اعظم رضي الله عنه سے پہلی رجب المرجب کی رات کو پڑھی جانے والی مبارک دعا۔

إلهي تعرض لك في هذا الليل المتعرضون وقصدك فيها القاصدون وأمل فضلك ومعروفك الطالبون، ولك في هذا الليل نفحات وجوائز وعطايا ومواهب تمن بها على من تشاء من عبادك وتمنعها من لم تسبق له العناية منك، وها أنا ذا عبيدك الفقير إليك المؤمل فضلك ومعروفك، فإن كنت يا مولاي تفضلت في هذه الليلة على أحد من خلقك وعدت عليه بعائدة من عطفك، فصل على محمد وآل محمد الطيبين الطاهرين الخيرين الفاضلين وجد علي بطولك ومعروفك يا رب العالمين! وصلى الله على محمد خاتم النبيين وآله الطاهرين وسلم تسليما إن الله حميد مجيد، اللهم! إني أدعوك كما أمرت فاستجب لي كما وعدت إنك لا تخلف الميعاد۔
غنية للشيخ عبد القادر قدس الله سره الكريم

Jalsa e Dastar e Fazilat & Mehfil e Naat o Bayan held on 24 December 2023
at Liaqat Memorial Library Near Masjid e Habib Maqboolabad Society Karachi.

 

Description Play
Qirat: Qari Riaz Sahab (Habibiyah Islamic Academy Teacher) Play
Muhammed Ovais Habibiyah Islamic Academy Student Play
Allama Nisar Sahab Play
English Announcement : Allama Ahmed Raza Qadri (Habibiyah Islamic Academy Teacher) Play
English Speech : Abdul Qadir Habibiyah Islamic Academy Student Play
Arabic Announcement : Allama Abdul Haseeb (Habibiyah Islamic Academy Teacher) Play
Arabic Speech Hamza Barkati Student Play
Introduction to Habibiyah Islamic Academy Allama Taj Nawab Sahab Play
Mufti Ataullah Naeemi Sahab Play
Arabic Qaseeda Habibiyah Islamic Academy Student Play
Allama Peer Ajmal Raza Sahab Play
Tashakkur: Allama Ashfaq Sahab Play
Manqabat: Hamid Habibiyah Islamic Academy Student Play
Salam: Hamid & Abdul Haseeb Habibiyah Islamic Academy Play
Dua: Allama Mufti Ismail Ziai Sahab Play

سوال :ماہ شوال کے چھ روزے

جواب : ماہ شوال کے چھ روزے، جو شوال کی دُوسری تاریخ سے شروع ہوتے ہیں، مستحب ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جس شخص نے ماہ رمضان کے روزے رکھے اور اس کے ساتھ ماہ شوال کے چھ روزے رکھے۔ گویا اس نے سال بھر کے روزے رکھے۔‘‘ (صحیح مسلم، حدیث: 1169)

۔

سوال :عید کے دن مرحومین کو ثواب؟

جواب : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ مبارک ہے، جو شخص عید کے دن تین سو مرتبہ سبحان اللہ وبحمدہٖ کہے گا اور اس کا ثواب مسلمان مرحومین کو پہنچائے گا تو ہر قبر میں نور ہی نور ہوگا اور جب وہ شخص (جس نے یہ تسبیح پڑھی) مرے گا تو اس کی قبر انتہا سے زیادہ نور سے منور ہوگی۔ (مشکوٰۃ شریف)

۔

سوال :نماز عید پڑھنے کا طریقہ کیا ہے؟

جواب : امام اور مقتدی دونوں نماز عیدالفطر کی نیت کریں۔ پھر تکبیر تحریمہ کہہ کر ہاتھ باندھ کر سبحانک اللھم پڑھیں، پھر ہاتھ اٹھا کر اللہ اکبر کہیں اور ہاتھ چھوڑ دیں۔ دوسری مرتبہ ہاتھ اٹھا کر اللہ اکبر کہہ کر ہاتھ چھوڑ دیں۔ تیسری مرتبہ پھر ہاتھ اُٹھا کر اللہ اکبر کہیں اور اس مرتبہ ہاتھ باندھ لیں۔ مقتدی خاموش رہیں اور امام اعوذ باللہ اور بسم اللہ پڑھیں پھر سورۂ فاتحہ اور کوئی سورت پڑھ کر اللہ اکبر کہہ کر رکوع میں چلے جائیں اور سب مقتدی بھی امام کے ساتھ رکوع میں چلے جائیں۔ حسب معمول سجدے سے فارغ ہوکر مقتدی اور امام دوسری رکعت کےلئے کھڑے ہو جائیں۔ امام حسب دستور بسم اللہ، پھر سورۂ فاتحہ اور اس کے بعد سورت پڑھے۔ سورت پڑھنے کے بعد امام ہاتھ اُٹھا کر اللہ اکبر کہے اور ہاتھ چھوڑ دے دوسری اور تیسری مرتبہ بھی ایسا ہی کرے اور چوتھی مرتبہ بغیر ہاتھ اُٹھائے تکبیر کہتا ہوا رکوع میں چلا جائے اور سجدہ کرکے نماز مکمل کرتا ہوا سلام پھیر دے۔ نماز سے فارغ ہوکر امام کھڑا ہوکر خطبہ پڑھے۔ امام اس خطبہ میں تکبیر تشریق پڑھے۔ دو تکبیروں کے درمیان تین مرتبہ سبحان اللہ کہنے کی مقدار میں خاموش رہے۔

سوال :صدقۂ فطرکس شخص پر لازم ہے؟

جواب :ایسا شخص جو خود محتاج، غریب اور مسکین ہو، اس پر صدقۂ فطر لازم نہیں ہے لیکن ایسے لوگ جو کھاتے پیتے ہوں، محتاج اور ضرورت مند نہ ہوں، ان پر صدقہ ٔ فطر لازم ہوگا۔ صدقۂ فطر کے لئے روزہ رکھنا بھی ضروری نہیں، اس شخص پر بھی یہ واجب ہے جو کسی وجہ سے روزے نہ رکھ سکا ہو۔ روزے کی حالت میں جو لغو اور بےہودہ باتیں اور غلطیاں سرزد ہو جاتی ہیں، ان کا کفارہ بھی اس صدقۂ فطر سے ہو جاتا ہے۔ اس کی ایک حکمت یہ بھی ہے کہ اس کے ذریعے غریبوں کی مدد ہوجاتی ہے اور عیدالفطر کی خوشیوں میں ان کو بھی شریک کرلیا جاتا ہے۔

سوال :صدقہ ٔ فطر کی ادائیگی کا وقت کب ہوتا ہے؟

جواب :عیدالفطر کی نماز سے پہلے صدقۂ فطر ادا کردینا چاہیے۔ غرباء کی آسانی کیلئے رمضان میں کسی بھی وقت صدقہ فطر دیا جاسکتا ہے تاکہ ضرورت مند لوگ باآسانی اپنی ضروریات پوری کر سکیں اور عید کی خوشیوں میں شریک ہوسکیں۔ اگر نماز عید سے پہلے صدقہ فطر نہ دیا جا سکے تو یہ صدقہ ساقط نہیں ہوگا بلکہ بعد میں بھی اس کو ادا کرنا ہوگا۔

سوال :عید کی نماز چھوٹ جائے تو کیا اس کی قضا کرنا ہوگی؟

جواب :نماز عید کی قضا نہیں ہے۔ اگر کسی شخص کی نماز عید کی جماعت چھوٹ جائے تو اس کی کوئی قضا نہیں ہے۔

سوال :نماز عید ادا کرنے سے پہلے اور نماز فجر ادا کرنے کے بعد کیا نوافل پڑھے جا سکتے ہیں؟

جواب :عید کے روز نماز عید ادا کرنے سے پہلے نفل پڑھنے کی اجازت نہیں ہے۔ نہ گھر میں، نہ مسجد میں اور نہ عیدگاہ میں۔ البتہ نماز عید کے بعد عید گاہ اور مسجد میں تو نفل پڑھنا جائز نہیں، گھر میں نفل پڑھے جاسکتے ہیں۔

سوال :نماز عید ادا کرنے کے بعد مصافحہ کرنے اور گلے ملنے، یعنی معانقہ کرنے کے متعلق کیا حکم ہے؟

جواب :نماز عید کے بعد مصافحہ اور معانقہ کے متعلق علامہ شیخ احمد طحطاویؒ فرماتے ہیں۔ مصافحہ تمام اوقات میں مسنون ہے۔ (حاشیہ الطحطاوی مع مراقی الفلاح ص215:) حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جناب صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب دو مسلمان بھائی ایک دوسرے سے ملتے ہیں اور مصافحہ کرتے ہیں تو دونوں کے جدا ہونے سے پہلے ہی ان کے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔‘‘ (ابودائود۔ حدیث 5212:) مصافحہ و معانقہ کرنا ایک عام سنّت ہے۔ اس کو صرف عیدین کیلئے لازم کرلینا صحیح نہیں۔

سوال :روزہ کی حالت میں انجکشن لگوانے کے متعلق کیا حکم ہے؟

جواب :اگر انجکشن گوشت میں لگایا جائے تو روزہ فاسد نہیں ہو گا کیونکہ وہ گوشت ہی میں تحلیل ہو کر ختم ہو جاتا ہے۔ اور اگر دوا معدہ تک پہنچتی بھی ہے تو جسم کے مسامات کے ذریعے رستے رستے پہنچتی ہے اور جسم کے مسامات کے ذریعے پہنچنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ ایک انجکشن ایسا بھی ہوتا ہے جو ہاتھ کے گوشت میں لگایا جاتا ہے اور حلق میں دوا کا کڑوا پن محسوس ہوتا ہے۔ اس انجکشن سے بھی روزہ فاسد نہیں ہوگا۔ اس لئے کہ یہ کڑواہٹ جسم کے مسامات کے ذریعے حلق تک پہنچتی ہے اور اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ اور اگر انجکشن رگوں میں لگایا جائے تو اس سے بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا۔ اگرچہ وہ انجکشن غذا کا کام کرتا ہو یا اس سے پیاس کی شدت کم ہوتی ہے۔ البتہ بلاضرورت شدید اس مقصد کیلئے انجکشن لگوانا مکروہ ہے۔

سوال :ناک میں دوا ڈالنے سے یا پانی ڈالنے سے روزہ ٹوٹ جائے گا یا نہیں؟

جواب :ناک میں دوا ڈالنے سے یا پانی ڈالنے سے روزہ ٹوٹ جائے گا۔

سوال :کیا عورت اپنے زیورات کی زکوٰۃ خود ادا کرے گی جبکہ وہ تو کماتی ہی نہیں ہے یا اس کا شوہر ان زیورات کی زکوٰۃ ادا کرے گا؟

جواب :زیورات کی مالک خود عورت ہے، زکوٰۃ تو اس کو ہی ادا کرنی ہوگی کیونکہ مرد ہو یا عورت، ہر شخص اپنے فرائض کی ادائیگی کا خود ذمہ دار ہے۔ تاہم اگر شوہر اپنی بیوی کی طرف سے اس کے زیورات کی زکوٰۃ ادا کردے تو زکوٰۃ ادا ہوجائے گی لیکن یہ اس کی شرعی ذمہ داری نہیں۔

سوال :ایک شخص یکم ربیع الاوّل کو صاحب نصاب ہوا، یکم رمضان کو ابھی ایک سال پورا نہیں ہوا، تو کیا پھر بھی اس سے یکم رمضان کو زکوٰۃ لی جائے گی؟ اسی طرح کسی اور کی رقم بطور امانت بینک میں جمع کرائی تو کیا اس رقم پر بھی جو اس اکائونٹ ہولڈر کی ہے ہی نہیں، زکوٰۃ کاٹنا صحیح ہے؟

جواب :اس رقم پر صفر کی 30 تاریخ کو سال مکمل ہوگا، اس کے بعد اس سے زکوٰۃ لی جائے گی، اس سے پہلے نہیں۔ بینکوں میں ہر سال یکم رمضان کو ہر ایک سے زکوٰۃ کاٹ لینا کسی طرح بھی صحیح نہیں۔ اس لئے کہ زکوٰۃ کی رقم کاٹتے وقت صاحب نصاب کی نیت بھی ضروری ہے اور دوسرے یہ کہ اس رقم پر سال بھی گزرنا ضروری ہے۔ اسی طرح جس شخص کا بینک میں اکائونٹ ہے، اس میں اس نے کسی اور شخص کی رقم بطور امانت جمع کرائی۔ رقم چونکہ اس کی ہے ہی نہیں، اس پر زکوٰۃ کاٹنا کسی طرح بھی صحیح نہیں۔

سوال :ایک شخص دن میں تو روزہ رکھتا ہے لیکن تراویح نہیں پڑھتا تو کیا اس کا روزہ ہو جائے گا؟

جواب :روزہ الگ عبادت ہے اور تراویح الگ عبادت ہے۔ ان دونوں کا تعلق رمضان ہی سے ہے، لیکن اگر کوئی دن میں تو روزہ رکھے لیکن رات کو تراویح نہ پڑھے تو اس کا روزہ تو ہو جائے گا لیکن تراویح کے اجر و ثواب سے وہ شخص محروم رہے گا۔

سوال :رمضان المبارک میں سب سے افضل عبادت کون سی ہے؟

جواب :رمضان المبارک میں ہر عبادت کا ثواب سال کے باقی مہینوں سے کئی گنا زیادہ ملتا ہے۔ رمضان کی سب سے افضل عبادت تو یہی ہے کہ پورے اہتمام کے ساتھ تمام آداب و شرائط کا لحاظ رکھتے ہوئے رمضان کے روزے رکھے جائیں۔ اس کے علاوہ یہ مہینہ، نزول قرآن کا مہینہ بھی ہے۔ اسی ماہ مبارک میں قرآن حکیم نازل کیا گیا۔ ارشاد ربانی ہے۔ ’’اسی رمضان کے مہینے میں قرآن کریم نازل کیا گیا۔‘‘ (سورۃ البقرہ185:) اس لئے اس ماہ مبارک میں تلاوت قرآن حکیم ایک افضل عبادت ہے۔ احادیث میں اس مہینے میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کثرت سے جودوسخا کا ذکر بھی آتا ہے۔ اس لئے اس ماہ مبارک میں اپنی استطاعت کے مطابق کثرت سے صدقہ خیرات بھی کرنا چاہیے۔(صحیح بخاری)

keyboard_arrow_up