Darul Ifta

ہماری مسجد میں ہم شروع سے ہی نماز جمعہ اور سنتیں مکمل ہونے کے بعد سلامی پڑھتے ہیں

اردو فتویٰ
سوال

محترم مفتی صاحب،

ہماری مسجد میں ہم شروع سے ہی نماز جمعہ اور سنتیں مکمل ہونے کے بعد سلامی پڑھتے ہیں، اب کمیٹی کے ایک بزرگ مشورہ دے رہے ہیں کہ فرض نماز کے فورا بعد سلامی کرلیں کیا شریعت اس کی اجازت دیتی ہے ؟

سائل - مولانا جاوید ، امام غوثیہ مسجد لمبی ملاوی

جواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب

درود شریف اور سلامی جس وقت اور جتنا بھی پڑھا جائے کم ہے کہ آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام تو بہت بلند و رفیع ہے البتہ نماز کی اہمیت پہلے ہے کہ یہ فرض ہے۔

سلامی نماز مکمل ہونے کے بعد ہی ادا کی جائیگی نہ کہ فرض نماز کے بعد

1- نماز جمعہ کی فرض کی ادائیگی کے بعد دعا اور سنت سے ثابت استغفار اور وظائف اور پھر اس کے بعد بقایا نماز مکمل کی جائے اور پھر آخر میں محبت سے سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں درود و سلام پیش کیا جائے ۔ سنت موکدہ میں تاخیر سے اس کا ثواب کم ہوجاتا ہے ۔

فقہ حنفی کی مشہور کتاب در مختار میں علامہ علاءالدین حصکفی 1088ھ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :

ويكره تأخير السنة، إلا بقدر اللهم أنت السلام إلخ. قال الحلواني: لا بأس بالفصل بالأوراد، واختاره الكمال. (الدر المختار مع رد المحتار: 1/530)

"سنت (یعنی فرض نماز کے بعد کی سنت) میں اتنی تاخیر کرنا مکروہ ہے، البتہ اتنی مقدار کی تاخیر جائز ہے جتنی یہ کہنے میں لگے: اللّٰهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وغیرہ۔" علامہ حلوانی رحمہ اللہ نے فرمایا:"اذکار و اوراد کے ذریعے درمیان میں وقفہ کرنے میں کوئی حرج نہیں۔"

اور علامہ کمال ابنِ ہمام رحمہ اللہ نے بھی اسی قول کو اختیار فرمایا۔

شیخ الاسلام مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری علیہ الرحمہ سے بھی یہی سوال کیا گیا :

نماز جمعہ کے فرض کے بعد صلاۃ وسلام پڑھنا اور اس کے بعد سنتیں پڑھنا مناسب ہے یا نہیں؟

آپ نے جواب دیا :

"نا مناسب ہے۔ سنن مؤکدہ کے بعد پڑھنا چاہئے کہ سنن مؤکدہ میں ادائے فرض کی عجلت شرعاً مطلوب ہے ولہذا ہمارے علمائے کرام نے تصریح فرمائی کہ فرض کے بعد دعا بھی مختصر مانگے ۔۔"

[مرکزی دار الافتاء بریلی - فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۳ ]

2 - جو سنت موکدہ نماز پڑھ رہے ہوں گے ،سلامی پڑھنے سے ان کی نماز میں خلل واقع ہوگا یہ مناسب نہیں کہ

مسند احمد کی حدیث پاک ہے : عن علي ، قال : نهى رسول اللہ صلى اللہ عليه وآلہ وسلم أن يرفع الرجل صوته بالقرآن قبل العشاء وبعدها، يغلط أصحابه وھم یصلون ۔

ترجمہ : حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمایا کہ کوئی شخص عشاء سے پہلے اور بعد بلند آواز سے تلاوت کرے کہ وہ اپنے ساتھی نمازیوں کو مغالطہ میں ڈال دے ۔

(مسند احمد جلد 2 صفحہ 90 رقم الحدیث 663 مؤسسۃ الرسالۃ بیروت)

صلوۃ و سلام ایک مستحب اور محبت بھرا عمل ہے جو بعد میں کیا جاسکتا ہے اگر پہلے کیا گیا تو اس سے نمازیوں کے نماز میں خلل ہوگا کہ ضروری نہیں کہ ہر نمازی صلوۃ و سلام پڑھے، ممکن ہے کوئ سنت پڑھ کر جلدی جانا چاہتا ہو۔ بالفرض سارے نمازی کہیں پہلے سلامی پڑھ لیں تو پھر بھی درست نہیں کہ اس سے نماز میں تاخیر ہورہی ہے۔

3- تیسری بات یہ ہے مشائخ عظام بزرگان دین میں کسی کے یہاں بھی یہ طریقہ رائج نہیں صرف جنازہ کی موجودگی میں سنت موکدہ سے قبل نماز جنازہ پڑھی جاسکتی ہے اس کے علاوہ اور کچھ نہیں۔

لہذا ایسا کرنا سنت میں تاخیر کرنا ہے جو کہ شریعت کو پسند نہیں، بزرگان دین کے طریقہ کی خلاف ورزی اور نئ راہ اختیار کرنا ہے جس میں ملاوی افریقہ جیسی متنوع آبادی میں ایک نئ شورش ہونے کا بھی خدشہ ہے۔

محبت بھری سلامی نماز مکمل ہونے کے بعد ہی پیش کی جائے ۔

واللہ تعالٰی اعلم

کتبہ

مفتی عبدالرحمن قادری

لمبی جامع مسجد ملاوی افریقہ

11 ربیع الاول 1448ھ

keyboard_arrow_up